ترتیب و پیشکش : محمد عامر یاسین ملی
آج کھانا تم بناؤ گی ، جس نے پانی کا گلاس اٹھ کے کبھی نہیں پیا تھا ، اسے میری ماں نے حکم دیا ، وہ اٹھی ، جیسے تیسے کر کےتین چار گھنٹے لگائے اور کھانا بنایا مگر نمک مرچ اس ذائقہ کے مطابق نہیں تھے جسے پرفیکٹ کہا جاتا ہے، اِس لیےکھانا گھر کے کسی فرد نے نہیں کھایا اور طنز کیا ’’ اپنی ماں کے گھر سے یہ سیکھ کے آئی ہو‘‘ ؟
میں آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کے بَعْد گھر آیا ، ابھی بیگ گھر نہیں رکھا تھا کہ میری ماں کہنے لگی’’ ہم تو صبح سے بھوکے بیٹھے ہیں ، کچھ بازار سے لادوکھانے کے لیے ‘‘۔ میں نے ایک نظر اپنی سہمی ہوئےبیوی پہ ڈالی اور مارکیٹ چلا گیا ،کھانا لے کر آیا تو سب کھانے لگے ۔
میں نے اپنی بیگم کا بازو پکڑااور کچن میں لے گیا ، پوچھا کہ کیا پکایا ہے آج ؟ اس نے پوچھا کہ باقی سب کی طرح تم بازار والاکھانا نہیں کھاؤ گے ؟ میں نے کہا : مجھے تو اپنی بیگم کے ہاتھ کا بنا کھانا پسند ہے ،اس نے کچن میں میرے لیے کھانا لگا دیا . جب میں نے چکھا تو اتنا بھی بد ذائقہ نہیں تھا کہ کھایا نہ جاتا ، مگر اسے اتنا مارجن ہی نہیں دیاگیا کہ وہ اپنی غلطی ٹھیک کر لیتی ۔
قصور میری بیوی کا بھی نہیں تھا کہ وہ ماسٹرز کر رہی تھی اور شادی ہو گئی، اسے تعلیم نے گھرداری کی فرصت ہی نہیں دی اور قصور میری ماں کا بھی نہیں تھا جس نے گھریلو خاتون بن کے ساری زندگی اپنے بچوں کےلئے’’اچھا کھانا ‘‘ بنایا تھا ، پِھر وہ عورت بہو کے ہاتھ کا بنا بدمزہ کھانا کیسے کھا سکتی تھی ، میں نے اس دن اپنی ماں کی بات بھی مان لی ، بیوی کے ہاتھ کا بنا کھانا بھی کھا لیا ، میرے ایک عمل نے مجھے اپنی شریک حیات کی نظر میں ہمیشہ کےلئے معتبر کر دیا اور اس ایک محبت بھرے عمل کی وجہ سے آج وہ ہر قسم کی ڈش بنانا سیکھ چکی ہے۔
اس دن اگر مارکیٹ سے کھانا نہ لے کر آتا تو ماں ناراض ہو جاتی اور اگر میں اپنی ماں کی بات سن کر سب کے سامنے اسے ڈانٹ دیتا تو وہ شاید مجھ سے بدگمان ہوجاتی ۔
رشتوں میں توازن قائم کریں اور اتنا مارجن ضرور دیں کہ لوگ ایڈجسٹ ہونا سیکھ لیں ، محبت کا جذبہ کبھی نا ختم ہونے دیں کیوں کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں اور لباس خراب ہو جائے تو بھرے بازارمیں اتارا نہیں جاتا ، پیوند لگایا جاتا ہے ،رشتوں میں بھی پیوند لگائیں۔
٭…٭…٭
0 تبصرے