يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّـٰهَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا
قُولُوا قَوْلاً سَدِيداً اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور درست اور سچی بات بولا كرو ! (سورہ احزاب)
شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کہا تھا
ناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنےکا سلیقہ نہیں نادانوں کو
قارئین! سوشل میڈیا عام کیا ہوا، گویا ہر ایک کو زبان مل گئی، جو اہل زبان ہیں ، وہ تو بول ہی رہے ہیں، لیکن جو گفتگو کے اصول و آداب سے ناواقف ہیں ، اب ایسے لوگ بھی کسی بھی موضوع پر بولنا ضروری سمجھنے لگے ہیں ۔
بہرحال کسی کے بولنے پر پابندی تو نہیں، لیکن یہ پابندی ہر ایک کے لیے ہے کہ وہ کوئی ایسی بات نہ بولے جس کی وجہ سے کل قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس کے لیے جواب دہی دشوار ہوجائے اور نجات مشکل!
یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے اکثر لوگوں کو بولنے اور لکھنے کا تو خوب شوق ہے لیکن یہ شعور بہت کم لوگوں کو ہے کہ کیا بولیں؟ کب بولیں ؟ کتنا بولیں اور کیسے بولیں ؟ حالانکہ
بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیم
بات کہنے کا سلیقہ چاہیے
یاد رکھئے! بے موقع، بے بنیاد ، حد سے زیادہ اور بے ڈھنگا بولنے والا ہر انسان اپنے بول پر ایک نہ ایک دن شرمندہ ہو کر رہے گا ، اس لئے کہ
مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ ( سورہ ق )
ترجمہ: بندہ جو بات بھی کہتا ہے (اس کو لکھنے کے لیے) اس کا محافظ (فرشتہ) منتظر ہوتا ہے۔
اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی : أَمْسِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ اپنی زبان کو قابو میں رکھو !!
( بخاری شریف )
اس لیے اپنی زبان اور اپنے قلم پر قابو رکھیں، اور ان کے بے جا اور غلط استعمال سے بچیں، امت کا دل پہلے ہی غیروں نے بہت دکھایا ہے، خدارا ! اب اسے مزید نہ دکھائیں، نہ زبان و قلم سے، اور نہ قدم سے !
جب کبھی بولنا وقت پر بولنا
مدتوں سوچنا مختصر بولنا
ڈال دے گاہلاکت میں اک دن تجھے
اے پرندے ترا شاخ پر بولنا
1 تبصرے
Waaahhh Mufti Sahab zabardust tahereer laajawaab, intehai umdaah. Ma-aashre ki ek jiti jagti haqueeqat ...
جواب دیںحذف کریں