Ticker

6/recent/ticker-posts

رشتہ نکاح کا انتخاب والدین کی مرضی سے ہو یا اولاد کی ؟

 

رشتہ کا انتخاب والدین کی مرضی سے ہو یااولاد کی؟؟

از قلم: مفتی محمد عامر یاسین ملی

8446393682

اولاد کے بالغ ہونے کے بعد والدین کے لئے سب سے زیادہ فکرمندی کی کوئی بات اگر ہوتی ہے تو وہ ان کے لئے مناسب رشتے کی تلاش ہوتی ہے۔ آج سے بیس تیس اور چالیس سال پہلے ماحول یہ تھا کہ ماں باپ جس جگہ بھی مناسب سمجھتے اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے رشتہ طے کردیتے اور اولاد بھی بلا چوں چرا اس رشتے کو تسلیم کر لیتی یہاں تک کہ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو دیکھنے کا بھی مطالبہ نہیں کرتے تھے لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا تعلیم کا معیار بلند سے بلند ہوتا گیا اوراخلاق اور کردار کا معیار گرتا گیا

بقول شاعر

اخلاق کی دنیامیں اتنا ہی اندھیرا ہےت

علیم کی جس درجہ بڑھتی گئی تنویریں

اب بالغ ہوتے ہی بچے اپنے اپنے شریک حیات کی تلاش شروع کر دیتے ہیں اور وقت آنے پر والدین کے سامنے اس کا اظہار بھی کر دیتے ہیں،مخلوط نظام تعلیم اور اور موبائل عام ہوجانے کے سبب اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے، اس معاملے کو لے کر بہت سارے والدین اور سرپرست حضرات حیران و پریشان ہیں، اور اس لیے بھی زیادہ فکر مند ہیں کہ اولاد کی رضامندی کا خیال نہ رکھنے کے نتیجے میں یا تو وہ شادی سے پہلے ہی کوئی غلط قدم ( گھر سے فرار یا خودکشی )اٹھالیتے ہیں یا پھر مرضی نہ ہونے کی وجہ سے شادی کے فورا بعد طلاق کی نوبت آجاتی ہے ۔

    حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے رشتہ طے کرنے کے سلسلے میں سرپرست حضرات اور اولاد کے اختیارات کے عنوان پر انتہائی معتدل اور متوازن بات لکھی ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسی بات کو پیش کر دیا جائے، مجھے امید ہے کہ اگر اولاد اور سرپرست حضرات اس سلسلے میں اپنے اختیارات کو سمجھ لیں اور شرعی حدود کا خیال رکھیں تو رشتہ طے کرنے کے سلسلے میں اولاد اور ماں باپ کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات ختم ہو سکتے ہیں،میں تمام سرپرست حضرات اور نوجوان بھائی اور بہنوں سے گزارش کروں گا کہ وہ اس تحریر کو بغور پڑھیں: حضرت مولانا لکھتے ہیں کہ

" رشتے طے کرنے میں سرپرست کا مشورہ اور اس سے بڑھ کر عاقدین کی رضامندی کو اہمیت دی جائے، جب تک لڑکے اور لڑکیاں نابالغ ہوں، اس وقت تک تو تعلیم و تربیت کے علاوہ دیگر معاملاتِ زندگی میں بھی گارجین اہم کردار ادا کرتے ہیں، معاملہ خریدوفروخت کا ہو یا ہبہ کا، یا بچوں کی تعلیم و تربیت کا، ان سب کو طے کرنا گارجین کا حق بھی ہے اور اس کی ذمہ داری بھی؛ لیکن جب یہ بالغ ہو جائیں تو گارجین کا رول مشورہ تک محدود ہو جاتا ہے، بعض مخصوص صورتوں کے سوا باپ، دادا اولاد پر اپنا فیصلہ تھوپ نہیں سکتے ؛ لیکن کوئی تجربہ کار شخص اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ نوجوانوں کاجوش وخروش بڑوں کی رہنمائی کے بغیر اپنا سفر طئے کرے تو اکثر ناکامی ہی حصہ میں آتی ہے، خاص کر نکاح کے معاملہ میں عموماََ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شکل و صورت سے متأثر ہوتے ہیں، تعلیمی اداروں اور ملازمت گاہوں میں پروان چڑھنے والی دوستی کو دوسرے فریق کے خاندانی پس منظر اور اس کے مزاج کو سمجھے بغیر شادی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، تجربہ ہے کہ یہ شادیاں پچانوے فیصد سے بھی زیادہ ناکام و نامراد ثابت ہوتی ہیں؛ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت تاکید کے ساتھ یہ بات فرمائی کہ رشتۂ نکاح میں ولی کے کردار کو قبول کیا جائے، اور فرمایا کہ ولی کو شامل کئے بغیر نکاح نہیں کرنا چاہئے: لا نکاح إلا بولي ( ترمذی عن ابی موسیٰ، حدیث نمبر: ۱۱۰۱) قرآن مجید میں بھی اس کا اشارہ فرمایا گیا ہے؛ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اولیاء کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے زیر ولایت لڑکوں اور لڑکیوں کا نکاح کریں اور اس ذمہ داری سے غافل نہ ہوں۔ اس لئے نوجوانوں کو چاہئے کہ رشتۂ نکاح طے کرنے میں اپنے بزرگوں کی رائے کو اہمیت دیں؛ کیوں کہ شکل و صورت کی کشش تو چند سال انسان کو متأثر کرتی ہے؛ لیکن اخلاق کی مٹھاس، مزاج کی ہم آہنگی اور دونوں خاندانوں کی روایات میں توافق ایسی چیزیں ہیں، جو تا عمر زندگی کو خوش گوار بنا کر رکھتی ہیں۔

