بیوہ کی عدت
شرعی مسائل اور بے بنیاد باتیں
تحریر: مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
(8446393682)
اسلام دین فطرت ہے جس میں انسان کے جائزبشری تقاضوں کو کچلا جاتاہے،نہ ان کو پورا کرنے کے لیے بالکل کھلی آزادی دی جاتی ہے۔ اس کے بجائے اعتدال پر مبنی ایسا نظام دیاگیاہے، جس میں انسان کے حقوق کی رعایت ہے اور اس کے اخلاق کی حفاظت بھی !بیوہ عورت کی عدت کے نظام پر غور کیاجائے تو اسلامی تعلیمات کی یہ خوبی واضح طورپر نظر آتی ہے۔ کسی قریبی رشتہ دار کاانتقال ہو جائےتو اس کے اہل خانہ کے لیے تین دن سوگ منانا اورغم کااظہارکرنا جائز ہے۔اس سے زیادہ غم کے اظہا ر کی اجازت نہیں، لیکن مرنے والے کی بیوہ کے لیے چار مہینہ دس دن سوگ منانایعنی عدت گزارنالازم ہے۔اس کی تین اہم مصلحتیں ہیں:
الف:یہ اللہ کاحکم ہے ۔
ب:استبراء رحم یعنی عور ت کے رحم کاحمل سے خالی اور فارغ ہونے کایقین کرناتا کہ انسان کے نسب کی حفاظت ہوسکے۔
ج:ازدواجی رشتے کے ختم ہونے پرغم اور افسوس کااظہار کرنا۔
عدت کے دوران بیوہ پر مختلف پابندیاں بھی عائدہوتی ہیں۔ مثلاً:
(۱)بیوہ کے لیے شرعاً شوہرکے گھر میں عدت گذارنا لازم ہے۔کسی شدید ضرورت کےبغیر اس سے نکلنا جائز نہیں ہے۔
(۲)میک اپ، زیورات کااستعمال اور شوخ لباس پہننا درست نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ صاف ستھری بھی نہ رہے۔
(۳) عام حالات میں جن غیر محارم سے پردے کااہتمام ضروری ہے ، دوران عدت مزید سختی کے ساتھ ان سے پردے کااہتمام کرے۔
(۴) جب تک عدت مکمل نہ ہو جائے ،بیوہ کا نکاح جائز نہیں ہے، یہاں تک کہ دوران عدت وضاحت کے ساتھ رشتہ نکاح کی بات کرنا بھی بیوہ کے لیے درست نہیں ہے۔
ان باتوں کے علاوہ جتنی چیزیں بیوہ کی عدت کے متعلق پھیلادی گئی ہیں اورانہیں لازم سمجھ لیا گیا ہے وہ سب بے بنیاداور جہالت و ناواقفیت کا نتیجہ ہیں۔ مثلاً:اگر بیوہ کے لیے کسی شرعی بنیاد پر مرحوم شوہرکے مکان پر عدت گذارنا ممکن نہ ہو تو وہ اپنے کسی محرم رشتہ دار کے گھر عدت گذار سکتی ہے۔ایسی صورت میں یہ ضروری سمجھا جاتاہے کہ بیوہ شوہر کا جنازہ اٹھائے جانے سے پہلے اس جگہ سے روانہ ہو جائے ، اگر جنازہ اٹھانے کے بعدوہ اسی جگہ ٹھہری رہی تو اس کے لیے اب دوسری جگہ منتقل ہونا درست نہ ہو گا۔ یہ بھی غلط خیال ہے۔
بیوہ کو کھلے آسمان کے نیچے آنے سے روکنا اور اس کو ایسے تنگ اورتاریک کمرے میں رکھنا جس میں سورج کی روشنی نہ پہنچ سکے۔
بعض جگہوں پر عدت کی مدت پوری کرنے کے بجائے محض چالیس دنوں کے بعد بیوہ کا عدت کی پابندیوں سے آزادہوجانا۔
سر اورآنکھ میں تکلیف کے باوجودتیل اورسرمے کے استعمال سے بیوہ کوروکنا،واضح ہو کہ سر میں اگر تکلیف ہو یابالوں کے بہت زیادہ الجھنے کا اندیشہ ہوگا تو بغیر خوشبووالے تیل کا استعما ل درست ہے۔ اسی طرح آنکھ میں تکلیف ہونے کی صورت میں سرمہ لگانے کی بھی گنجائش ہے۔
عدت کے اختتام پر بیوہ کاگھر سے نکلنا ضروری سمجھنا اسی طرح قریبی رشتہ داروں کی جانب سے بیوہ کوتحفہ وغیرہ دینالازم سمجھنا ۔
آج معاشرے میں مذکورہ بالاغیر ضروری باتیں بالکل عام ہیں،افسوس تواس بات کا ہے کہ بعض تعلیم یافتہ خواتین بھی ان باتوں کو ضروری سمجھتے ہیں۔ جس کانتیجہ یہ ہے کہ شوہر کی وفات اور جدائی سے غمزدہ بیوہ کی تکلیف اور اس کاغم دگناہو جاتاہے۔ بعض مقامات پر ان غیرضروری پابندیوں کے نتیجے میں بیوہ خاتون کے سخت بیمار ، کمزور یہاں تک کہ انتقال کر جانے کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض خواتین دوران عدت شرعی پابندیوں کی رعایت نہیں کرتیں،لاعلمی اور جہالت کے نتیجے میں چار مہینہ دس دن کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی بیوہ کے نکاح کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔ معلوم ہوناچاہئے کہ عدت کے دوران نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔
اس لیے ضروری ہے کہ کسی شخص کے انتقال کے موقع پر علمائے کرام ائمہ مساجد اوردینی تعلیم یافتہ خواتین سے بیوہ کی عدت کےمسائل معلوم کر لیے جائیں۔
٭…٭…٭
0 تبصرے