Ticker

6/recent/ticker-posts

قرض کی ادائیگی کے لیے کیا کریں؟

محترم قارئین!

   گزشتہ روز ایک صاحب مسجد یحییٰ زبیر میں آئے اور کہنے لگے کہ میں قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہوں، آپ کوئی مناسب تدبیر اور وظیفہ بتائیں، نیز دعا بھی کریں کہ میرا قرض ادا ہو جائے تاکہ چین کے ساتھ سو سکوں۔ اس لئے کہ قرض کی ادائیگی کی فکر میں نیند بھی نہیں آتی۔

راقم سوچنے لگا کہ واقعی قرض اور مرض ایسی چیزیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے رہنا چاہئے، جو لوگ صحت مند ہیں اور کسی کے مقروض بھی نہیں ہیں، یقینا ان کی زندگی پرسکون ہوا کرتی ہے، بہ نسبت ان لوگوں کے جو کسی مہلک بیماری کا شکار ہیں یا قرض کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 

یہ بھی خیال آیا کہ حضرات علمائے کرام اور ائمہ مساجد کی خدمت میں آنے والے زیادہ تر ایسے ہی پریشان حال افراد ہوتے ہیں جو اپنے بیمار کی شفا یابی اور اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے دعا کی درخواست لے کر آتے ہیں۔ اس لئے قرض کی ادائیگی کا وظیفہ اور مناسب تدبیریں عام کرنی چاہیے تاکہ دوسرے افراد بھی ان سے استفادہ کرسکیں۔

    دعا گو ہوں کہ اللہ پاک تمام بیماروں کو شفا دے اور تمام مقروض افراد کے قرضوں کی ادائیگی میں سہولتیں پیدا فرمائے آمین!

   ذیل میں قرض کی ادائیگی کے لیے چند مفید تدبیریں درج کی جارہی ہیں، جو حضرات مقروض ہیں، انہیں ان تدبیروں پر پابندی کے ساتھ عمل کرنا چاہئے۔ 

(1) سب سے پہلے گناہ سے توبہ کریں اور استغفار کی کثرت کریں، استغفار کی کثرت سے مال واولاد میں ہرطرح کی خیروبرکت کا وعدہ قرآن مجید میں موجود ہے۔

(2)نمازاور روزے کی پابندی کریں۔

(3) زکاۃ واجب ہے تو وقت پر اداکردیں۔

(4) سود سے دور رہیں۔

(5) روزانہ مغرب یا عشاء کے بعد سورہ واقعہ( پارہ نمبر27 میں ہے) پڑھا کریں۔

(6) یہ دعا روزانہ 21 بار پڑھیں :

"اَللّٰهُمَّ اکْفِنا بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنَا بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ"

(7) دورد شریف صبح وشام ۲۱-۲۱ مرتبہ پڑھاکریں،اور سی طرح  سورۃ الشوریٰ کے دوسرے رُکوع کی آخری آیت: اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (آیت نمبر 19) اسی( 80) مرتبہ فجر کے بعد پڑھا کریں، اگر داڑھی منڈاتے یا کتراتے ہیں تو اس سے توبہ کریں۔ فقط واللہ اعلم

(ماخذ: دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن)

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. Masha Allah subhanallah
    Acchi tadbire allha ham sabko puri ummat ko in tamam bato par amal karne ki rofiq ata farmae aameen

    جواب دیںحذف کریں