 میرا ایک ذاتی تجربہ ہے کہ ایک جوڑا جو امریکہ میں مقیم تھا اور جس کے دو بچے بھی تھے، اس کا ازدواجی مسئلہ میرے سامنے آیا، شوہر و بیوی دونوں ہی بہت ہی خوش شکل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے؛ لیکن شوہر طلاق دینے پر مُصر تھا، میں نے طلاق کو روکنے کے لئے اس کو کئی پہلوؤں سے سمجھایا اور اخیر میں ایک بات یہ بھی کہی کہ تم جس عمر میں ہو، اس میں طبعی طور پر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی شریک حیات شکل و صورت میں ممتاز ہو، تمہاری بیوی اس معیار کو پورا کرتی ہے، اگر تم نے طلاق دے دی اور دوسرا نکاح کیا تو نہ معلوم تم کو ایسی بیوی ملے یا نہیں؟ اس نے برجستہ کہا کہ خوبصورت تو سانپ بھی ہوتا ہے تو کیا میں اس کو گلے کا ہار بنا لوں؟

اس سے وہ لوگ سبق حاصل کرسکتے ہیں، جو صر ف حسن و جمال اور مال و زر پر ریجھنے لگتے ہیں اور اسی کی وجہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں؛ اس لئے شروع سے نوجوانوں کی ایسی تربیت کرنی چاہئے کہ ان کے اندر رشتۂ نکاح کے سلسلہ میں اپنے بڑوں کی بات ماننے کا جذبہ پیدا ہو، جب بچوں میں یہ جذبہ پیدا نہیں کیا جاتا، تو اسی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے گھر چلی جاتی ہیں، اور مسلمان لڑکے غیر مسلم لڑکیوں کو اپنے گھر لے آتے ہیں۔

یہ ایک پہلو ہے، دوسرا پہلو یہ ہے کہ ولی کی اہمیت کے باوجود جب لڑکے اور لڑکیاں بالغ ہو جائیں تو رشتۂ نکاح کے معاملے میں شرعاً ان ہی کی رائے کو ترجیح حاصل ہے؛ اسی لئے قرآن مجید نے خود عاقدین کی طرف نکاح کی نسبت کی ہے، مرد ہوں یا عورت، جیسے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: جب مطلقہ عورتوں کی عدت گزر جائے اور وہ اپنی رضامندی سے نکاح کرنا چاہیں تو تم کو حق نہیں ہے کہ ان کو روکو۔ (بقرہ: ۲۳۲) اور آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اپنا نکاح کرنے کے سلسلے میں عورت بمقابلہ اپنے ولی کے زیادہ بااختیار ہے۔(مسلم، حدیث نمبر: ۱۴۲۱) چوں کہ تقاضۂ حیا کے تحت عورتیں خود اپنے نکاح کے بارے میں بات نہیں کرتی ہیں؛ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ لڑکی سے اجازت لی جائے، اگر وہ خاموش رہے تو عرف کی بناء پر اسے اس کی اجازت سمجھا جائے اور ولی کے لئے درست ہے کہ وہ اس سے نکاح کر دے، اور اگر اس نے اس رشتے سے انکار کر دیااور اس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تو وہ رشتہ کرنا قطعاً جائز نہیں اور اظہار ناراضگی کے باوجود ولی نکاح کر دے، تو نکاح منعقد نہیں ہوگا (ابوداؤد، حدیث نمبر: ۳۲۷۰) 

آج کل اس معاملہ میں افراط وتفریط ہے، ایک طرف نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں ولی کو اعتماد میں لئے بغیر خود اپنا نکاح کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو اکثر ناخوشگواری کے ساتھ طلاق یا خلع پر ختم ہوتا ہے، دوسری طرف بعض سرپرست بھی بہت ہی ناسمجھی سے کام لیتے ہیں، پیسوں کی لالچ اور رشتہ داری اور دوستی کے لحاظ میں لڑکے یا لڑکی کو مجبور کرتے ہیں اور ان کی پسند کے بغیر شادی کر دی جاتی ہے، یہ رشتہ بھی بہت سی دفعہ ناپائیدار ثابت ہوتا ہے، اور رشتہ باقی بھی رہے تو زوجین کے لئے سکون کی بجائے تناؤ کا باعث بن جاتا ہے، اگر نکاح میں عاقدین کی رضامندی شامل رہی ہو اور بعد کو کچھ اونچ نیچ پیدا ہوئی تو عاقدین یہ سمجھ کر اسے قبول کر لیتے ہیں کہ اس میں ہماری رضامندی شامل تھی؛ لیکن جب ان کی ناراضگی کے باوجود کوئی رشتہ ان کے سرپر تھوپا گیا ہو تو ان میں جذبۂ بغاوت پیدا ہوتا ہے، دوسرے فریق (اپنے شریک حیات) کے ساتھ ان کا رویہ خراب ہو جاتا ہے اور اپنے گارجین سے بھی ان کو نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔

اس لئے طلاق کے واقعات کو روکنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ عاقدین گارجین کی رائے کو اہمیت دیں اور سرپرست اپنا فیصلہ عاقدین پر تھوپنے سے بچیں، صرف مشورہ دیں، سمجھانے اور نفع ونقصان بتانے پر اکتفاء کریں؛ لیکن عاقدین ہی کی رائے کو آخری رائے سمجھیں، اس طرح بہت سارے حادث اور طلاق کے واقعات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ *****



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے