بچے کی پیدائش سے ٹھیک پہلے ماں کا انتقال ہوگیا، بچہ پیٹ میں زندہ ہے، کیا کیا جائے؟
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے کیا جواب دیا !!
پیشکش : محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں 8446393682
امام ابو حنیفہ ؒ سے ایک عالم نے دریافت کیا کہ ’’آپ کو کبھی اپنے اجتہاد پر یعنی شرعی مسئلہ بتانے پر افسوس اور پشیمانی بھی ہوئی ہے؟‘‘فرمایا کہ ’’ہاں ایک مرتبہ لوگوں نے مجھ سے پوچھا، ایک حاملہ عورت مر گئی ہے، اور اس کے پیٹ میں بچہ حرکت کررہا ہے، کیاکرناچاہئے؟‘‘میں نے ان سے کہا :’’عورت کا شکم چاک کر کے بچے کو نکال دیاجائے۔‘‘لیکن بعد میں مجھے اپنے اجتہادپر افسوس ہوا کیوں کہ بچے کے زندہ نکلنے کاتومجھے علم نہیں ، تاہم ایک مردہ عورت کو تکلیف دینے کے فتویٰ پر مجھے افسوس رہا، ’’پوچھنے والے عالم نے کہا: ’’یہ اجتہاد توقابل افسوس نہیں بلکہ اس میں تو اﷲ کافضل شامل رہا، کیوں کہ آپ کے اس اجتہاد کی برکت سے زندہ نکل کر اس مرتبہ کو پہنچنے والا وہ بچہ میں ہی ہوں۔
قارئین ! مذکورہ بالا واقعہ جہاں امام اعظمؒ کی ذہانت و فطانت کو ظاہر کرتا ہے وہیں اس بات کی طرف اشارہ بھی کہ’’ہم اپنے تمام دینی و دنیاوی معاملات میں حکم شرعی کی رعایت کریں اور حضرات علماء کرام کی رہبری و رہنمائی ہی میں اپنے مسائل کو حل کریں ۔ اس لئے کہ علماء کرام ہی ہمارے مقتدا و پیشوا ہیں ، جو ہمہ وقت امتِ مسلمہ کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ معاملہ بچے کی پیدائش کے وقت اذان دینے کا ہو یا پھر انتقال کے بعد نمازِ جنازہ پڑھانے کا ، موقع عقیقہ کا ہو یا نکاح اور ولیمہ کا، تنازع میاں بیوی کے درمیان ہو یا پھر ترکہ کو لے کر بھائی بہنوں میں اختلاف ہو ۔ معمولی قسم کی بیماری اور گھبراہٹ ہو یا خطرناک قسم کا سحر اور جاں کنی کا عالم! ہر جگہ اور ہر موقع پر یہی علماء اور ائمہ غوروفکر اور جدو جہد کرتے نظر آتے ہیں ۔ اپنے آنسوئوں کو ضبط کر کے دوسروں کے آنسو پونچھنا اور خود پیاسا ہونے کے باجود پیاسوں کو سیراب کرنے کی کوشش کرنا بلا شبہ ان ہی وارثین انبیاء کی شان ہے ع
خود پیاس کا صحرا ہوں مگر دل کو یہ ضدہے
ہر دشت پہ ساون کی طرح ٹوٹ کے برسوں
قرآن کریم میں اﷲ رب العزت نے حضرا ت علمائے کرام کے بلند مقام کو واضح کیاہے اور عام لوگوں کوحکم دیا ہے کہ اگرانہیں کسی چیز کاعلم نہ ہو تو وہ علماء کرام سے معلوم کر لیا کریں۔
*-*-*-*
0 تبصرے