ترتیب و پیشکش: محمد عامر یاسین ملی
8446393682
ایک نوجوان کی شادی ہوئی تو وہ اپنے والد کے پاس گیا تا کہ وہ اس کے اس نئے ازدواجی سفر کے لیے برکت کی دعا کرے،جب وہ اپنے والد کے پاس جاتا ہے تو اس کا والد اُس سے ایک کاغذ اور ربڑ مانگتا ہے، لڑکا شدید حیرانگی کے ساتھ جاتا ہے اور مطلوبہ چیزیں لیکر آجاتا ہے اور اپنے باپ کے پاس بیٹھ جاتا ہے....!!
باپ کہتا ہے: لکھو۔
بیٹا: کیا لکھوں؟
باپ: جو جی چاہے لکھو۔
نوجوان ایک جملہ لکھتا ہے۔
باپ کہتا ہے: اسے مٹا دو،نوجوان مٹا دیتا ہے،باپ پھر کہتا ہے: لکھو۔
بیٹا: خدارا آپ کیا چاہتے ہیں؟
باپ کہتا ہے: لکھو۔
نوجوان پھر لکھتا ہے
باپ کہتا ہے: مٹا دو،لڑکا مٹا دیتا ہے۔
باپ پھر کہتا ہے: لکھو۔
نوجوان کہتا ہے: اللہ کے لیے مجھے بتائیں یہ سب کچھ کیا ہے؟
باپ کہتا ہے: لکھو۔نوجوان لکھتا ہے۔
باپ کہتا ہے مٹا دو،لڑکا مٹا دیتا ہے۔
پھر باپ اُ س کی طرف دیکھتا ہے اور اُسے تھپکی دیتے ہوئے کہتا ہے:
بیٹا! شادی کے بعد ربر کی ضرورت ہوتی ہے، اگر ازدواجی زندگی میں تمہارے پاس ربر نہیں ہو گا جس سے تم اپنی بیوی کی غلطیاں اور کوتاہیاں مٹا اور معاف کر سکو، اور اسی طرح اگر تمہاری بیوی کے پاس ربر نہ ہوا جس سے وہ تمہاری غلطیاں اور ناپسندیدہ باتیں مٹا سکےتو تم اپنی ازدواجی زندگی کا صفحہ چند دنوں میں کالا کر لوگے۔
حاصل کلام :کامیاب ازدواجی زندگی کا راز یہ ہے کہ ایک دوسرے کے لئے درگزر اور برداشت سے کام لیا جائے، ایک دوسرے کی خامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، خوبیوں کا اقرار کیا جائے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر انا کا مسئلہ نہ بنالیا جائے، بلکہ اس ربر سےکتابِ زندگی کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو مٹا دیا جائےـ
مذکورہ واقعہ سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ نوجوانوں کو چاہئے کہ اپنی زندگی کے اہم معاملات کو لے کر بزرگوں کی خدمت میں جائیں اور ان سے رہنمائی کی درخواست کریں، اسی طرح بزرگوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں نوجوانوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔
٭…٭…٭
0 تبصرے