محبت میں گرفتار نوجوان نسل

    قارئین! عشق و محبت اوردوستی کی بنیاد پر کی جانے والی شادیاں زیادہ تر ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں،جس کا مشاہدہ معاشرے میں ہم کرتے رہتے ہیں،پھر بھی موبائل اور انٹرنیٹ کے گھوڑے پر سوار محبت کے نشے میں مست نوجوان نسل ایسے واقعات سے عبرت حاصل کرنے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتی۔ آج پسند کی شادی کو لے کر نوجوانوں اور ان کے والدین میں اختلاف عام بات ہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنی محبت پانے کے لیے دیوانے ہوئے جارہے ہیں اور والدین ان کے مستقبل کو لے کر حیران و پریشان! زیر نظر تحریر جناب ساجد الرحمن نامی کسی رائٹر کے نام سے مجھے کئی سال پہلے ملی تھی جس میں حقائق و واقعات کی بنیاد پر محبت کی شادیوں کے نا خوشگوار انجام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ میں اس تحریر کو اپنی کتاب (رشتہ نے نکاح طے کرنے کا آسان طریقہ) میں بھی شامل کیا ہے اور اب اپنے بلاگ کے ذریعے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے جڑے اپنے نوجوان بھائی اور بہنوں تک پہنچا رہا ہوں۔ فھل من مد کر تو ہے کوئی جو عبرت و نصیحت حاصل کرے؟
  (محمد عامر یاسین ملی 8446393682)

مضمون نگار یہاں سے اپنی بات شروع کرتے ہیں👇

     میرے ایک انتہائی عزیز دوست کو ایک لڑکی سے محبت ہو گئی ۔ دن رات فون پرلمبی گفتگو اور صبح شام محبوبہ کی گلی کے چکر لگاتا۔ جب بھی ملاقات ہوتی ، اُسی حسینہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے پاتا۔ہر وقت خیالوں کی دنیامیں رہتا۔خیر وقت گزرتا گیا اور بات لیلیٰ مجنوں کے گھر والوں تک جاپہنچی ۔جب دونوں جانب بھڑکتی آگ کو دیکھا تو مزاحمت کے بجائے شادی کی تیاریاں شروع کر دیں گئیں۔مجھے بھی تقریب میں مدعو کیا گیا۔ شادی کی رسم خوب دھوم دھام سے ہوئی۔پریمی جوڑےکے درمیان ہونے والی گفتگو اور انداز کو دیکھ کر تقریب میں آئے مہمان نہ صرف رشک کر رہے تھے بلکہ ان کے لیےاچھے مستقبل اور خوشحالی کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ شادی کے چند ماہ بعد اچانک اُس عزیز سے ملاقات ہوئی اور بھابھی کے بارے میں پوچھا تو اس کے لہجے میں چاشنی اور آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی بلکہ میری بات سنتے ہی افسردہ ہو گیا ۔ کافی ٹال مٹول کے بعدموصوف نے بتایا کہ لیلیٰ ناراض ہو کر میکے چلی گئی ہے۔اس بات پر مجھے بہت حیرانی ہوئی مگر موقع کی مناسبت کو دیکھتے ہوئے میں نے اُسے تسلی دی اور گھر کی راہ لی۔ چند دن بعد معلوم ہوا کہ لیلیٰ کے گھر والوں کی جانب سے دباؤ اور عدالتی احکامات کے باعث مجنوں نے طلاق کے پیپر پر سائن کر دیئے ہیں اور یوں محض سات ماہ گزرنے کے بعد ایک پیار کی کہانی مکمل ہو گئی لیکن آخر ایسا کیا واقعہ پیش آیا کہ دونوں کی سالوں کی محبت چھوٹی چھوٹی رنجشوں کے سامنے ٹک نہ پائی۔ کافی غور وفکر اور تحقیق کرنے کے بعد اس گتھی کو سلجھانے میں مدد ملی۔

      اس بات میں کوئی شک نہیں کہ محبت ایک فطری عمل ہے اور ہمارے دین اسلام سے محبت کا گہرا رشتہ ہے۔ اخوت ،رواداری اورایثار محبت کے اہم جزو ہیں لیکن دور حاضر میں پیار یا محبت جیسے پاکیزہ رشتے میں بہت جلد دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ پیار کرنے والوں اورایک دوسر ے پر اپنی جان نچھاور کرنے والوں کی شادیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔شادی کے بعد کی بحث سے پہلے اگرمحبت کا جائزہ لیں تواس میں اخوت ، رواداری اور ایثار کے بجائے فلمی ڈائیلاگ اور تحفے تحائف کا زیادہ عمل دخل ہو تا ہے۔دونوں پریمی یہ سمجھتے ہیں کہ شادی کے بعد زندگی کسی ڈرامے یا فلم کے کردار کی طرح ہنسی خوشی گزر جائے گی لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ چند دنوں میں پروان چڑھنے والی محبت کے نتائج کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ محبت اور عشق کے جنون میں کی جانے والی دس میں سے آٹھ شادیاں محض چھ ماہ اور سال بھر کے عرصے میں ناکام ہوجاتی ہیں۔

