مفتی محمد عامر یاسین ملی
1) قربانی کے جانور کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا بہتر اور افضل ہے، اگر خود ذبح نہ کرنا چاہےتو کسی اور سے ذبح کرا سکتے ہیں، لیکن مناسب یہ ہے کہ ذبح کے وقت جانور کے سامنے خود موجود رہیں۔ ذبح کا طریقہ امیج میں ملاحظہ فرمائیں ۔
2) قربانی کے جانور کی تصویر یا ویڈیو نہ بنائیں اور وائرل بھی نہ کریں ۔ یہ چیز جہاں شرعا درست نہیں ہے وہیں دیگر قانونی مسائل کو بھی پیدا کرنے کا سبب ہے ۔فرقہ پرست اس کا سہارا لے کر امن و امان کا ماحول خراب کرتے ہیں۔
3) جانور ذبح کرکے فورا کھال وغیرہ اتارنا مکروہ ہے، کیوں کہ اس صورت میں بلا ضرورت جانور کو اذیت اور تکلیف پہنچانا ہے، اس لیے ذبح کے بعد ٹھنڈا ہونے تک انتظار کرلینا چاہیے۔ قریشی حضرات اس کا خاص خیال رکھیں اور قربانی کرنے والے بھی اس سلسلے میں توجہ فرمائیں اور اچھے انداز میں قریشی حضرات سے فہمائش کریں۔
4) قربانی ہوجانے کے بعد جانوروں کے آلات نالیوں میں نہ ڈالیں، بطور خاص اس کی اوجھ اور چمڑا چوراہوں اور راستوں پر نہ پھینکیں جس کی وجہ سے لوگوں کے لیے راستہ چلنا دوبھر ہوجائے۔ حدیث شریف میں ایسے لوگوں پر لعنت بھیجی گئی ہے جو عوامی مقامات پر گندگی پھیلاتے ہیں ۔ پھر ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے تو پاکی اور صفائی کو آدھا ایمان قرار دیا ہے ، اور اللہ پاک بھی پاکی اور صفائی کا اہتمام کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں ۔ لہذا عید الاضحی کے موقع پر بطور خاص گلی محلے کو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کریں ۔سیاسی اور سماجی حضرات کو بھی اس سلسلے میں توجہ دینی چاہئے اور محکمہ صحت و صفائی کے ذریعے شہر کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا کردار نبھانا چاہئے۔
امید ہے ان باتوں پر توجہ دی جائے گی !! واللہ الموفق وھو یھدی الی سواء السبیل
1 تبصرے
👍
جواب دیںحذف کریں