از: مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق مکمل رہنمائی موجود ہے، اس مذہب کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنے پیروکاروں کو اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ وہ اس طرح زندگی گزاریں کہ ان کی ذات سے کسی دوسرے انسان (مسلم یا غیر مسلم) کو تکلیف نہ پہونچے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (متفق علیہ )
ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ قسم اللہ کی وہ مومن نہیں !صحابہ کرام نے پوچھا اللہ کے رسول کون؟ آپ نے ارشاد فرمایا: جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ (بخاری)
ان احادیث کا تقاضہ یہ ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت اس بات کی بھرپور کوشش کرے کہ اس کی ذات سے کسی بھی مسلمان بلکہ عام انسان کی جان ، مال اور عزت و آبرو کو نقصان نہ پہونچے خواہ وہ گھر میں ہو یا گھر کے باہر، بطور خاص راستہ چلتے ہوئے اس بات کا خیال رکھے کہ اس کی سواری سے راہ گیروں کو تکلیف نہ پہونچے ۔
اسلام نے راستہ چلنے کے متعلق بڑی اہم ہدایات اپنے پیروکاروں کو دی ہیں، قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل قسم کے لوگوں سے ان کا سامنا ہوتا ہے تو سلام کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں ۔(سورہ فرقان)اسی طرح سورہ بنی اسرائیل میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں: زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔
ان دونوں آیات میں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ مسلمان راہ چلتے ہوئے اعتدال کو پیش نظر رکھیں ، ان کی رفتار نہ اتنی زیادہ ہو کہ لوگ تماشہ دیکھیں اور نہ اتنی سست ہو کہ لوگوں کو یہ خیال ہو کہ کوئی بیمار راستہ چل رہا ہے ۔راہ چلتے ہوئے اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ ایسی جگہ اپنی سواری نہ روکی جائے جس کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو دشواری پیش آئے۔ مسلم معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ یہاں لوگ راہ چلتے ہوئے اسلامی ہدایات اور ٹریفک قوانین کا عموما پاس و لحاظ نہیں رکھتے ، ہر شخص اپنے حساب سے راستہ طے کرتا ہے،بطور خاص ٹھیلہ گاڑی اور رکشہ چلانے والے حضرات کسی بھی جگہ اپنی سواری کھڑی کردیتے ہیں ، اسی طرح بازاروں میں لوگ بے ترتیب انداز میں اپنی سواریاں کھڑی کر کے خرید و فروخت میں مشغول ہوجاتے ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دینی پروگراموں بلکہ مسجدوں میں عبادت کے لئے آنے والے دین دار افراد بھی بے ترتیب اور بے ڈھنگے انداز میں سڑکوں پر یا کسی بھی شخص کی دکان اور مکان کے سامنے اپنی سواریاں لگادیتے ہیں جس کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو حد درجہ تکلیف کا سامنا ہوتا ہے ۔ لیکن بے حسی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے،سواری لگانے والوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ معلوم ہونا چاہئے کہ مسلمان کو تکلیف دینا حرام ہے اور راہ چلتے ہوئے ٹھہر جانا، یا راستے پر اپنی سواری لگا کر قبضہ کرلینا یہ دوسروں کو تکلیف دینا ہی ہے ۔ یہ وہ گناہ ہے کہ جب تک بندے معاف نہ کردیں اللہ کی بارگاہ سے بھی معافی نہیں مل سکتی۔
یہ مزاج بھی بالکل عام ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ راستوں پر بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں بلکہ ہوٹلوں اور چوراہوں پر دیررات تک کرسیاں لگاکر گپ شپ میں مشغول رہتے ہیں۔جس کی وجہ سے وسیع اور کشادہ راستے بھی انتہائی تنگ ہوجاتے ہیں۔ یہ اس قوم کا حال ہے جس کو راستے کے حقوق بتائے گئے ہیں اور راہ چلنے کا سلیقہ سکھایا گیا ہے۔ بقول شاعر
راہ خود بھول گئے راہ دکھانے والے
کیسے پھر ساتھ چلیں گے یہ زمانے والے
احادیث میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ راستے پر اس طرح نہ بیٹھاجائے کہ راستہ تنگ ہوجائے اور راہ گیروں کو تکلیف ہو، نگاہ نیچی رکھی جائے ، سلام کا جواب دیاجائے ، بھولے بھٹکوں کو راستہ بتایاجائے، مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کی جائے،بھلی باتوں کا حکم دیاجائے اور بری باتوں سے دوسروں کو روکا جائے۔ یہ راستے کے حقوق ہیں، غور کرنا چاہئے کہ ہم ان حقوق کی ادائیگی کا کتنا اہتمام کرتے ہیں؟ ٭…٭…٭
0 تبصرے