گناہ کی تشہیر بھی گناہ ہے
از : مفتی محمد عامر یاسین ملی (8446393682)
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا“۔ ( ترمذی)
اس حدیث کو پڑھنے کے بعد اپنے آس پاس نگاہ دوڑائیے، جب سے سوشل میڈیا عام ہوا ہے، ایک دوسرے کی برائیوں اور عیبوں کو بیان کرنا اور پھیلانا لوگوں کا آسان اور دلچسپ مشغلہ بن گیا ہے، اگر کہیں سے کسی شخص کی کوئی ویڈیو یا تصویر وائرل ہو جائے، تودیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے، خواہ وہ سچی ہو یا جھوٹی، جب تک اسے سارے گروپس میں شیئر نہ کردیا جائے لوگوں کو اطمینان نہیں ملتا ، حالانکہ برائی کو پھیلانا بھی ایک برائی اور گناہ ہے، جس کے نتیجے میں اس گناہ سے ناواقف لوگوں خصوصا بچوں اور سادا ذہن خواتین پر انتہائی خراب اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انسان غلطیوں کا پتلا ہے، غلطی اور گناہ انسان ہی سے صادر ہوتے ہیں ، لہذا بڑے سے بڑا گناہ بھی کسی سے سرزد ہوتو دوسروں کے سامنے اس کا ذکر کرنے ،چرچہ کرنے اور سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے اس کی تشہیر سے بچیں،ممکن ہوتو اس سے براہ راست مل کر یا قریب بلاکر محبت سے سمجھانے کی کوشش کریں، ہوسکتاہے کہ اللہ تعالی آپ کی مخلصانہ باتوں کو اس کے دل میں اتار دے اور وہ گناہوں سے تائب ہوجائے۔
اگر کسی کا کوئی گناہ سامنے آجائے تو اس کے لیے اور اس کے والدین کے لیے عذرتلاش کریں اور یہ سوچیں کہ کیا اس کی جگہ میرا کوئی عزیز ہوتا تو کیا اس وقت بھی میں اس کو برا سمجھتا یا اس کے گناہوں کو پھیلانے کی کوشش کرتا، یا پھر میں کسی طرح کی تاویل اور عذر کرکے اس کو بچانے یا اس کے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا، دوسروں کی سترپوشی اور عیوب پرپردہ ڈالنے کی عادت اور صفت رب ستارالعیوب و غفار الذنوب کو اتنی پسند ہے کہ اس نے قیامت کے روز اپنے ایسے بندوں کی ستاری کا وعدہ فرمایا ہے. اس کے برعکس کسی مسلمان کے عیب اور گناہ کو پھیلانا اللہ پاک کو سخت ناپسندید ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد ہے کہ جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کی پردہ پوشی کریں گے، اور جو شخص مسلمان کی پردہ دری یعنی اس کے عیوب کو لوگوں میں بیان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی پردہ دری کرتے ہیں، چنانچہ وہ اپنے گھر میں (چھپ کر) کوئی عیب کرتا ہے تب بھی اللہ اس کو ذلیل کردیتے ہیں۔ (ابن ماجہ)
کاش کہ عام مسلمانوں خصوصاسوشل میڈیا استعمال کرنے والے ہمارے بھائی بہنوں کو یہ بات سمجھ میں آجائے۔
اسی کے ساتھ یہ بھی خیال رہے کہ جب کوئی گناہ گار توبہ کرلے تو اس کو پہلے ہی کی طرح عزت دیں، اس کے اور اس کی اولاد کے رشتے کو قبول کریں۔یاد رکھیں!نفرت گناہ سے ہو گناہ گار سے نہیں، اورتوبہ کرنے کے بعدتو ہرگز کسی گناہ گار کے ساتھ نامناسب یا حقیر رویہ اختیار نہ کریں،کہ وہ دوبارہ گناہ کی دنیا میں لوٹ جائے،اگر ہم کسی کی ہدایت کا ذریعہ نہیں بن سکتے تو کم از کم کسی کی گمراہی کا سبب بھی نہ بنیں۔ برائیوں پر محض تنقید آسان ہے، لیکن برائی کو اچھائی سے بدلنا ،یہ مومن کی شان ہے۔
عریانیوں پہ شوق سے تنقید کیجئے
چادربھی کوئی دیجئےدرس حیاکےساتھ
اگر کسی ایسے شخص کی پردہ دری کی جارہی ہے اور اس کو ذلیل کیا جارہا ہے جو اپنے گناہ سے توبہ کرچکا ہو تو اس کا دفاع کیجئے، اس لئے کہ اس کا وبال بہت بڑا ہے، سنن ترمذی کی یہ حدیث شریف پڑھ لیجئے،دل دہل جائے گا!آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص اپنے کسی بھائی کو اس کے کسی گناہ پر شرم دلائے گا یعنی طعنہ دے گاتو مرنے سے پہلے اس گناہ کے اندر اللہ تعالی خود اس کو مبتلاکردیں گے۔
یاد رکھیے! دوسروں کو عاردلانا ، کسی کی دل آزاری کرنا اور طعنہ دینا ، یہ وہ عادتیں وخصلتیں ہیں جن کا جیتے جی بُرا نتیجہ اللہ تعالی دنیا ہی میں دکھادیتے ہیں۔
لہذا کسی کا کوئی عیب اور گناہ نظر آئے تو
1) اولا اس کو چھپانے کی کوشش کریں۔
2) اس کو حکمت سے روکیں ۔
3) اس شخص کے سرپرست کو خاموشی سے باخبر کریں۔
4) خدا سے اس کی ہدایت کے لئے دعا کریں۔
5) اس گناہ کو کسی بھی ذریعے خصوصا سوشل میڈیا پر تو ہرگز شیئر نہ کریں اس سے پوری قوم بدنام ہوتی ہے۔
6) اگر کوئی شخص اپنے گناہ سے توبہ کرلے تو بعد میں اس کو شرمندہ نہ کریں اور طعنہ نہ دیں۔
7) اپنے ان گناہوں کو یاد کریں جن پر خدا نے اپنی ستاری کی چادر ڈال رکھی ہے۔
نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنےخبررہےدیکھتےاوروں کے عیب وہنر
پڑی اپنی برائیوں پہ جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
8) اللہ پاک سے التجا کریں کہ وہ ہمیں ایسی رسوائی سے بچائے ، دنیا میں بھی اور حشر کے میدان میں بھی ، جہاں سارے انسان جمع ہوں گے ، نامہ اعمال کھول دیا جائے گا، انسان کی زبان پر مہر لگادی جائے گی اور اس کے ہاتھ اور پیر بتائیں گے کہ اس نے دنیا میں کیسے اعمال انجام دیے تھے ۔
اللہ پاک ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور ہمارے عیبوں کی پردہ پوشی فرمائے۔ آمین
***
1 تبصرے
بہت خوب
جواب دیںحذف کریں💐