اس لئے والدین زندگی میں مال ھبہ کرسکتے ہیں
از:مفتی محمد عامریاسین ملی 8446393682
مسلم معاشرہ کےداخلی اورذاتی مسائل میں ایک اہم مسئلہ میراث کی بر وقت تقسیم نہ ہونا یا غیر منصفانہ تقسیم ہے، جس کے نتیجے میں وارثین یاتو محروم رہ جاتے ہیں یا ایسے وقت ان کواپناحق ملتاہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور ضرورت کاوقت نکل جاتا ہے ۔بہت سارے گھرانوں میں بھائی نے بہن کو اس وقت مرحوم باپ کے ترکہ میں سےحصہ دیاجب وہ بوڑھی ہو چکی تھی ، چنانچہ بہن نے یہ کہتے ہوئےاپنے درد کااظہار کیا کہ ’’جب دانت تھے توچنے نہیں تھے اور اب چنے ملے ہیں تودانت نہیں ‘‘۔
باپ کی میراث پر کچھ وارثین کا قابض ہو جانا اور چھوٹے بھائیوں خصوصاً بہنوں کو محروم رکھنا معاشرے میں بالکل عام چیز ہے یہ وہ ظلم ہے جس سے بظاہردین داراورعلم و شعور رکھنے والے افراد بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اگر چھوٹے بھائی بہن بڑےبھائی سے شرعی طورپرباپ کی میراث تقسیم کرنے کامطالبہ کرتے ہیں توایسی رنجش اورتنازعہ پیداہوتاہےکہ الامان والحفیظ ! سب سے پہلے تو بہنوں کے لیے میکہ کادروازہ بند کر دیاجاتاہے اورچھوٹے بھائی بہنوں پر بھی طرح طرح کے احسان جتائے جاتے ہیں ، بعض مرتبہ جائیداد اور ترکہ کا جھگڑا کورٹ کی دہلیز تک بھی پہنچ جاتاہے۔ایسے مسائل کی کثرت کااندازہ اس با ت سے لگایا جاسکتا ہے کہ دارالافتاء میں آنے والے سوالات کا ستر(70) فیصد حصہ میراث سے متعلق ہوتا ہے یہی وجہ ہےکہ آج بہت سارےسرپرست حضرات اور بوڑھے والدین اس بات کو لے کر فکر مند ہیں کہ ان کے دنیا سے رخصت ہونےکے بعدان کی اولاد بھی میراث کی تقسیم کو لے کر باہم اختلاف نہ کرے، خصوصاًان کی بیٹیاں محروم اور پریشان نہ ہوں۔
چنانچہ بعض والدین اپنی زندگی ہی میں اولاد کے درمیان جائیداد تقسیم کردیتے ہیں،اور یہی راہ موجودہ دور میں احتیاط کی ہے،اس لیے کہ مال کی ہوس اورزیادہ کی چاہت نے احسا س ومروّت اور صلہ رحمی محبت کے جذبات کو ایک طرح سے ختم کر دیا ہے،بالفاظ دیگر اب خون سفید ہوچکا ہے اور مال ودولت کی لالچ میں انسان اندھا ہوچکا ہے ، چنانچہ اس کو اب ایک حقیقی رشتے داروں کی تکلیف بھی نظرنہیں آتی، ہر ایک کوبس اپنے بیوی بچوں کی راحت و آرام کاخیال ہے۔
لھذا بہتر یہی ہے کہ جن حضرات کے لیے اپنی زندگی میں جائیداد کی تقسیم ممکن ہو وہ پہلے اپنی اوربیوی کی ضروریات کے لیے ایک مناسب رقم رکھ لیں اور پھر بقیہ جائیداد اولادکے درمیان برابربرابرتقسیم کردیں یہی افضل ہے اور انصاف کا تقاضا بھی ، البتہ اگرمیراث کے طو ر پر تقسیم کرناچاہیں یعنی دو بیٹیوں کے برابرایک بیٹے کو دیں تواس کی بھی گنجائش ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں تمام حقداروں کو ان کاحق مل سکے گا، اس طرح نہ کسی پر کوئی زیادتی کرسکے گا نہ کوئی محروم ہوگااور پھر سرپرست حضرات بھی آئندہ کے اندیشوں سے بے فکر اور مطمئن ہو جائیں گے۔
٭…٭…٭
2 تبصرے
جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء مفتی صاحب
جواب دیںحذف کریں💐
جواب دیںحذف کریں