    اس تحریر کا مقصد محبت کی شادی کو سرے سے غلط ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ دور حاضر میں شادی کے بعد پیش آنے والے مسائل کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ہے۔ ہمارے معاشرے میں محبت کے شکار نوجوان خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں لیکن شادی ہونے کے بعد جب ان کے کندھوں پر ذمہ داری کا بوجھ پڑتا ہے تو حقیقی زندگی ان کے لئے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے۔ اگر خواتین کا جائزہ لیں تو محبت میں بغیر سوچے سمجھے نہ جانے کیسے کیسے دعوے کیے جاتے ہیں مثلاً تمہارے ساتھ جھونپڑی میں رہ لوں گی وغیرہ وغیرہ ۔ یہ دعوے اکثر اس وقت کیے جاتے ہیں جب لڑکی کسی اچھے گھرانے سے تعلق رکھتی ہو جبکہ نوجوان کسی مڈل کلاس گھرانے کا چشم وچراغ ہو۔گھر سے بھاگ کر شادی کرنے کے بعد چاند تارے توڑنے کے دعوے کرنے والوں کومحض دن میں تارے نظر آتےہیں اور چند دن بعد ہی دونوں کا ایک ساتھ رہنا محال ہو جاتا ہے کیونکہ لڑکی کی ضروریات کو پورا کرنا اس مڈل کلاس مجنوں کے بس میں نہیں ہوتا اور بات طلاق تک جا پہنچتی ہے اور یوں لڑکی کی باقی ماندہ زندگی تنگ دستی اور کسمپرسی کی حالت میں گزر جاتی ہے۔
   شادی میں ناکامی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ محبت کے آغاز میں دونوں پریمی خودکو بے عیب سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کی کمزوریوں اور خامیوں کونظر انداز کر دیتے ہیں لیکن شادی کے بعد قوت برداشت نہ ہونے کے باعث نفرتیں جنم لینا شروع کر دیتی ہیں ۔ اکثر نوجوانوں کی محبت کی بنیاد ہی جھوٹ پر ٹکی ہو تی ہے۔شادی کی خاطراپنی حیثیت سے بڑھ کر بلندو بانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔مثلاًبطور سیلز مین کام کرنے والا خود کو کسی بڑی کمپنی کا منیجر بتاتا ہے۔لڑکی کے گھر والے بھی ہنسی خوشی بیاہ کر دیتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد بہت ہی بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔ مشکلات یہاں ختم نہیں ہوتیں بلکہ شروع ہوتی ہیں ۔ مسلم معاشرے میں طلاق یافتہ خواتین کواچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، بلکہ زیادہ تر کیسز میں تو عورت ہی کو ذمے دار ٹھہرا یا جاتا ہے۔ طلاق کے بعد نسبتاً مرد کے بجائے عورت کو دوسری شادی کے لیے کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    اس ساری بحث کا مقصد نوجوان نسل کو یہ باور کروانا ہے کہ خیالی دنیا سے نکل کر حقیقت کو اپنائیں۔ عفو درگزر سے کام لیں اور بلند وبانگ دعوؤں سے پرہیز کریں۔ رشتوں میں انا کو آڑے آنے نہ دیں ، خاص طور پر اگر شادی ہوچکی ہے تو محبّت کے رشتے کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں اور ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کر یں اور شادی نہ ہوئی ہو تو والدین کی پسند کو ترجیح دیں اور ان کے مشورہ کو نظر انداز نہ کریں!
٭…٭…٭
نوٹ: بعض لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہىں اور پھر کسی وجہ سے اب اس محبت کو دل سے نکالنا چاہتے ہیں، تو ہر نماز کے بعد مندرجہ ذیل دعائیں پڑھا کریں، اللہ تعالی بہتری کا معاملہ فرمائیں گے ان شاء اللہ! 

(الف) ’’اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَن یُحِبُّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُ إِلٰى حُبِّكَ.‘‘

اے اللہ! میں آپ کی محبت،آپ سے محبت کرنے والے شخص کی محبت اور اس عمل کا جو مجھے آپ کی محبت تک پہنچا دے،کا سوال کرتا ہوں۔

(ب) ’’اَللّٰهُمَّ أعِنِّيْ عَلىٰ ذِكْرِكَ وَ شُکرِكَ وَ حُسنِ عِبَادَتِكَ.‘‘

اے اللہ! اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہتر انداز میں اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔  

روزانہ دو رکعت نفل توبہ اور حاجت کا ارادہ دل میں رکھ کر پڑھیں، اور اس کے بعد یہ دعا سات مرتبہ مانگیں:

"اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُكَ الْھُدىٰ وَالتُّقىٰ وَالْعَفَافَ وَالْغِنىٰ"( مسلم :رقم ۲۷۲۱)

اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں۔

   استغفار کی کثرت کریں اور اپنے ماحول کوتبدیل کریں، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں نیز اس شخص سے دور رہیں، اس سے نہ ملیں، نہ اُسے سوچیں، خود کو نیک اعمال یا بامقصد جائز کاموں میں اتنا مصروف رکھیں کہ اس طرف دھیان ہی نہ رہے۔ فقط واللہ اعلم