Ticker

6/recent/ticker-posts

جمعہ کے دن کو غیبت کا دن نہ بنائیں

غیبت اور لوگوں کی غلط فہمی
تحریر: مفتی محمد عامر یاسین ملی 

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک موقع پر فرمایا:
جب سے مجھے غیبت کے حرام ہونے کا پتہ چلا تب سے میں نے کسی کی غیبت نہیں کی، مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ سے میں اس حال میں ملوں گا کہ اللہ تعالیٰ غیبت کے سلسلہ میں مجھ سے حساب نہیں لیں گے؛ کیوں کہ میں نے کسی کی غیبت نہیں کی! (فتح الباری) 
سوال: کیا ہم بھی اپنے متعلق ایسا دعویٰ کرسکتے ہیں؟
ہر شخص(مردوعورت) اس کا جواب اپنے دل سے طلب کرے ! کہنے کو لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کہاں کسی کی غیبت کرتے ہیں ، ہم تو اظہار حقیقت کرتے ہیں یا ہم تو بس تذکرہ اور تبصرہ کرتے ہیں، یا ہم کونسی غلط بات کرتے ہیں؟ ایسا کہنا اور سوچنا لوگوں کی غلط فہمی ہے اور غیبت کی گندگی کو اچھی چیز ثابت کرنے کی ناکام کوشش ہے، حقیقت یہ ہے کہ کسی کے بھی پیٹھ پیچھے ایسی بات کہنا کہ اگر اسے معلوم ہو جائے تو اس کو برا لگے، یہ غیبت ہے ، اور اگر کہی گئی بات جھوٹ پر مبنی ہو تو وہ تہمت ہے ، اور تمہت بھی گناہ کبیرہ ہے ۔ عام دنوں میں بھی اور رمضان المبارک میں بطور خاص روزہ کی حالت میں جب کہ حلال کھانے پینے سے ہم رک جاتے ہیں ، غیبت جیسے حرام کام سے بھی بہت زیادہ بچنا چاہیے ۔

جمعہ کا دن یا غیبت کا دن؟
 
جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک جمعہ کا دن سارے دنوں میں سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ہفتہ کے تمام دنوں میں صرف جمعہ کے نام سے ہی قرآن کریم میں سورہ نازل ہوئی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا : اس میں ایک گھڑی ایسی ہے، جس میں کوئی مسلمان نماز پڑھے، اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو عنایت فرمادیتا ہے اور ہاتھ کے اشارے سے آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ وہ گھڑی مختصر سی ہے۔ (بخاری)

افسوس ! ہم نے غیبت کو اپنے معمولات کا لازمی حصہ بنالیا ہے، کیا مرد اور کیا عورتیں، کیا دیندار کیا بےدین، اور کیا تعلیم یافتہ اور کیا بے پڑھے لکھے لوگ، شاید کسی کی مجلس اور زبان غیبت سے پاک ہو ، بطورِ خاص خواتین اس معاملے میں انتہا کی حد تک ملوث ہوتی ہیں ، جب بھی دو خواتین آپس میں بات کرتی ہیں، ان کی گفتگو میں کسی تیسرے انسان کی غیبت ضرور ہوتی ہے الا ما شاءاللہ! ہمارے شہر میں تو گویا جمعہ کے دن کو غیبت کے لیے خاص کرلیا گیا ہے، ایک گھر کی بہو میکے میں جاکر اپنی سسرال کی غیبت کرتی ہے اور اسی گھر میں بیٹی آنے کے بعد اپنی سسرال کی غیبت کرتی ہے۔پھر اس غیبت کے گناہ کی نحوست پورا ہفتہ گھریلو جھگڑے اور آپسی ناچاقی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ کاش کہ لوگوں کو غیبت کے گناہ اور نقصان کا صحیح اندازہ ہوجائے تو شاید وہ گونگا اور بہرہ ہوجانا پسند کریں گے لیکن نہ کسی کی غیبت کریں گے نہ کسی کی غیبت سنیں گے اور وقت رہتے ان تمام لوگوں سے معافی مانگ لیں گے جن کی اب تک غیبت کی ہے !! حالانکہ یہ کام اتنا آسان بھی نہیں ، کیونکہ 

چھٹتی نہیں ہے منھ سے یہ کافر لگی ہوئی 

ہاں اگر پختہ عزم ہو تو غیبت کا چھوڑنا اتنا مشکل بھی نہیں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے