ناجائز قبضہ دینی و دنیوی دونوں لحاظ سے نقصاندہ
تحریر : مفتی محمد عامر یاسین ملی
(امام و خطیب مسجد یحییٰ زبیر)
آج ہمارا شہر مالیگاؤں ناجائز قبضہ جات اور اتی کرمن سے پوری طرح اٹا ہوا ہے،راستوں اور گلیوں میں اتی کرمن کے نتیجے میں راہ چلنا دشوار ہوچکا ہے،اور باہمی جھگڑے ،سڑک حادثات اور جانی ومالی نقصانات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ خدانخواستہ کہیں آگ لگ جائے یا کسی مریض کوطبی امداد کی فوری ضرورت ہو تو نہ وہاں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں سہولت سے پہنچ سکتی ہیں او نہ ایمبولینس۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس غیر شرعی و غیر اخلاقی روش کو غلط بھی نہیں سمجھا جاتا ۔ اس وقت پورا شہر تکلیف میں مبتلا ہے جس کو دیکھتے ہوئےــ دیر سے ہی سہی ــ کارپوریشن کی جانب سے آج(یکم اپریل) سے اتی کرمن مہم شروع کی گئی ہے جو بلاشبہ وقت کی ضرورت ہے، اسے پورے شہر میں تسلسل کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے اور ہر طرح کا اتی کرمن ختم کرنا چاہیے تاکہ شہریان کو راحت ملے ۔اہلیان شہر خصوصاً علماء و ائمہ اور سماجی کارکنان و سرکردہ افراد نیز دینی و ملی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کو مصلحت پسندی اور خاموشی کے بجائے اس مہم کی مکمل تائید و حمایت کرنی چاہیے، اور اپنا عملی تعاون بھی پیش کرنا چاہیے ۔ اس لیے کہ راستوں پر ناجائز قبضہ دینی و دنیوی دونوں لحاظ سے نقصاندہ ہے اور آخرت میں سخت پکڑ کا باعث بھی ! لھذا کارپوریشن کے ساتھ ساتھ اہلیان شہر اپنی دینی و دنیوی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے از خود اپنا اپنا اتی کرمن ختم کرلیں تو زیادہ بہتر ہے ۔
ممکن ہے اتی کرمن مہم کے نتیجے میں بعض لوگوں کا ذاتی نقصان ہو ، لیکن پورے شہر کو کچھ لوگوں کے ذاتی فائدے کی خاطر تکلیف میں نہیں چھوڑا جاسکتا۔
اتی کرمن مہم کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کو چاہیے کہ اتی کرمن کی وجوہات پر غور کرکے ان کو بھی دور کرے ، خصوصا راستوں پر چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والوں کو متبادل جگہ بھی فراہم کرے ۔اسی طرح خود انتظامیہ نے راستوں پر بے ترتیب بجلی کے کھمبے اور ٹرانسفارمر نصب کر کے، کچرے کی پیٹیاں رکھ کر اور ادھورے تعمیری کام چھوڑ کر جو قبضہ کیا ہے اسے بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔
امید ہے کہ یہ مہم غیر جانبداری اور تسلسل کے ساتھ پورے شہر میں چلائی جائے گی اور اس کے ذریعے شہر کی تعمیر و ترقی کی رفتار بڑھے گی ۔
*-*-*
0 تبصرے