علماء اور ائمہ مساجد کے لئے فن خطابت میں مہارت ضروری
تحریر: مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
8446393682
’’خطابت‘‘ عطیۂ الٰہی ہے او ر دعوت و تبلیغ اور اصلاح معاشرہ کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔خطابت وعظ کہنے اور خطبہ پڑھنے کوکہتے ہیں، علامہ ابن رُشد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، خطابت اس فن کانام ہے جس کے ذریعے اپنی بات دوسروں سے کہی اور منوائی جاسکتی ہے ۔خطابت کا بنیادی مقصد انسانوں تک اللہ رب العزت کاپیغام پہنچانا، افراد کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کوبیدار کرنا،اور انہیں ایک متعین مقصد کے لیے تیارکرنا ہے۔ایک ماہر خطیب اپنے زور بیان کے ذریعے اپنی قوم کے مردہ جذبات کو بیدار کرتاہے، دلوں کو گرماتا اور حوصلوں کو بڑھاتا ہے ، وہ اپنی قوت بیان کی مدد سے مجمع پرجادو کر دیتاہے ۔
صحیح مسلم میں حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ جب خطبہ دیتے تھے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جایا کرتی اور آواز بلند ہوجاتی تھیں، جوش سے ایسامعلوم ہوتاتھا کہ آپ سخت غصہ میں ہیں گویاکہ کسی لشکر کے حملے سے ڈرارہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ وہ تم پر صبح کو حملہ آور ہوگا یا شام کواور آپ ﷺشہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملاکرفرماتے تھے میں اور قیامت اس طرح ( قریب قریب) مبعوث کیے گئے ہیں۔
اس حدیث شریف سے جہاں ایک جانب حضور ﷺ کا انداز خطابت معلوم ہوتاہے وہیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ دوران خطابت خطیب کے چہرے کےتاثرات کیا ہوں، آواز کا اتارچڑھاؤ کیسا ہو اور جسم کی حرکات وسکنات کیسی ہوں؟
تاریخ ایسے واقعات سے لبریز ہے کہ ایک شخص نے اپنی جادو بیانی کے ذریعے ہزاروں انسانوں کے دلوں کو مسخر کر لیا ۔جادو اثرتقریروں کے ذریعے خطباء نے وہ انقلاب برپا کیا جس کے آگے بڑی بڑی حکومتیں جھک گئیں۔ حجاج ابن یوسف جتنا سخت گیراور ظالم حکمراں کے طور پر مشہور ہے اتنا ہی دلفریب مقرر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے،اپنے بےپناہ ظلم کے باوجود اس کی تقریر سننے کے بعد لوگوں کو محسوس ہونے لگتا کہ شاید ہم ظالم ہیں اور حجاج مظلوم !
خطابت کی اسی اثر انگیزی کو دیکھتے ہوئے اہل مغرب نے جدید سائنسی انداز میں تحقیق کرکے فن خطابت کو آگے بڑھایا اور اپنے مقاصد کے لیے اس کا بھر پور استعمال کیا، جبکہ ہمارے خطبا ءاور مقررین کا حال اس کے برعکس ہے،آج بھی بیشتر مقررین اور مبلغین کی ایک بڑی تعداد وہ ہے جو خطابت کے بنیادی اصول وآداب سے نابلد ہے،جس کی وجہ سے انہیں دوران خطابت دشواری پیش آتی ہے اور وہ پوری خود اعتمادی کے ساتھ موثر انداز میں اپنی بات سامعین کے سامنے پیش کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، نتیجتا سامعین اکتاہٹ اور بیزاری کے شکار نظر آتے ہیں، تعجب تو اس وقت ہوتا ہے جب میٹنگوں میں لوگوں سے تجویز طلب کی جائے اور وہ تقریر شروع کردیتے ہیں، یعنی انہیں تجویز اور تقریر کا فرق بھی معلوم نہیں ہوتا، لطف کی بات تو یہ ہے کہ لمبی چوڑی تقریر کرنے کے بعد جب اشارہ کیا جائے اور پرچی دی جائے تو لوگ یہ کہہ کر تقریر مکمل کرتے ہیں کہ " اتنا ہی کہہ کر میں اپنی دوبات مکمل کرتا ہوں!!"۔ کسی بھی مجلس میں خواہ وہ دینی ہو یا دنیاوی، عنوان سے ہٹ کر تقریر کرنا اور دیےگئے وقت کی پابندی نہ کرنا میرے نزدیک مقرر کی کمزوری ہے،ساتھ ہی یہ سامعین کے وقت کا ضیاع ہے اوران پر ایک طرح کی زیادتی بھی! باکمال مقرر تو وہ ہے جو متعینہ وقت میں اپنی بات کو مدلل انداز میں اختصار وجامعیت کے ساتھ اس طرح پیش کردے کہ سننے والے یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
مدارس اسلامیہ کے فارغین اور علماء کرام میں تو کافی حد تک تقریری مہارت اور خطیبانہ صلاحیت پائی جاتی ہے لیکن ان میں بھی بہت سارے افراد، اسی طرح تعلیمی سماجی اور سیاسی شعبوں سے تعلق رکھنے والے بیشتر لوگ عموما تقریر و خطابت کے بنیادی اصول و آداب سے نابلد ہوتے ہیں، جس کا اندازہ مختلف دینی تقاریب ، دنیاوی پروگراموں اور سیاسی جلسوں میں کی جانے والی بےفیض اور بلاعنوان تقریروں سے کیا جاسکتا ہے۔
بڑی ضرورت ہے اس بات کی کہ دینی خدمت گزار افراد اور عوامی جلسوں سے خطاب کرنے والے حضرات اس فن کی اصولی باتوں اور باریکیوں سے واقف ہوں اور اس میں مہارت پیدا کرنے کی کوشش کریں،حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ فرماتے تھے ۔
’’بہ نسبت تحریر کے تقریر میں مہارت پیدا کرنے کی زیادہ ضرور ت ہے کیوں کہ تحریر کا نفع خاص ہوتاہے یعنی صرف طلبہ اور پڑھے لکھے لوگوں کو نفع ہوتا ہے۔ جب کہ تقریر کا نفع عام ہوتا ہے ۔‘‘
اس لئے دینی خدمت گذارافراد خصوصاً ائمہ مساجد ، حفاظ کرام اور مدارس کے نئے فارغین نیز عصری تعلیم یافتہ افراد کو میدان خطابت کاشہسوار ہونا چاہئے اور اس کے لئے فن تقریر کے اصول وآداب سے واقف ہونا ضروری ہے۔
*****
0 تبصرے