نئے ازدواجی جوڑوں سے شرکت کی گزارش
از: مفتی محمد عامر یاسین ملی
شہر مالیگاؤں میں ان دنوں شادیوں کی کثرت ہے ،اسکولی تعطیلات (مئی جون)میں تو ملک بھر میں شادیوں کا سیزن ہوتا ہے ، اور ہر طرف خوشی کے شادیانے بج رہے ہوتے ہیں ۔ اللہ پاک نے نکاح کا نظام انسانی زندگی میں چین و سکون اور خوشیوں میں اضافہ کا ذریعہ بنایا ہے ، لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ شادی کے بعد بھی بعض جوڑے ازدواجی خوشیوں سے محروم رہتے ہیں اور ان کے گھرانوں سے گویا خوشیاں روٹھ جاتی ہیں ، اس کا بڑا سبب ازدواجی جوڑوں کا نکاح کے مقاصد اور ازدواجی زندگی کو کامیاب اور خوشگوار بنانے کے اصول و آداب سے ناواقف ہونا ہے ۔ اگر شادی سے قبل ہی نوجوان لڑکو ں اور لڑکیوں کی نکاح کے سلسلہ میں اچھی تربیت کی جائے اور ازدواجی وگھریلو زندگی کی نزاکتوں اور حقیقتوں سے انہیں آگاہ کردیا جائے تو ان کے لیے اپنی ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور کامیاب بنانا ممکن ہوسکتا ہے، کیا یہ بات باعث تعجب نہیں کہ ہم معمولی کام بھی بغیر تربیت کے کسی کے حوالے نہیں کرتے، بیٹے کو بائک چلانے کا سلیقہ نہ ہو تو باپ اسے بائک کی چابی نہیں دیتا ، بیٹی کو سلائی کا ڈھنگ نہ ہو تو ماں سلائی مشین اس کے حوالے نہیں کرتی، لیکن یہی والدین بغیر تربیت کے اپنے بیٹے بیٹیوں کا نکاح کر دیتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں نئے شادی شدہ جوڑوں (یا ایسے نوجوان جن کا عنقریب نکاح ہونے والا ہو ) کے لیے تربیت کا کوئی خاص نظام نہیں ہے ، قارئین کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ غیر مسلم معاشرے خصوصاً عیسائی کمیونٹی میں شادی سے قبل نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے پری میرج کورس ہوتا ہے، جس کے تحت نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی کونسلنگ اور خاندانی زندگی کی تربیت کی جاتی ہے ، اس کورس کی تکمیل کے بغیر کوئی عیسائی جوڑا اپنی ازدواجی زندگی کی شروعات نہیں کرتا ، نہ فادر ایسے افراد کی شادی کرواتا ہے،تصور کیجیے کہ اگر قاضی یا مسجد کا امام یہ کہہ کر نکاح پڑھانے سے انکار کردے کہ ’’دولہا اور دلہن نے نکاح سے متعلق ضروری اسلامی تعلیمات اور لازمی ہدایات سے واقفیت حاصل نہیں کی ہے ‘‘۔اس موقع پر ہمارا رد عمل کیا ہوگا ؟ حالانکہ اس بات سے کسے انکار ہے کہ بغیر سیکھے ڈرائیونگ حادثہ کا سبب بنتی ہے اور بغیر تربیت کے تیراکی جان لیوا ثابت ہوتی ہے ، پھر ازدواجی زندگی کا طویل اور نازک سفر بغیر تربیت اور رہنمائی کے کیسے خوشگوار اور کامیاب ہوسکتا ہے ؟ تھوڑا نہیں پورا سوچئے! اور اپنے معاشرے کا جائزہ لیجیے ،خصوصاً ان گھرانوں کا جہاں زوجین میں ناچاقی اور ایک دوسرے کے متعلق شکایت پائی جاتی ہے ،آپ کو اس کا بڑا سبب تربیت کی کمی اور نکاح کے بعد زوجین اور ان کے اہل خانہ کا اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق سے لاعلم ہونا نظرآئے گا۔ضرورت اسی بات کی ہے کہ والدین اور خاندان کے سرپرست حضرات اپنی نوجوان اولاد کا نکاح کرنے سے پہلے اس کی تربیت کی فکر کریں۔ نوجوان مردوں اور خواتین ( جن کا نکاح ہوچکا ہے یا ہونے والا ہے) کو بھی چاہیے کہ وہ پری میرج کورس کی اہمیت کو سمجھیں، ازدواجی زندگی کے عنوان سے لکھی گئی کتابوں کا مطالعہ کریں ، اور تربیتی پروگراموں میں شرکت کریں ۔
خوشی کی بات ہے کہ صفا فاؤنڈیشن کے فکر مند اراکین نے اس عنوان سے پہل کرتے ہوئے گزشتہ سال نئے ازدواجی جوڑوں کاتربیتی پروگرام منعقد کیا جس میں تقریباً ایک سو بیس جوڑوں نے شرکت کی ،الحمدللہ عوام وخواص نے اس اقدام کی سراہنا کی اور اسے وقت کی ضرورت قرار دے کر آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا ،چونکہ اسکولوں کی سالانہ تعطیلات میں شادی بیاہ کی کثرت ہوتی ہے ،اس لیے صفا فاؤنڈیشن نے اسی ماہ ۲۲؍اپریل بدھ کے روز رات نو بجے اردو گھر مالیگاؤں میں پری میرج کورس کے عنوان سے دوسرا تربیتی پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،جس میں معروف عالم دین اور مشہور کونسلر مفتی اشفاق قاضی صاحب ( ڈائریکٹر فرسٹ فیمیلی گائیڈنس سینٹر وامام و خطیب جامع مسجد ممبئی) مفتی محمد عامر یاسین ملی صاحب ازدواجی و خاندانی زندگی کے موضوع پر نوجوانوں کی تربیت کریں گے ،ان شاء اللہ! امید ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے نئے ازدواجی جوڑوں کی زندگی خوشگوار ہوگی ان شاءاللہ
نوٹ: پروگرام میں داخلہ بذریعہ پاس ہوگا ، لھذا جو حضرات (مردو خواتین) اس پروگرام میں شرکت کرنا چاہتے ہیں ، وہ اپنا رجسٹریشن کروانے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں: 8446393682
*-*-*
0 تبصرے