حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک خاتون کو نکاح کا پیغام بھیجا،رسول اللہ ﷺ کےسامنےجب میں نے اپنے اس ارادے کا اظہار کیاتو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا تم نے اس خاتون کو دیکھا ہے ، میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا تونہیں ہے،تو آپ ﷺ نے فرمایا ایک نظر دیکھ لو، یہ اس مقصد کے لیے زیادہ مفیدہوگاکہ تم دونوں میں الفت و محبت اور خوش گواری رہے۔(ترمذی)
قارئین! رشتہ نکاح کا انتخاب ازدواجی زندگی کا سنگ بنیاد ہے،یہ انتخاب اگر درست ہو توازدواجی زندگی خوشگوار ہوتی ہے، اور اگر اس انتخاب میں کوئی غلطی ہوجائے تو اس کے انتہائی خراب اثرا ت آئندہ کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ رشتہ نکاح کے انتخاب کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ نے دو بنیادی ہدایات دی ہیں، پہلی یہ کہ دین داری ، اچھی سیرت اور عمدہ اخلاق کو رشتہ نکاح کی بنیاد بنایا جائے،اور دوسری یہ کہ جس خاتون سے رشتہ طے کرنا مقصود ہو ، نکاح سے قبل اس کوایک نظر دیکھ لیا جائے،اس کی حکمت ومصلحت بھی آپ ﷺ نے بیان فرمائی کہ اس کے ذریعے باہمی محبت پائیدار ہوتی ہے ،البتہ دیکھنے کے اس عمل میں تین باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے۔
(۱) کسی جگہ رشتہ کی بات جب قریب قریب طے ہو جائے اور دیگر حالات معلوم کرکے دل بھی مطمئن ہو جائے تب نکاح کی سنت کی تکمیل کے مقصد سے لڑکی کو ایک نظر دیکھا جائے۔
(۲) یہ دیکھنا بار بار نہ ہو اور تنہائی میں ملاقات یا نکاح سے قبل بات چیت سے گریز کیا جائے.
(۳) بہتر یہ ہے کہ لڑکی کے کسی محرم کی موجودگی میں دیکھا جائے، اور اگرکسی تدبیر سے چھپ کردیکھ لیاجائے تو زیادہ بہتر ہے تاکہ انکار کی صورت میں لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو ناگوار نہ گزرے۔
قارئین !رشتہ نکاح کے سلسلے میں اسلام کی یہ وہ زرین تعلیمات ہیں جن کو نظر انداز کرنےکے نتیجے میں بڑے نقصانات سامنے آرہے ہیں۔ چند ماہ قبل(جامعہ ابوالحسن علی ندوی کے دارالافتاء میں جہاں راقم فتوی نویسی کی خدمت انجام دیتا ہے) میرے پاس ایک نوجوان آیا،جس نے نکاح کے چند ہی روز کے بعد بیوی کے ساتھ رھنے سے معذوری ظاہر کر دی،میں نے وجہ معلوم کی تو کہنے لگا کہ نکاح سے قبل جس وقت میں لڑکی کو دیکھنے کے لیے گیا تو لڑکی میرے سامنے دوپٹے سے اپنا چہرہ ڈھانک کر اس طرح آئی کہ کوشش کے باوجودمجھے اس کا چہرہ نظر نہیں آیا، میں نےاسی وقت اپنی بڑی بہن کے ذریعے اس کی والدہ سے یہ بات کہی تو انہوں نےکہا کہ ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو اسی طرح دکھایا جاتاہے، میں نے واپس آنے کے بعد اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے یہ رشتہ پسند نہیں ہے،لیکن والدہ نے کہنا تھا کہ انکارکرنا مناسب نہیں ہے، اور پھر اس طرح میری رضا مندی کے بغیر نکاح کر دیاگیا۔
اس طرح کے بہت سارے واقعات آج معاشرے میں پیش آرہے ہیں جس کی بنیادی وجہ نکاح سے قبل لڑکااور لڑکی کا ایک دوسرے کو نہ دیکھنا یا ایک دوسرے کو پسند نہ کرنا بھی ہے۔ سرپرستوں کو اس سلسلے میں غور کرناچاہیے اورخاندانی روایات کے بجائے اسلامی ہدایات پر عمل کرنا چاہئے، یہ بات بھی سمجھنی چاہئے کہ حدیث شریف میں گرچہ دیکھنے کی نسبت مرد کی جانب کی گئی ہے لیکن اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ اسی بہانے لڑکی بھی اپنے ہونے والے شوہر کو ایک نظر دیکھ لیتی ہے۔ لہٰذا اگر لڑکا از خود نہ دیکھنا چاہے تب بھی اسے اس نیت کے ساتھ لڑکی کو دیکھنا چاہئے کہ اسی بہانے لڑکی اسے دیکھ لے گی۔ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک دوسرے کو دیکھنے کے بعد خود لڑکی نے رشتہ سے انکار کر دیا ہے، ظاہر سی بات ہے اگر دیکھےبغیر ان کا نکاح کر دیاجاتا تو آئندہ کی ازدواجی زندگی میں بڑی دشواری سامنے آتی ۔
موجودہ دور میں نوجوان ازدواجی جوڑوں کے درمیان پائی جانے والی ناچاقیوں اور نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں والدین سے بغاوت ، کورٹ میرج ، اورخود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک بڑا سبب رشتہ نکاح کے انتخاب میں ان کی پسند اور ناپسند کو نظر انداز کرنا اور والدین کا اپنی مرضی ان پر مسلط کرنا بھی ہے۔ اس طرح کے حادثات سے بچنے اور ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے حدیث شریف میں دی گئی ہدایت پر عمل کرناضروری ہے۔ سرپرستوں اور اہلکار حضرات( رشتہ لگانے والے افراد) کو اس سلسلے میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
٭…٭…٭
4 تبصرے
ماشاء اللہ بہت خوب اللہ آپ علم عمل اور قلم مزید اضافہ فرماے
جواب دیںحذف کریںبھت عمدہ تحریر ہے۔۔مفید بھی۔۔۔جزاک اللہ خیر
جواب دیںحذف کریںاللہ آپکو مزید ترقیات عطافرمائے۔
جواب دیںحذف کریںماشاء اللہ بہت خوب
جواب دیںحذف کریں