Ticker

6/recent/ticker-posts

چند دن ہاسپیٹل کے بیڈ پر

از: مفتی محمد عامر یاسین ملی

کسی شاعر نے کہا ہے ؎

تنگدستی اگر نہ ہو سالک 
تندرستی  ہزار  نعمت ہے 

 اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بڑی اور عظیم الشان نعمتوں میں سے ایک نعمت صحت اور تندرستی کی ہے ،انگریزی زبان میں کہاوت ہے health is wealth مگر افسوس! انسان اس کی قدر نہیں کرتا ۔ شب برأت کے بعد شہر میں چل رہے وائر ل فیور کا راقم شکار ہوا اور پھر علاج و معالجہ کی غرض سے چند روز ہاسپیٹل کے بیڈ پر گزرے، ہاسپیٹل میں اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ صحت اور تندرستی اللہ کی کیسی بڑی نعمت ہے ،افسو س ہم لوگ اس نعمت پر نہ ہی خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اور نہ اس نعمت کی پورے طور پر قدر کرتے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : دو نعمتیں ایسی ہیں، اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے ،پہلی نعمت صحت وتندرستی کی ہے ،اور دوسری فرصت کے اوقات !(بخاری) 
قارئین ! غور کیا جائے تو ہمارے معاشرے میں وقت کےبعد سب سے زیادہ جس چیز کو بر باد کیا جاتا ہے وہ صحت ہے ،ہم لوگوں کا طرز زندگی(Life style) ایسا ہوچکا ہے جو در حقیقت ہماری صحت کا دشمن ہے ، رات کو تاخیر سے سونا ،صبح دیر تک سوتے رہنا اور تاخیر سے بیدار ہونا ،صبح کا ناشتہ چھوڑ دینا، دوپہر کا کھانا وقت پر نہ کھانا اور قریب آدھی رات گزر جانے کے بعد دعوتوں میں اور ہوٹلوں پر مرغن غذائیں کھانا اور کھانے کے فورا بعد سوجانا ، طبی اور شرعی لحاظ سے انتہائی مضر اور نقصان دہ ہے ،اس کے علاوہ آسائش زندگی کا اتنا عادی ہو جانا کہ چند قدم چلنے کی بھی نوبت نہ آئے ،اور سارے کام مشینوں کے ذریعے انجام پائیں، یہ چیز ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور مہلک بیماریوں کو دعوت دینے کا سبب بھی !کسی نے خوب کہا کہ انسان مال کمانے اور آسائشوں کی خاطر اپنی صحت برباد کرلیتا ہے اور پھر اسی صحت کی بحالی کے لیے اپنامال خرچ کرتاہے ۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صحت کی حفاظت کے سلسلے میں بیدار رہیں اور مضر صحت اشیاء اور معمولات سے پرہیز کریں ۔
 یاد رکھئے ! بندہ مومن کی زندگی حرکت اور جدوجہد سے بھرپور ہوا کرتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ اللہ نے پنج وقتہ نمازوں کا حکم دیا ہے جن کی ادائیگی کے لیے گھر سے مسجد تک چل کر جانا ہوتا ہے ، حج اور عمرہ جیسی عبادتیں ہم پر عائد کی گئیں ،جن کی ادائیگی کے لیے زبردست جسمانی محنت اور بدنی مشقت درکار ہوتی ہے ،اسی طرح بیماروں کی عیادت اور میت کی تدفین میں شرکت کے لیے بھی چل کر جانا ہوتا ہے ، ان عبادتوں کے نتیجے میں جہاں اجر و ثواب ملتا ہے وہیں جسمانی حرکت بھی ہوتی ہے جو ہماری صحت کے لیے مفید ہے ۔
نبی کریم ﷺ نے صحت کی قدر کرنے اور اس کی حفاظت کا حکم دیا ہے ،اور ارشاد فرمایا کہ اپنی صحت کو بیماری کے آنے سے پہلے غنیمت سمجھو۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم لوگ وقت رہتے ہوئے اپنی صحت پر توجہ دیں ،اپنے طرز زندگی کو فطری اور اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں ،بطور خاص سونے ،جاگنے اور کھانے پینے کاو قت تبدیل کریں ،ساتھ ہی ساتھ مرغن اور مسالہ دار چیزوں سے اپنے آپ کو بچائیں ،یہ چیزیں وقتی طور پر زبان کے ذائقے کا ذریعہ بنتی ہے ،لیکن ظاہر ی طور پر مہلک بیماریوں کا سبب بھی ۔
اللہ کا کرم ہوا کہ بیماری کے اس مرحلے میں ہمارے کرم فرما ڈاکٹر سعید فارانی صاحب اور ان کے فرزند ڈاکٹر اویس فارانی صاحب اسی طرح فاران ہاسپٹل کے اسٹاف کی توجہ اور خدمات شامل حال رہیں ،ساتھ ہی ساتھ ہمارے متعلقین اور مخلصین نے بھی تیمارداری کی اور دعاؤں کا اہتمام کیا ،جس کے نتیجے میں اللہ نے شفا اور تندرستی عطا فرمائی ،دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان تمام معاونین اور مخلصین کو اپنے شایان شان بدلہ عطا فرمائے اور ہم سب کو تمام بیماریوں سے محفوظ رکھے آمین!
                                      *-*-*

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے