Ticker

6/recent/ticker-posts

رجب کے فضائل و مسائل


     محترم قارئین! ماہ رجب المرجب کا آغاز ہوچکا ہے بحیثیت مسلمان ہمارے لئے ضروری ہے کہ اسلامی مہینوں کے فضائل و مسائل سے واقف رہیں تاکہ ان مہینوں کی صحیح انداز میں قدر دانی کرسکیں۔ اسی غرض سے ذیل میں حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب مدظلہ ( سابق ناظم امارات شرعیہ بہار و اڑیسہ) کی رجب المرجب سے متعلق ایک اہم اور مدلل تحریر پیش کی جارہی ہے۔
رجب المرجب:
اسلامی سال کا ساتواں مہینہ رجب المرجب ہے۔رجب کا معنی تعظیم کرنا ہے۔علامہ رافعی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:’’والترجیب التعظیم،سمی بہ لأنھم کانوا یعظمونہ ولا یستحلون فیہ القتال‘‘۔(التدوین فی اخبار قزوین)
(اورترجیب کے معنی تعظیم کے ہیں،اہل عرب اس مہینہ کو رجب سے اس لیے موسوم کرتے تھے کہ وہ اس مہینے کی تعظیم کیاکرتے تھے اوراس میں لڑنا حرام سمجھتے تھے۔)
اس مہینے کی سب سے پہلی خصوصیت اس مہینے کا اشہر حرم میں ہونا ہے۔ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’إن الزمان قد استدار کھیئتہ یوم خلق السموات والأرض، السنۃ اثنا عشر شھرًا،منھا أربعۃ حرم،ثلاثۃ متوالیات: ذوالقعدۃ، وذوالحجۃ  والمحرم ورجب مضر الذی بین جمادی و شعبان‘‘۔(بخاری)
(بے شک زمانہ پھر اپنی اسی حالت پر آگیا ہے،جس پر اللہ نے آسمان وزمین کو پیدا کیا تھا،سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے،ان میں چار مہینے حرمت والے ہیں، تین لگاتار؛یعنی ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اورمحرم،جبکہ چوتھا رجب مضر ہے جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے۔)
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں:
’’ملت ابراہیمی میں یہ چار مہینے ادب واحترام کے تھے،اللہ تعالیٰ نے ان کی حرمت کو برقراررکھا اورمشرکین عرب نے جو اس میں تحریف کی تھی،اس کی نفی فرمادی‘‘۔(معارف القرآن للکاندھلوی)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رجب کے مہینہ کا چاند دیکھتے تو یہ دعا فرمایاکرتے تھے:’’اللّٰھم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغنا رمضان‘‘۔(مسند احمد)(اے اللہ ہمارے لیے رجب اورشعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچادے۔)
ملاعلی قاری علیہ الرحمہ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں:
’’ان مہینوں میں ہماری طاعت وعبادت میں برکت عطا فرما اورہماری عمر لمبی کرکے رمضان تک پہنچا،تاکہ رمضان کے اعمال روزہ اورتراویح وغیرہ کی سعادت حاصل کریں‘‘۔ (مرقاۃ المفاتیح)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں:
’’خمس لیال لا ترد فیھن الدعاء:لیلۃ الجمعۃ،وأول لیلۃ من رجب، ولیلۃ النصف من شعبان،ولیلی العیدین‘‘۔(مصنف عبدالرزاق)
(پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی،وہ شب جمعہ،رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات،عیدالفطر کی رات اورعیدالاضحی کی رات ہے)
اس مہینہ میں روزہ سے متعلق حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا:’’دوسری حیثیت رجب میں صرف شہر حرم ہونے کی ہے،جو اس میں اور بقیہ اشہر حرم میں مشترک ہے،پہلی حیثیت سے قطع نظر صرف اس دوسری حیثیت سے اس میں روزہ رکھنے کو مندوب فرمایاگیا‘‘۔(امداد الفتاویٰ)
اسلام سے قبل ہی سے ماہ رجب میں بہت سی رسومات اورمنکرات رائج تھیں،جن کو اسلام نے یکسر ختم کرکے رکھ دیا،ان میں رجب کے مہینے میں قربانی کا اہتمام،جس کو حدیث پاک میں عتیرہ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے،اسی مہینے میں زکوٰۃ کی ادائیگی اورپھر موجودہ زمانہ میںان کے علاوہ بی بی فاطمہ کی کہانی،۲۲؍رجب کے کونڈوں کی رسم،۲۷؍رجب کی شب میں ’’جشن شب معراج‘‘اوراگلے دن روزہ جس کو’’ہزاری روزہ‘‘کہاجاتا ہے،وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ایسی رسومات وبدعات ہیں،جن کا اسلام میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے