از: مفتی محمد عامریاسین ملی
ایک ماہ قبل شہر کے چند فکر مند کاروباری حضرات نے گلشن خطابت گروپ کے منتظمین سے ملاقات کر کے یہ گزارش کی کہ گلشن خطابت کے پلیٹ فارم سے خطاب جمعہ کے ذریعے تجارت اور ملازمت کے اسلامی اصول وآداب بیان کیے جائیں اور معاشرے میں رائج سودی لین دین شکلوں کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کا شرعی حکم بھی واضح کیا جائے ۔انہو ں نے بتایا کہ سود کی حرمت اور اس کے نقصانات سے واقفیت کے باوجود بہت سارے مسلمان مرد وعورت سودی لین دین میں مبتلا ہورہے ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ گویا اب وہ سودی لین دین کوگناہ بھی خیال نہیں کرتے ،راقم نے ان حضرات سے اس کی وجہ دریافت کی ،تو انہوں نے بتایا کہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے کا مزاج اور آسائش زندگی (نئی گاڑی ،اینڈ رائڈ موبائل اور اعلی طرز زندگی )کی چاہت نے لوگوں کو سودی لین دین پر آمادہ کیا ہے ،اسی طرح مال ودولت کی حرص بھی بڑھتی جارہی ہے اور کفایت شعاری اور قناعت پسندی کا مزاج ختم ہوتا جارہا ہے ،اس لیے ضروری ہے کہ عام مسلمانوں کو اس سلسلے میں شرعی تعلیمات وہدایات سے واقف کرایا جائے اور رزق حلال کی برکت اور حرام مال کی نحوست سے انہیں آگاہ کیا جائے ۔چنانچہ ان حضرات کی درخواست اور فکر مندی کے پیش نظر گزشتہ جمعہ (۸؍مئی)کے روز نماز جمعہ سے قبل شہر مالیگائوں کی تقریباً پچاس مساجد میں ’’تجارت وملازمت کے اصول اور سودی لین دین کے احکام ‘‘ کے موضوع پر مقررین کی تنظیم ’’ گلشن خطابت ‘‘کی جانب سے مشترکہ خطاب کیا گیا ،ذیل میں’’پیغام جمعہ‘‘کے عنوان سے مشترکہ خطاب جمعہ کا خلاصہ پیش کیا جارہا ہے ،تا کہ زیادہ سے زیادہ مسلمان مردوں اور عورتوں تک اسے پہنچایا جاسکے ۔قارئین سے گزارش ہے کہ پیغام جمعہ کو ملاحظہ فرمائیں اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں ۔
(۱) رزق اور مال ودولت کے سلسلے میں یہ یقین رکھیں کہ اللہ تعالی رزاق حقیقی ہے اور اس نے ہمارے مقدر کی روزی طے کردی ہے جو ہر حال میں ہمیں مل کر رہے گی ۔
(۲) مال ودولت کے حصول کے لیے ہمیشہ جائز راستہ اختیار کریں ،محنت وجدوجہد کریں اور سستی و کاہلی سے اپنے آپ کو بچائیں ۔
(۳) تجارت اور ملازمت ،حصول رزق کے دو بنیادی ذرائع ہیں ،اور دونوں سے متعلق اسلام میں اہم اصول بیان کیےگئے ہیں ،جن کو جاننا اور ان پر عمل کرنا ضروری ہے ۔
(۴) سچائی ،امانت داری ،وعدے کی پاسداری ،نرم گفتگو ،وقت کی پابندی ؛یہ وہ بنیادی صفات ہیں جن کو اختیار کیے بغیر ملازمت اور تجارت میں ترقی ممکن نہیں ۔
(۵)سودی لین دین سے ہر حال میں گریز کریں، یہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے ،جس کےمضر ا ثرات زندگی کے دیگر شعبوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں ،سب سے بڑا نقصان یہ ظاہر ہوتاہے کہ عبادات کی توفیق چھین لی جاتی ہے اور دعا قبول نہیں ہوتی ۔
(۶)کسی بھی تجارت یا آن لائن بزنس (شیئر مارکیٹ وغیرہ)میں حصہ لینے سے پہلے اس کے متعلق مفتیان کرام سے شرعی حکم معلوم کرلیں اور تجربہ کار حضرات سے مشورہ کرلیں ۔
(۷)انسٹال مینٹ(installment) پر کاروبار درست ہے لیکن رقم کی واپسی میں تاخیر کی وجہ سے جرمانہ لگانا یا مزید رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ، یہ سود ہے ۔اسی طرح وقت پر قسط ادا نہ کرنا بھی وعدے کی خلاف ورزی ہے ۔بہتر یہ ہے کہ اپنی حیثیت کے مطابق نقد سودا کر کے چیزیں خریدیں اور انسٹال مینٹ پر لین دین سے بھی احتیاط کریں ۔
(۸)معاشی مندی اور کاروباری نقصان کی ایک بڑی وجہ سودی لین دین کی وہ شکلیں ہیں جنہیں لوگوں نے بڑے پیمانے پرا ختیار کرلیا ہے ۔ اپنے کاروبار کو شرعی اور ملکی قوانین کی روشنی میں آگے بڑھائیں توکاروبار میں ترقی ہوگی اور آخرت میں انجام نیک لوگوں کے ساتھ ہوگا ۔ان شاء اللہ
(۹) اپنے کسی عزیز یا رشتے دار کو قرض کی ضرورت ہوتو خالص رضا ئے الہی اور اجر وثواب کی نیت سے قرض دیں ،قرض کے عوض کسی بھی طرح کا نفع حاصل کرنا سود میں شمار ہوگا ،مثلاً کسی شخص کو قرض دے کر اس کا مکان یا دکان یا گاڑی وغیرہ استعمال کرنا۔
(۱۰)اللہ کی عطا کردہ روزی اور نعمت پر راضی رہیں ،اپنی معاشی حیثیت کے مطابق مال خرچ کریں ،کفایت شعاری سے کام لیں ،فضول خرچی سے بچیں اور قناعت کا مزاج پیدا کریں ،یہی عافیت کی راہ ہے ۔
جاری کردہ : گلشن خطابت گروپ ،مالیگائوں
0 تبصرے