Ticker

6/recent/ticker-posts

ازدواجی جوڑوں کی تربیت اور صفا فاؤنڈیشن کا پروگرام

میں نے جو دیکھا تحریر نمبر 136

از : مفتی محمد عامر یاسین ملی

دنیا ابتلاوآزمائش کا گھر ہے ،ہر شخص کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے ،کچھ آزمائشیں غیروں کی جانب سے پیش آتی ہیں اور کچھ اپنوں کی طرف سے، البتہ دکھ اور تکلیف اس وقت شدید ہوجاتی ہے جب آزمائش اور پریشانی کا سبب ہمارے اپنے ہی بن جائیں،والدین کیسے لاڈ وپیار کے ساتھ اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں ،اور کیسی کیسی امیدیں اولاد سے وابستہ کرلیتے ہیں ،لیکن یہی اولاد بعض مرتبہ انہیں اپنی نافرمانی اور بے راہ روی کے سبب آزمائش میں مبتلا کردیتی ہے ،اس وقت والدین کے دل پر کیا گزرتی ہے ،وہی بہتر جانتے ہیں ،یہی صورت حال اس وقت پیش آتی ہے جب بڑی امیدوں اور تمناؤں کے ساتھ مرد وعورت رشتہ ازدواج سے منسلک ہوتے ہیں ،اور اپنی تمام تر خوشیاں ایک دوسرے سے وابستہ کرلیتے ہیں ،لیکن بعض مرتبہ یہی رشتہ ان کے لیے سب سے بڑی آزمائش اور ذہنی و قلبی اذیت کا سبب بن جاتا ہے ۔
قارئین ! جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے ؟دراصل کسی بھی رشتے میں دراڑ کا بنیادی سبب یہ ہے کہ لوگ دوسروں کے حقوق اور اپنی ذمہ داریوں سے ناواقف ہوتے ہیں ،انہیں اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے زیادہ دوسروں پر عائد اپنےحقوق کی حصولیابی کی فکرہوتی ہے ،افسوس اس بات کا ہے کہ گھروں اور خاندانوں میں رشتوں کی اہمیت ،صلہ رحمی کی ضرورت ،حسن سلوک ،احسان ،صبر وبرداشت اور عفو ودرگزر جیسے عنوانات پر گفتگو نہیں کی جاتی ، حالانکہ یہ وہ خوبیاں ہیں جن کے بغیر تعلقات کا نبھانا ناممکن ہے ، تعلقات خصوصا ازدواجی رشتوں کے سلسلے میں تربیت و رہنمائی نہ ہونے کا نتیجہ سامنے ہے ،ہر دوسرا،تیسرا گھرانہ انتشار کا شکار ہیں ،بہت سارے خاندان آپسی اختلافات کے باعث بکھرتے جارہے ہیں اور بے شمار ازدواجی جوڑے گھٹ گھٹ کر زندگی گزار رہے ہیں ،نوبت طلاق ،خلع ،مقدمات اور خودکشی تک پہنچ رہی ہے ۔
قابل مبارکباد ہیں صفا فاؤنڈیشن کےفکر مند اراکین جنہوں نے اس تشویش ناک صورت حال کے تناظر میں رشتوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدام کرتے ہوئے ’’خوشگوار ازدواجی زندگی ،خوشحال خاندانی نظام‘‘کے عنوان سے تربیتی پروگراموں کے انعقاد کا سلسلہ شروع کیا ،گزشتہ دنوں اردو گھرمیں اسی سلسلے کا آٹھواں تربیتی پروگرام منعقدہوا ،جس کی صدارت الحاج ریاض احمد برف والے نے کی،اس پروگرام میں مفتی محمد اشفاق قاضی صاحب ( ڈائریکٹر فیمیلی فرسٹ گائیڈنس سینٹر ممبئی) نے اپنے گہرے علم اور طویل تجربات کی روشنی میں نوجوان مردو خواتین اورنئے ازدواجی جوڑوں کی تربیت ورہنمائی فرمائی ،انہوں نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ نکاح کی حقیقت کیا ہے ؟زوجین کی ذمہ داریاں کیا ہیں ؟وہ کون سے سنہری اصول ہیں جن کے ذریعے ازدواجی وخاندانی زندگی خوشگوار ہوتی ہے ،اور میاں بیوی سے صادر ہونے والی وہ کون سی غلطیاں ہیں جن کے نتیجے میں رشتوں میں تلخی آجاتی ہے ،موصوف کا انداز بیاں انتہائی دلچسپ ،گفتگو بڑی مرتب اور سمجھانے کا انداز ایسا شاندار رہا کہ مسلسل ڈیڑھ گھنٹہ مجمع ان کی باتیں سنتارہا،اور کیفیت یہ رہی ۔۔۔

وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

اس موقع پر آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے سکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے اپنی شرکت سے پروگرام کو زینت بخشی اور مختصر لیکن پر اثر خطاب بھی فرمایا،انہوں نے ازدواجی زندگی سے متعلق اسلامی ہدایات وتعلیمات معلوم کرنے اور نکاح سے قبل مر د وعورت کی تربیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں نکاح کے بعد کی زندگی خوشگوار ہوجاتی ہے ،مولانا محترم نے اپنی گفتگو میں قرآنی آیات ،احادیث اور واقعات کے ذریعے بتایا کہ ازدواجی اورخاندانی زندگی کا خوشگوار ہونا کس قدر ضروری ہے ،اخیر میں انہوں نے صفا فاؤنڈیشن کے اراکین کو مبارکبادپیش کی کہ وہ اس سلسلے میں اصلاحی جدوجہد کررہے ہیں ،موصوف کے ہی دست مبارک سے راقم الحروف کی کتاب ’’خوشگوار ازدواجی زندگی،خوشحال خاندانی نظام‘‘کا اجراء بھی عمل میں آیا۔
الحمدللہ! مفتی محمد حسنین محفوظ نعمانی صاحب(قاضی شریعت دارالقضاء مالیگاؤں) کی سرپرستی میں منعقدہ یہ تربیتی پروگرام توقع سے بڑھ کر کامیاب رہا ،پروگرام کی اہمیت وضرورت محسوس کرتے ہوئے ایک ہفتہ قبل مفتی محمد اسماعیل قاسمی (صدر جمعیۃ علماء ،مدنی روڈ) قاری آصف شعبان صاحب(صدر جمعیۃ علماء ،سلیمانی چوک)مولانامحمد عمرین محفوظ رحمانی اور اہلکار سوسائٹی مالیگاؤں کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس پروگرام میں اپنے نوجوان بیٹے اور بیٹیوں کو شریک کریں ،اسی طرح مولانا عقیل احمد قاسمی ،مولانانعیم الرحمن ندوی وغیرہ نے اس سلسلے میں مضامین لکھ کر بیداری لانے کی کوشش کی ،جس کی بدولت تقریباً پونے دو سو افراد اس پروگرام میں شریک ہوئے ،جنہیں مذکورہ کتاب جناب صابر نورانی صاحب کی طرف سے بطور تحفہ دی گئی اور سند شرکت سے بھی نوازا گیا ، نیز پروگرام کے دوران انہیں ریفریشمنٹ بھی دیا گیا ۔ اسٹیج پر عمائدین شہر اور معزز شخصیات جلوہ افروز تھیں ،جن میں الحاج نورانی درگاہی (صدر اہلکار سوسائٹی)جناب شاہد اقبال صاحب ( امیر مقامی جماعت اسلامی)مولانا عقیل احمد قاسمی ،جناب صابرنورانی ،جناب اشفاق لعل خان سر ،مولانا مدثر صاحب ،مولانا مجاہد الاسلام ملی ،مفتی اسلم جامعی وغیرہ موجود تھے ،اسی طرح قاری حفیظ الرحمن شمسی ،حافظ انعام الرحمن ناولٹی ،جناب عمر فاروق الخدمت ،جناب خلیل انمول ،مولاناحافظ سعدین رحمانی وغیرہ بھی شریک رہے ۔پروگرام کے اغراض ومقاصد مفتی عطاء الرحمن انوری نے اور صدارت کے لیے تائیدی کلمات مولانا عبد الوحید ندوی نے پیش کئے ۔نظامت کے فرائض مولانا ساجد خان ملی ندوی نے بخوبی انجام دیے ۔پروگرام کے نظم وانتظام میں صفا کے تمام اراکین خصوصا مولانا ریحان رئیس ندوی ،مفتی عبد الخالق ندوی ،مولاناوکیل انوری ،مولانا عابدجمالی ،مولوی عبد العزیز ندوی ،مفتی شعیب سلیم انوری ،محمدزید انجینئر ،خلیل احمد ازہری ،انجینئر عبد اللہ حسان اور مفتی محمد ناظم ملی وغیرہ نے محنت وجدوجہد کی اور اپنا تعاون پیش کیا۔صفا فاؤنڈیشن کی جانب سے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ اس موضوع پر آئندہ بھی اصلاحی جدوجہد کا سلسلہ دراز رہے گا اور مفتی محمد حسنین محفوظ نعمانی صاحب کی سرپرستی میں بہت جلد شہرمیں کم ازکم دو مقامات پر کونسلنگ سینٹر بھی شروع کیے جائیں گے ان شاءاللہ! راقم کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔
نوٹ : جو حضرات یوٹیوب پر مفتی محمد اشفاق قاضی صاحب کا قیمتی محاضرہ اور تربیتی خطاب سننا چاہتے ہیں وہ اس لنک پر کلک کریں :

https://youtu.be/kTlRWi7E_lE?si=NgzQz98EcsB61RiI

جو حضرات مذکورہ کتاب حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ دئیے گئے نمبر پر رابطہ کریں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے