شہر عزیز مالیگائوں کی یہ بد قسمتی ہے کہ یہ آج بھی ترقی کی رفتار میں بہت پیچھے ہے ،دیگر شہر جو آبادی میں اس سے بہت پیچھے ہے ،ترقی کے لحاظ سے وہ کافی آگے نکل چکے ہیں ،عام طریقے پر اس کا بنیادی سبب اس شہر کی مسلم اکثریتی پہچان کو قرار دیا جاتا ہے ،یہ بات بڑی حد تک درست بھی ہے ،حکومت سیکولر پارٹیوں کی رہی ہو یا فرقہ پرستوں کی ،تقریباً ہر ایک نے شہر کو بڑی حد تک نظر انداز کیا ہے، اعلیٰ تعلیمی ادارے ،نیشنل کمپنیاں،اچھے ہاسپیٹلز اور سیرو تفریح کے مقامات کی بات جانے دیجیے، شہر آج بھی بنیادی ضروریات سے محروم ہے ،جن میں سر فہرست پائیدار اور کشادہ سڑکیں ہیں ،جیسے جیسے سواریوں میں اضافہ ہورہا ہے ،ویسے ویسے ٹریفک کے مسائل بڑھتے جارہے ہیں ،صورت حال یہ ہے کہ شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہونچناانتہائی دشوار ہوچکا ہے ،کسی بھی مصروف شاہراہ اور کارنرپر نہ کوئی سگنل ہے اور نہ ٹریفک پولس ،مزے کی بات یہ ہے کہ اہلیان شہر کی اکثریت ٹریفک کے اصول وضوابط کو نہ جانتی ہے اور نہ اس پر عمل کرناضروری محسوس کرتی ہے۔راستے تو تنگ ہیں ہی اور انتہائی خستہ حال بھی، اس پر مزید ایک مصیبت راستوں پر غیر قانونی قبضہ جات اور اتی کرمن کی ہے،شہر کا کوئی راستہ ایسا نہیں ہے جہاں رہائشی افراد، دوکان داروں اور ٹھیلے والوں نے قبضہ نہ کیا ہو ،اس کے علاوہ کسی بھی جگہ بے ترتیب اپنی سواریاں لگادینے والوں کا کیا پوچھنا ،آج صورت حال یہ ہے کہ ہر شخص راستے پر اتی کرمن یا بے ترتیب سواری لگاکر دوسروں کو تکلیف دے رہا ہے اور دوسروں کے اتی کرمن کی وجہ سے خود بھی تکلیف اٹھارہا ہے ،ٹریفک محکمہ اور حکومت نے پورے شہر کو گویا اپنے حال پر چھوڑدیا ہے ۔اس صورت حال میں اہلیان شہر کو اپنی تکالیف دور کرنے کے لیے خودسے کوئی قدم اٹھانا ہوگا ،اور اصلاح ودرستگی کا آغاز اپنی ذات سے کرنا ہوگا ،ذیل میں کچھ تدابیر اورگزارشات پیش کی جارہی ہیں ،ہر شخص اپنے طور پر اگر ان پر عمل کرنا شروع کردے تو ٹریفک مسائل بڑی حد تک دور ہوسکتے ہیں :
(1)دوکان اور مکان کے آگے یا سرکاری جگہوں پر جن لوگوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے غیر قانونی قبضہ کیا ہوا ہے وہ اپنا قبضہ ختم کردیں ،اس لیے کہ یہ شرعاً بھی ناجائز وحرام ہے اوردوسروں کو تکلیف دینا آخرت میں سخت پکڑ کا باعث ہے ۔
(2)جب بھی کسی جگہ اپنی سواری پارک کریں تو کوشش کریں کہ راستے کے کنارے ترتیب کے ساتھ اس طرح اپنی سواریاں لگائیں کہ راستہ تنگ نہ ہو اور راہ گیروں کوراستہ چلنے میں دشواری نہ ہو ،بطور خاص رکشہ اور ٹھیلے والے حضرات سواری اور گاہک کو دیکھ کر کسی بھی جگہ نہ رک جائیں ۔
(3)دکاندار حضرات بھی اپنے گاہکوں کو ترتیب کے ساتھ راستے کے کنارے سواری لگانے کا پابند بنائیں ۔بطور خاص ہوٹل مالکان اس کا بہت خیال رکھیں ۔
(4)عوامی مقامات خصوصاً مساجد ،مدارس ،ہاسپیٹلز ،شادی ہال وغیرہ جہاں بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں ،ایسی جگہوں پر ذمہ داران پارکنگ کا اچھا نظم کریں اور ایک دو افراد کو نگرانی کے لیے مستقل طور پر مقرر کریں ۔
(5)راستہ چلتے ہوئے ٹریفک قوانین اور شرعی ہدایات کا خیال رکھیں ،بطور خاص جب کسی جگہ راستہ جام ہوجائے تو راستہ چلنے والے اپنی لائن چھوڑ کر سامنے والی لائن میں نہ جائیں ،لوگوں کا عجیب مزاج ہے جوں ہی راستہ تنگ ہوتا ہے فوراً مخالف سمت (رانگ سائیڈ) میں گھس پڑتے ہیں اور پھر نہ خود آگے بڑھ پاتے ہیں اور نہ دوسروں کو نکلنے دیتے ہیں ،یہ انتہائی جہالت اور حماقت کی بات ہے ،افسوس کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور دین دار افراد بھی اس حرکت میں مبتلاہوتے ہیں ۔
قارئین !ہم اہل ایمان ہیں اور ایک مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہیں دیتا ،اسی طرح مسلمان خود غرض اور مفاد پرست بھی نہیں ہوتا کہ اپنے تھوڑے مفاد کے لیے دوسروں کو تکلیف اور نقصان میں مبتلا کرے،مثلاً بعض لوگوں نے محض اس لیے اپنے دروازے کے آگے رکاوٹ کھڑی کردی ہے کہ گزرنے والے دور سےگزرے یا محض اس غرض سے انتہائی تکلیف دہ بریکر بنادیئے ہیں کہ ان کے بچے سڑکوں پر کھیلتے ہیں،اسی طرح شادی بیاہ کے موقع پر بعض لوگ پورا پورا دن شامیانہ لگاکر راستہ بند رکھتے ہیں ،خود غرضی اور مفاد پرستی کی یہ بد ترین مثال ہے ۔ کس طرح کہا جائے کہ قوم مسلم کی پہچان یہ بن گئی ہے کہ جس علاقے میں راستے تنگ ہوں اور جگہ جگہ گندگی پھیلی ہوئی ہو تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ یہاں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے ۔اس وقت پورا شہر ٹریفک مسائل سے دوچار ہے ،اور اتی کرمن کی وجہ سے تکلیفوں سے جوجھ رہا ہے ،روزانہ نہ جانےراہ گیروں کے دلوں سے کیسی کیسی آہیں اور بدعائیں نکلتی ہوں گی جو کسی بھی انسان کی دنیا وآخرت تباہ کرنے کے لیے بہت کافی ہیں۔اس لیے اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے کیجیے،اور یہ بات مت بھولیے کہ کسی بھی شکل میں دوسروں کو تکلیف دینا ناجائز وحرام ہے اور اگر زندگی میں لوگوں سے معافی نہ طلب کی گئی تو آخر ت میں نجات مشکل ہوجائے گی،اب راستہ چلتے ہوئے اور راستوں پر قبضہ کرکےروزانہ سینکڑوں ہزاروں افراد کو تکلیف دینے والے خود غور کرلیں کہ وہ اتنے سارے لوگوں سے کیسے معافی مانگیں گے اور آخرت میں ان کا کیا بنے گا؟
*-*-*
0 تبصرے