Ticker

6/recent/ticker-posts

میت کا پکارا اور اسپیکر کا بےجا استعمال

میں نے جو دیکھا

تحریر:مفتی محمد عامریاسین ملی

شہر عزیز مالیگاؤں مسلم اکثریتی شہر کہلاتا ہے ،یہاں روزانہ طبعی طور پر فوت ہونے والوں کی یومیہ تعداد آٹھ سے دس ہے،جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو اس کے رشتے داروں اور متعلقین تک انتقال کی خبر پہنچانے کے لیے مخصوص افراد کے ذریعے اعلان (پکارا)کروایا جاتا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ نماز جنازہ میں شرکت کرسکیں۔کسی کی وفات کی خبر دوسرے لوگوں تک پہنچانا شرعاًجائز ہے اور یہ بات شریعت میں بھی مطلوب اورپسندیدہ ہے کہ نماز جنازہ میں زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہوکر میت کی مغفرت کے لیے دعا کریں۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر کسی کے انتقال پر تین صفیں اس کی نماز جنازہ پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمادیتے ہیں ۔(ابوداؤد)
   میت کا اعلان جہاں چوک چوراہوں اور گلی محلوں میں کیا جاتا ہے ،وہیں بوقت ضرورت مسجد میں بھی کیا جاسکتا ہے ،البتہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ میت کے اعلان میں مبالغہ اور غلو نہ کیا جائے ،ایسے ہی علاقوں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلان کیا جائے جہاں میت کے متعلقین اور رشتے دار رہتےہوں اور کسی اور ذریعے سے ان تک اطلاع نہ پہنچ سکی ہو،موجودہ زمانے میں جب کہ ہر خاص وعام کی رسائی موبائل اور سوشل میڈیا تک ہوچکی ہے ،اب اسپیکر کے ذریعے ہر جگہ اعلان کرنے کی اتنی ضرورت باقی نہیں رہی ،لیکن اس چیز کو ضرورت کے بجائے شاید ضروری سمجھ لیا گیا ہے ،چنانچہ ایسے علاقوں اور گلیوں میں بھی اعلان کرایا جاتا ہے جہاں مرحوم کے رشتے دار یا متعلقین نہیں ہوتے ۔

پھر اعلان بھی اس طرح کیا جاتا ہے کہ پہلے میت کے پانچ سات رشتے داروں کا ذکر ہوتا ہے ،(فلاں کا بیٹا ،فلاں کے بھائی ،فلاں کے والد ،فلاں کی بیوی ،فلاں کے شوہر وغیرہ )اور اخیر میں میت کا نام لیا جاتا ہے ،اعلان سننے والے لوگ ہر رشتے دار کے نام پر دل تھام لیتے ہیں کہ شاید اسی کا انتقال ہوگیا ہو ،اور جب تک اعلان مکمل نہیں ہوتا یہ واضح نہیں ہوپاتا کہ کس شخص کا انتقال ہوا ہے ؟ بہتر طریقہ یہ ہے کہ پہلے میت کے نام کا اعلان کردیا جائے کہ فلاں شخص فوت ہوگیا ہے اور اس کے بعد تعارف اور وضاحت کے لیے ایک دو معروف اور اہم رشتے داروں کا تذکرہ کرکے بتادیا جائے کہ مرحوم فلاں کے باپ یا والد تھے ۔
ایک اہم قابل اصلاح بات یہ بھی ہے کہ(ہنگامی حالات کو چھوڑ کر) کسی بھی وقت جب کہ عام لوگ آرام کررہے ہوں،کسی بھی طرح کااعلان نہیں کرنا چاہیے ،مثلاً بالکل آدھی رات کے وقت ،اس لیے کہ اعلان کی وجہ سے غیر متعلق افراد خصوصاً بیماروں ،ضعیفوں اور چھوٹے بچوں کی نیند میں خلل ہوسکتا ہے ،اسی طرح ہاسپیٹل کے پاس اور نماز کا وقت ہوتو مساجد اور تعلیم کے وقت اسکول اور مدارس کے قریب جاکر اس طرح اعلان نہ کیا جائے جس سے عبادت کرنے اور تعلیم وتعلم میں مشغول افراد کو حرج ہو ۔ایسے افراد کو براہ راست فون کرکے مطلع کردینا مناسب ہے ۔
مائک پر اعلان کی بات صرف میت کے پکارے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ کسی بھی دینی ودنیوی پروگرام کا اعلان ہو یا کسی دکان اور ہاسپیٹل کا افتتاح ہو ،(کہیں کیمپ لگا ہو یا سیل لگا ہو)ہراعلان کے موقع پر یہ خیال رکھنا چاہیے کہ عام لوگوں کو تکلیف نہ پہنچے۔شریعت اسلامیہ کایہ حسن ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ ان کے کسی عمل اور کسی بات سے دوسرے مسلمانوں کو تکلیف نہ ہو ،گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا مسنون ہے ،لیکن ہم اگر ایسے وقت داخل ہورہے ہو جب اہل خانہ سورہے ہوں تو ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہم آہستہ آواز سے سلام کریں ، نبی کریم ﷺ جب گھر میں داخل ہوتے تو اس طرح سلام کرتے کہ جاگنے والے سن لیتے اور سونے والے نہیں سن پاتے ۔ شرعی مسئلہ تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص سورہا ہو تواس کے قریب بیٹھ کر اتنی بلند آواز سے قرآن کی تلاوت بھی کرنا درست نہیں ہے کہ سونے والے کی نیند میں خلل واقع ہو ۔اب غور کرلیا جائے کہ جب سلام اور تلاوت قرآن کے سلسلے میں یہ ہدایت دی گئی ہے تو پھر کسی بھی طرح کے اعلان اور پکارے میں مذکورہ ہدایت کا کس قدر خیال رکھنا چاہیے! افسوس کہ ہمارے شہر میں لاؤڈ اسپیکر کابیجا اور غیر ضروری استعمال بڑھتا جارہا ہے ، لاؤڈ اسپیکر خواہ پکارا کرنے والوں کا ہو ،مساجد کا ہو ،جلسوں کا ہو یا جمعہ کے دن لب سڑک پنڈال لگا کر چندہ کرنے والوں کا ، مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے کسی بھی وقت کوئی اعلان کرنا ،نعت پڑھنا ،جلسوں میں ضرورت سے زیادہ اسپیکر لگانا،یا جمعہ کے موقع پر خطاب جمعہ کے لیے اذان کا اسپیکر چالو رکھنا ،یہ ایسا عمل ہے جس میں نفع کم اور نقصان زیادہ ہے ،موجودہ ماحول میں جب کہ فرقہ پرست طاقتیں ہماری معمولی کمزوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاکر پوری قوم کو پریشان کرنے کی مذموم کوشش کررہی ہیں ،ہمیں اپنی ان کمزوریوں پر وقت رہتے قابو پالینا چاہیے اور دینی سرگرمیوں کی انجام دہی میں بھی شرعی ہدایات کا پاس ولحاظ رکھنا چاہیے ۔پکارا کرنے والے حضرات سے گزارش ہے کہ مذکورہ باتوں کا خیال رکھیں اور جہاں میت واقع ہو ،وہاں کے سرپرست حضرات بطور خاص ان گزارشات پر توجہ فرمائیں ،اس لیے کہ پکارا کرنے والے افراد بھی کسی درجہ مجبور ہوتے ہیں اور میت کے افراد خانہ کے پابند ہوتے ہیں ۔
                                      ٭ ٭ ٭

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. جزاک اللہ مفتی صاحب بڑی اہم تحریر لکھی ہے اللہ سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین

    جواب دیںحذف کریں