ماہ ربیع الاول اور ہماری ذمہ داریاں!
تحریر: مفتی محمد عامر یاسین ملی
(مالیگاؤں 8446393682)
ربیع الاول کے بابرکت مہینہ کی آمد ہوچکی ہے، اس مہینے کے آتے ہی سرورکائنا ت جناب محمد رسول ﷲ ﷺ کی ولادت باسعادت اور وفات حسرت آیات کے واقعات ذہنوں میں تازہ ہو جاتے ہیں، یوں تو سال بھر ہی سیرت طیبہ کے عنوان سے تحریروتقریر کاسلسلہ جاری رہتاہے لیکن ربیع الاول کے مہینے میں بطورخاص سیرت طیبہ کے عنوان پر جلسے منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں مقررین سیدالاولین والآخرین جناب محمد رسول ﷲ ﷺ کے فضائل و مناقب اورآپ کی زندگی کے تابناک گوشوں کواجاگرکرتے ہیں، تا کہ سننے والوں کے دلوں میں آپ ﷺ کی عظمت ومحبت بھی پیداہو اور آپ کی اطاعت و پیروی کا جذبہ بھی بیدار ہو، سیرت کے جلسوں میں اہل ایمان کا ہجوم دیکھ کر دل یہ گواہی دیتاہے کہ الحاد و دہریت ،کفروشرک ،فسق و فجور اور بدعملی و بے راہ روی کے اس ماحول میں بھی امت اپنے محبوب نبی ﷺ سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور آپ کی ذات ہی کو اپنے لئے نمونہ اور رہنما تسلیم کرتی ہے ۔
ربیع الاول کے مہینے میں اہل ایمان کی مختلف سرگرمیوں اور اپنے پیغمبر سے بے پناہ محبت کے جذبات کو دیکھ کر غیر مسلم قومیں بھی متاثر ہوتی ہیں، اور ان کے نہاں خانہ دل میں مسلمانوں کے پیغمبر کوجاننے اور آپ کی سیرت وسوانح سے واقف ہونے کا داعیہ پیدا ہوتاہے،لیکن اس کے لیے وہ قرآن وحدیث کامطالعہ نہیں کرتیں بلکہ اہل ایمان کی زندگیوں کاجائزہ لیتی ہیں، عظیم مفسر قرآن اور بے مثال ادیب حضرت مولانا عبدالماجد دریابادی ؒ فرماتے ہیں:
’’ ہندو اور پارسی ، عیسائی اور یہودی، سکھ اور جین ، تمام غیرمسلم قومیں جو آج ہمارے آقا و سردار کی زندگی سے واقف ہونا چاہتی ہیں ، ان میں سے کوئی قرآن کا مطالعہ نہیں کرتیں، دفتر احادیث کی ورق گردانی نہیں کرتیں، سیرت و شمائل نبوی پر عشاق کے قلم نے جو ضخیم مجلدات تیار کردیے ہیں ان کی الٹ پلٹ کی فرصت نہیں رکھتیں ، وہ تو صرف ہماری زندگی کو دیکھتی ہیں ، امت کی سیرت سے رسولﷺکی سیرت کا ، پیروکاروں کے اخلاق سے امام کے اخلاق کا اندازہ لگاتی ہیں۔"
قارئین! دکھ کے ساتھ لکھنا پڑرہاہے کہ غیر مسلم قومیں رحمت عالم ﷺ کی زندگی کو جاننے کے لیے جب مسلم معاشرے کارخ کرتی ہیں تو بڑی حد تک انہیں مایوسی کا سامنا ہوتا ہے،اس لیے کہ امت محمدیہ کے ایک بڑے طبقے نے رفتا ر و گفتار، لباس و پوشاک، اخلاق و کردار، معاملا ت و معاشرت اورتعلیم و تہذیب ہر شعبے میں غیروں کی روش اوراعدائے اسلام کے طرز زندگی کواپنا لیاہے، اسے نہ اپنے ایمان کی فکر ہے نہ عبادتوں کااہتمام، نہ معاملات کی صفائی کا التزام ہے نہ معاشرت کی اچھائی پر توجہ، نہ اخلاق کی بلندی حاصل ہے نہ کردار کی پاکیزگی ،امت اپنے نبی سے محبت کا زبانی دعویٰ توخوب کرتی ہے لیکن عملی طور آج بھی ایک بڑا طبقہ اسوۂ حسنہ سے کوسوں دور ہے، غرض کہ محب و محبوب ،تابع و متبوع اور امتی اوراس کے نبی کی زندگی میں کوئی خاص یکسانیت اور مماثلت دکھائی نہیں دیتی،اِلّا ماشاء اللہ!
ہر سال جب بھی ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے تو چند خوشنما نعروں اور بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ سڑکوں پر آ کر اہل دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جس پیغمبر کے ہم نام لیوا ہیں، ہم ان کے غلام ہیں اور کسی حال میں ان کا دامن نہیں چھوڑ سکتے ،اس موقع پر شاید یہ بات بھلا دی جاتی ہے کہ ہردعویٰ دلیل کا محتاج ہوتا ہے،اور حقیقی محبت محبوب کی اطاعت پر آمادہ کرنے والی ہوتی ہے، ﷲ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو جس قدر قابل تعریف بنایا اسی قدر قابل تقلید بھی بنایا تا کہ آپ کے امتی آپ کی تعظیم و تقلید کرکے کامیاب و بامرادہو جائیں۔ بقول شاعر
دو جہاں کی کامیابی گر تجھے درکار ہے
ان کا دامن تھام لے جن کامحمد نا م ہے
ﷲ کرے کہ یہ بات ہماری سمجھ میں آجائے کہ نبی کریم ﷺ کی محبت کے ساتھ آپ کی اطاعت بھی لازمی چیز ہے،اگر ہماری محبت سچی ہے تو یقیناہماری زندگی بھی اسوۂ حسنہ کے مطابق بسر ہوگی، اور جس دن ایسا ہوجائے گا تو نہ صرف اہل ایمان کی کایا پلٹ جائے گی بلکہ دولت ایمان سے محروم افراد بھی رحمۃ للعالمین ﷺ کی امت کی زندگیوں میں آپ کی زندگی کا نمونہ دیکھ کر اسلام سے قریب آجائیں گے۔اخیر میں پھر حضرت مولانا عبدالماجد دریابادی ؒ کی حقیقت پر مبنی باتوں کو نقل کرکے اپنی تحریر مکمل کروں گا کہ
’’ غیروں کی نگاہ میں اپنے محبوب آقاﷺکو نیک نام یا (خدانخواستہ) بدنام کرنا اس وقت ہمارے اختیار میں ہے ۔ پس اے بھائیو اور بزرگو، دوستو اور عزیزو! اپنی ناپاک زندگیوں سے اس پاک زندگی میں داغ نہ لگائو ، اور کوشش کرو ،کہ اس پاک و صاف ، روشن اور بے داغ زندگی کا کچھ ہلکا سا نمونہ تو ہماری اور تمہاری زندگیوں میں بھی نظر آنے لگے!‘‘
٭…٭…٭
1 تبصرے
ماشاء اللہ
جواب دیںحذف کریں