Ticker

6/recent/ticker-posts

آپ اس جگہ ہوتے تو کیا کرتے ؟

تحریر:مفتی محمد عامریاسین ملی 
(امام و خطیب مسجد یحییٰ زبیر 9028393682)

    اذان مغرب کا وقت قریب تھا اور میں حسب معمول مسجد یحییٰ زبیر کی جانب رواں دواں ،آگرہ روڈ پر جونی تاج ہوٹل کے بالکل سامنے روڈ پر سینکڑوں کی تعداد میں پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے (کھڑی)پڑے ہوئے ہیں ،جو یقیناً کسی ڈمپر یا ٹریکٹر سے گرے ہوں گے ،دل میں خیال آیا کہ ان پتھروں پر سے جب گاڑیاں گذریں گی تو جہاں ٹائر کو نقصان ہوگا ،وہیں اندیشہ ہے کہ پتھر اڑ کر راہ گیروں کو زخمی بھی کرسکتے ہیں ۔وقت میں اتنی گنجائش نہیں تھی اور نہ پاس میں جھاڑو وغیرہ کہ ٹھہر کر ان پتھروں کو کنارے کردوں ۔ ’’کاش کسی کو یہ توفیق ملے کہ وہ ان پتھروں کو راستے سے ہٹادے ‘‘،یہی سوچتا ہوا مسجدپہنچ گیا ، اسی وقت صحن کے کونے میں رکھے ہوئے جھاڑو پر نظر پڑی ،دل نے کہا کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنے کی توفیق اور سعادت خود اپنے حصے میں آجائے تو عجب نہیں کہ مغفرت کا ذریعہ بن جائے ۔ نبی کریم ﷺ کا یہ ارشادگرامی بھی ذہن میں تازہ ہوگیا کہ ایمان کا آخری درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے ۔گزشتہ جمعہ کو ہی گلشن خطابت کے پلیٹ فارم سے راقم الحروف اور دیگر ساتھیوں نے شہر کی مساجد میں ’’راستے کے حقوق‘‘ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے یہ واقعہ مسلم شریف کے حوالے سے سنایا،جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے کوئی اچھاکام نہیں کیا سوائے اس کے کہ اس نے دیکھا راستے پر کانٹوں بھری ٹہنی پڑی ہوئی ہے ،چنانچہ اس شخص نے وہ ٹہنی راستے سے ہٹادی تو اللہ نے اس عمل پراس کی مغفرت کردی اور اسے جنت میں داخل کردیا ۔(بخاری ،ابوداؤد)
مغرب کی نماز سے فارغ ہوا تو نماز کے لیے حاضر ہونے والے دو نوجوانوں (شعیب خان فیروز خان اور تنویر شیخ سلیم شیخ)کوصورت حال بتائی اور جھاڑو کے ساتھ دونوں کو لے کر اسی جگہ پہنچا ، کنکریاں اور پتھر کے ٹکڑے اسی جگہ بکھرے ہوئے تھے اور سواریوں کی آمد و رفت بھی جاری تھی ،چنانچہ فوری طور پر راقم نے انڈیکیٹرآن کر کے راستے میں اپنی بائک لگاکر دونوں نوجوانوں کو تحفظ فراہم کیا ،اور راہ گیروں کو اشارہ بھی کرتا رہا کہ وہ کنارے سے گزر جائیں ،چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں ان نوجوانوں نے تیزی کے ساتھ پتھروں کو کنارے کرکے راستہ صاف کردیا ۔ اس دوران کئی راہ گیروں نے زبانی اور اشارے سے اس کام کی سراہنا بھی کی۔ آس پاس ہوٹل پر بیٹھے ہوئے لوگ یہ سارا ماجرا دیکھ رہے تھے ، ممکن ہے کسی کو تعجب ہوا ہو کہ مفتی صاحب یہ کیا کررہے ہیں!
آگے بڑھنے سے پہلے ایک واقعہ اور پڑھ لیجیے! چند ماہ قبل کی بات ہے ،گلی کے بیچوں بیچ ایک سروس کیبل کٹ کر اس طرح لٹک گیا کہ آنے جانے والوں کے چہرے اور سر سے ٹکرانے لگا ، کئی ل دن گزر گئے ،لوگ دائیں بائیں ہوکر اور جھک کر گزرتے رہے لیکن نہ راہ گیروں کو اور نہ آس پاس کے مکینوں کو یہ خیال آیا کہ اس تار کو کٹ کر کے دور کردیا جائے ۔اس موقع پر بھی راقم نے اجالا الیکٹرک پہنچ کر ایک نوجوان کو ساتھ لیا جس نے آکر اس تکلیف دہ کیبل کو کاٹ دیا ۔
قارئین!مذکورہ دونوں واقعات کے ذکر کرنے کا مقصد خود نمائی اور دکھلاوا ہر گز نہیں ،بلکہ یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ ہمارے ارد گرد اور راستوں پر ، اسی طرح گلی کوچوں میں نہ جانے کیسی کیسی تکلیف دہ چیزیں (پتھر ،کنکر،کچرا،گڑھا، بے ترتیب سواریاں ) دکھائی دیتی ہیں، لیکن اکثر لوگ انہیں نظر انداز کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں ،بعض لوگ ان تکلیف دہ چیزوں کا شکوہ بھی کرتے ہیں لیکن شاید کسی کو یہ خیال آتا ہو کہ کیوں نہ میں خود اس تکلیف کو اپنے ہاتھوں سے دور کردوں ۔مشہور شاعراحمد فراز نے اس سلسلے میں کیسا خوب صورت پیغام دیا ہے ؎

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا 
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے 

یاد رکھئے !سماج میں تکلیف دینے والے، راستے کا روڑا بننے والے اور دوسروں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کرنے والے تو بہت سارے لوگ ہیں ،آپ کو کوشش کیجیے کہ تکلیف دہ چیزوں کو ہٹاکر دوسروں کو راحت پہنچانے والے بن جائیں، شاید یہی عمل اللہ کی بارگاہ میں ہماری مغفرت اور نجات کا ذریعہ بن جائے ! یہ بات درست ہے کہ ہم اس طرح سماج کے سارے مسائل حل تو نہیں کرسکتے لیکن انہیں کم کرسکتے ہیں۔ برسوں پہلے یاد کیا ہوا شعر کیسے موقع سے یاد آگیا
مانا  کہ  اس  گلی کو نہ گلزار  کرسکے
کچھ خارکم تو کر گئے گزرےجدھرسے ہم

  رخصت ہونے سے پہلے معزز قارئین کے سامنے ایک سوال رکھ رہا ہوں ۔ آپ اس جگہ ہوتے تو کیا کرتے ؟ شکوہ کرتے ؟ نظر پھیر کر خاموشی سے گزر جاتے یا مسئلہ کے حل کے لیے اپنے حصہ کی کوئی شمع جلاتے جلاتے ؟ آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔
شاید کہ اتر جائے کسی دل میں میری بات!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے