سہرا اور مرثیہ ایک ساتھ
ایک نیا شاعر اپنے استاد کے پاس جا کر کہنے لگا کے استاد آج دن میں ایک شادی ہے جس میں مجھے سہرا پڑهنا ہے اور آج ایک آدمی بھی مر گیا شام کو مجھے اس کا مرثیہ بھی پڑھنا ہے۔کوئی کلام میرے پاس ہے نہیں لہٰذا آپ لکھ دیں۔ استاد نے اک کاغذ اٹھا کر اسے بیچ سے موڑا اور ایک طرف سہرا لکھ دیا اور دوسری طرف مرثیہ لکھ دیا۔ اب یہ حضرت شادی میں پہنچے اور کاغذ کو بیچ سےکھول کر سہرا پڑھنا شروع کر دیے تو اب ایک مصرع سہرے کا اور ایک مصرعہ مرثیے کا پڑھنا شروع کر دیے.اب اشعار ملا حظہ کریں..
اچهے میاں کا عقد ہوا ہے بہار میں
کہدو کسی سے پهول بچها دے مزار میں
روئے حسیں پے سہرے سے کیسی بہار ہے
اے موت جلد آ کہ تیرا انتظار ہے
دولها دلهن شریف گھرانے میں ہیں پلے
لائی حیات آئی قضا لے چلی چلے
نوشاہ کو عروس بڑی ذی ہنر ملی
مرحوم کو حیات بڑی مختصر ملی
نوشاہ کو عروج وہ رب جلیل دے
اور اس کے وارثین کو صبر جمیل دے
(منقول)
3 تبصرے
زبردست تحریر مزاح کا حسین امتزاج
جواب دیںحذف کریںبہت زبردست 🤣😂🤭
جواب دیںحذف کریںMasamka h
جواب دیںحذف کریں