Ticker

6/recent/ticker-posts

مسکرائیے



سہرا اور مرثیہ ایک ساتھ

ایک نیا شاعر اپنے استاد کے پاس جا کر کہنے لگا کے استاد آج دن میں ایک شادی ہے جس میں مجھے سہرا پڑهنا ہے اور آج ایک آدمی بھی مر گیا شام کو مجھے اس کا مرثیہ بھی پڑھنا ہے۔کوئی کلام میرے پاس ہے نہیں لہٰذا آپ لکھ دیں۔ استاد نے اک کاغذ اٹھا کر اسے بیچ سے موڑا اور ایک طرف سہرا لکھ دیا اور دوسری طرف مرثیہ لکھ دیا۔ اب یہ حضرت شادی میں پہنچے اور کاغذ کو بیچ سےکھول کر سہرا پڑھنا شروع کر دیے تو اب ایک مصرع سہرے کا اور ایک مصرعہ مرثیے کا پڑھنا شروع کر دیے.اب اشعار ملا حظہ کریں..

اچهے میاں کا عقد ہوا ہے بہار میں 
کہدو کسی سے پهول بچها دے مزار میں 

روئے حسیں پے سہرے سے کیسی بہار ہے
اے موت جلد آ کہ تیرا انتظار ہے 

دولها دلهن شریف گھرانے میں ہیں پلے
لائی حیات آئی قضا لے چلی چلے

نوشاہ کو عروس بڑی ذی ہنر ملی
مرحوم کو حیات بڑی مختصر ملی

نوشاہ کو عروج وہ رب جلیل دے
اور اس کے وارثین کو صبر جمیل دے

(منقول)

ایک تبصرہ شائع کریں

3 تبصرے