تحریر: مفتی محمد عامر یاسین ملی
8446393682
گزشتہ ماہ حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی گیارہ کتابوں کی تقریب اجرا بنکر لانس مالیگاؤں میں منعقد ہوئی ،اسٹیج پر بڑی تعداد میں مقامی اور بیرونی علمی وادبی شخصیات جلوہ افروز تھیں ،جن میں ایک نمایاں شخصیت ڈاکٹر سعید احمد فارانی صاحب کی تھی ،ڈاکٹر صاحب کا شمارجہاں شہر کےاولین اور ماہر طبیبوں میں ہوتا ہے ،جو اپنے پیشےکے تئیں انتہائی مخلص اور ایماندار واقع ہوئے ہیں ،وہیں اپنے علمی وادبی ذوق کی بناء پر ڈاکٹر صاحب کو شہر کی علمی اور ادبی تقاریب میں اہتمام کے ساتھ مدعو کیا جاتا ہے ،اور ڈاکٹر صاحب بھی اپنی مشغولیات کے باوجود دلچسپی اور اہتمام کے ساتھ ایسی تقاریب میں شریک ہوتے ہیں ، مذکورہ تقریب اجرا جب اختتام کو پہنچی تو بوقت رخصت ڈاکٹر صاحب نے راقم سے کہا کہ مکمل کتابوں کا ایک سیٹ آپ میرے ہاسپیٹل بھیج دیجیے ،راقم نے کسی اور کے ذریعے کتاب بھیجنے کے بجائے چاہا کہ خود ہی یہ کتابیں ڈاکٹر صاحب تک پہنچادے، تاکہ اسی بہانے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات بھی ہوجائے ؎
تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے
ڈاکٹر صاحب سے میرے تعلقات بہت گہرے اور دیرینہ تو نہیں ہیں ،لیکن ان کی طبی خدمات اور خصوصاً ان کی خوش مزاجی کی وجہ سے ان کےلیےدل میں انسیت اور احترام کا جذبہ محسوس ہوتا ہے اور ان کی علمی ،ادبی اور پر لطف باتوں سے طبیعت میں نشاط اور خوشی محسوس ہوتی ہے ،چنانچہ ایک روزوقت فارغ کر کےراقم کتابیں لے کر فاران ہاسپیٹل پہنچا ،معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب اس وقت آپریشن تھیٹر میں ہیں ،چنانچہ ان کے انتظار میں بیٹھا رہا ،کچھ دیر کے بعد ڈاکٹر صاحب آئے اور سلام ودعا کے بعد ان کی زبان سے پہلا جملہ یہ نکلا ’’ابھی ایک مریض کا میں نے آپریشن کیا ہے ،آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مریض کو شفا عطا فرمائے‘‘۔ راقم کویہ احساس ہوا کہ ؎
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں
خود غرضی اور بے مروتی کے اس دور میں بھی ایسے مخلص ڈاکٹر موجود ہیں، جن کے ہاتھوں میں تو نشتر ہوتا ہے لیکن ان کے سینے میں ایسا نرم دل ہوتا ہے جو مریض کی تکلیف اور درد کو محسوس کرتا ہے ،اور اس کی صحت کا متمنی ہوتا ہے ۔بہر حال کچھ دیرتک ڈاکٹر صاحب سےعلمی اور ادبی گفتگو ہوتی رہی ،ڈاکٹر صاحب بڑے با اخلاق اور خوش مزاج انسان ہیں، اور اہل علم کے قدر داں بھی ،خوش طبعی اور ظرافت تو ان کے مزاج کا حصہ ہے ،وہ بغیر کسی تصنع اور تکلف کے اپنی بات کو ایسے پیرائے میں پیش کرتے ہیں کہ سننے والےشخص کے لبوں پر مسکراہٹ اور چہرے پر تازگی آ جاتی ہے ،درحقیقت مزاح اسی کو کہتے ہیں ، بہرحال جب ملاقات مکمل ہوئی اور راقم نے اجازت چاہی تو ڈاکٹر صاحب نے اکراماً کہا ’’ چلیے میں آپ کو دروازے تک پہنچا دیتا ہوں ‘‘، واضح ہوکہ کسی مہمان کورخصت کرتے وقت اس کے ساتھ چند قدم چلنا شریعت میں مشایعت کہلاتا ہے جو مسنون عمل ہے ،البتہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے خاص ظریفانہ اندازمیں اس پر اضافہ کیا، اور کہنے لگے’’ میں آپ کو دروازے تک پہنچا دیتا ہوں تا کہ آپ دوبارہ نہ آجائیں‘‘ ۔
آمدم برسر مطلب :
اس واقعہ کو قلم بند کرنے کا مقصد اس احساس کو اجاگر کرنا ہے کہ اگر ڈاکٹر حضرات بااخلاق اور خوش مزاج ہوں، اور اپنے پاس علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں کے ساتھ ان کا برتاؤ نرمی اور محبت والاہو،وہ بےرخی اور تر شی کے بجائے اپنائیت سے مریض کی باتیں سنیں اور بیماری کے سلسلے میں اس کو تسلی دیں تو اس کے ذریعے مریض کو بڑی راحت ہوتی ہے، گویا اس کا آدھا مرض یوں ہی دور ہوجاتا ہے ،اس کے برعکس اگر ڈاکٹر خشک مزاج ہوں اور ان کا انداز گفتگو روکھاسوکھا ہو، اور ان کے پاس مریض کی مکمل بات سننے کا بھی موقع نہ ہو، نیز وہ مریض کو اس کے مرض کے تئیں خوف میں مبتلا کردیں تو یہ گمان ہوتاہے کہ شاید طب جیسی اہم خدمت نے اب تجارت کی جگہ لے لی ہے،نتیجتا مریض اپنی بیماری کے سلسلے میں مزید مایوس ہوجاتا ہے اور ہمت کھوبیٹھتا ہے ۔بہر حال ڈاکٹر سعیدفارانی صاحب جیسے مخلص اور ماہر طبیبوں کا وجود ہمار ے اپنے شہر کے لیے باعث فخر ہے اور بسا غنیمت بھی ،دل سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب، اور ان کے فرزند ڈاکٹر اویس صاحب کوتادیر عافیت کے ساتھ سلامت باکرامت رکھے اور ان حضرات کو دست شفا سے نوازے ۔
ایں دعا از من واز جملہ جہاں آمین باد
*-*-*-*-*
0 تبصرے