Ticker

6/recent/ticker-posts

حافظ محمد یاسین ملی

ماموں جان حافظ محمد یاسین ملی رحمۃ اللہ علیہ
تحریر :مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
9028393682

     میرے بڑے ماموںث جان اور استاذ محترم سید الحفاظ حافظ محمد یاسین ملی صاحب کی شخصیت کیا تھی اور ان کی دینی خدمات کتنی تھیں، اس کا اندازہ مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی اس تحریر سے لگایا جاسکتا ہے:
"حافظ محمد یاسین ملی رحمۃ اﷲعلیہ معہد ملت کے قدیم اور بافیض استاذ تھے،انہوں نے زندگی کابڑا حصہ قرآن مجید کی خدمت میں گذارا،اور بڑی محنت اور لگن سے سینکڑوں حفاظ کرام تیارکیے، بجاطور پروہ رئیس الحفاظ کہلائے جانے کے حقدار تھے۔اس ناکارہ پرشروع سے ان کی بڑی شفقت رہی ہے،میں نےقرآن مجید کے نوپارے انہیں کے پاس حفظ کیےاور ایک سال تک ان کی کلاس میں شرکت کاموقع ملا،وہ بڑے قدرداں،محبت کرنے والے اور قدم قدم پر حوصلہ افزائی کرنے والے شخص تھے۔"

قارئین! اس بات کا گواہ میں خود بھی ہوں کہ واقعی حافظ صاحب مرحوم کو اپنے شاگردوں سے مخلصانہ لگاؤ تھا اور ان کی کامیابی سے وہ خوش ہوا کرتے تھے،میری چھ روزہ اور تین روزہ تراویح کا موقع ہو ، یا ان کے محلے کی مسجد میں جمعہ کے موقع پر خطاب ہو، وہ ہر جگہ شریک ہوتے اورحوصلہ افزائی فرماتے، اخبارات میں راقم کے مضامین اہتمام کے ساتھ پڑھتے اور اسی وقت فون کرکے مبارک باد پیش کرتے۔ شہر بھر میں کوئی دینی تقریب منعقد ہوتی، حافظ صاحب کو باضابطہ دعوت نامہ دیا گیا ہو یا نہ دیا گیا ہو، محض قرآن کریم کی نسبت پر اورعلماء کرام کی محبت میں وہ ان تقاریب میں ضرور پہنچتے۔ یہ ان کا دینی ذوق تھا، اسی کی برکت ہے کہ ان کی زندگی کی اخیر کی ساعتیں بھی دینی پروگرام اور ذکر و دعا کی مجلس میں بسر ہوئیں، حافظ صاحب کا جس دن وصال ہوا اس سے ایک روز قبل مسجد عکرمہ میں دینی جلسہ اور ذکر کی مجلس تھی جس میں حافظ صاحب شریک تھے ، وہاں مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے خطاب کے بعد دیر تک ذکر کروایا اور اللہ اللہ کی ضربیں لگوائیں، اس کے بعد رقت آمیز دعا فرمائی اور اللہ سے گناہوں کی بخشش اورتمام حاضرین کی مغفرت کی التجا کی، اللہ اللہ کہنے والوں اور دعا پر آمین کہنے والوں میں حافظ صاحب بھی تھے ، کیا عجب کہ اللہ کو اپنے بندے کی یہ ادا پسند آگئی ہو اور اس نے خوش ہو کر دعا قبول کرلی ہو، اور حافظ صاحب کی مغفرت بھی کردی ہو۔
حافظ صاحب سے میرا ننھیالی رشتہ ہونے کے ساتھ روحانی رشتہ بھی تھا، وہ میرے شعبہ حفظ کے استاذ تھے، از اول تا آخر میں نے ان کے پاس قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت پائی ہے، میری تعلیم و تربیت میں ان کا کلیدی کردار رہا ہے جسے میں تا زندگی فراموش نہیں کرسکتا۔ بتائیے ایسے شفیق استاذ اور مہربان سرپرست کا اٹھ جانا کیسا زبردست نقصان ہے۔
 مہاراشٹر کی قدیم دینی درسگاہ معہد ملت کے شعبہ حفظ میں بحیثیت استاذ حافظ صاحب نے 38 برس گزارے، مسجد انوار مصطفی میں چالیس سال تک امامت و خطابت کے فرائض انجام دئیے، مجھ جیسے ان کے سینکڑوں تیار کردہ حفاظ ہیں جن پر حافظ صاحب نے محنت کی تھی، یقینا یہ ساری خدمات ان کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔
خدا کی شان کریمی سے التجا ہے کہ وہ ان خدمات اور اعمال کو قبول کرکے حافظ صاحب کی مغفرت فرمائے۔ اسی دعا کے ساتھ اپنی تحریر مکمل کرتا ہوں۔
اللہم اغْفِرْ لہ وَارْحَمْہُ وَعَافِہِ وَاعْفُ عنہ وَأَکْرِمْ نُزُلَہُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَہُ وَاغْسِلْہُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّہِ من الْخَطَایَا کما نَقَّیْتَ الثَّوْبَ الْأَبْیَضَ من الدَّنَسِ وَأَبْدِلْہُ دَارًا خَیْرًا من دَارِہِ وَأَہْلًا خَیْرًا من أَہْلِہِ وَزَوْجًا خَیْرًا من زَوْجِہِ وَأَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ وَأَعِذْہُ من عَذَابِ الْقَبْرِو من عَذَابِ النَّارِ
اےاللہ! اس بندے کو بخش دے، اس پر رحم کر، اسے عافیت عطا فرما، اسے معاف فرما دے، اسے باعزت ٹھکانہ دے، اس کی قبر کو کشادہ فرما اور اسے برف اور اولوں سے دھو دے،اس کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دے،جس طرح کہ سفید کپڑا میل کچیل سے صاف ہو جاتا ہے،اسے اس کے گھر کے بدلے بہتر گھر عطا فرما، گھر والوں سے بہتر گھر والے، اس کی بیوی سے بہتر بیوی عطا فرما اور اسے جنت میں داخل فرما اور اسے عذاب قبر سے اور جہنم کے عذاب سے بچا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے