از: مفتی محمد عامر یاسین ملی
(8446393682)
گناہوں کے تعلق سے اس وقت ہمارے معاشرے کا حال یہ ہے کہ بعض گناہوں کو معاشرہ بڑا اور سنگین تصور کرتاہے،جب کہ بعض گناہوںکو معمولی اور ہلکا،حالانکہ گناہ تو گناہ ہے خواہ وہ کبیرہ ہو یا صغیرہ۔علماء فرماتے ہیں کہ کسی گناہ کو معمولی مت جانو ،ہو سکتاہے وہی گناہ جہنم میں لے جانے کا سبب بن جائے۔اسی طرح کسی بھی نیکی کو معمولی تصور مت کرو، ممکن ہے وہی نیکی ﷲ کو پسند آ جائے اور جنت میں داخلے کاذریعہ بن جائے۔
شراب نوشی ،زنا کاری ، بد نظری،جھوٹ ،چوری، دھوکہ دہی ،خیانت ،یتیموں کی حق تلفی اور فرض نمازوں سے کوتاہی۔یہ وہ سارے گناہ ہیں جنہیں شریعت میں’’گناہ کبیرہ ‘‘کہاجاتاہے اور ان کا ارتکاب کرنے والا فاسق و فاجر کہلاتاہے۔ایسا شخص جب تک سچی پکی توبہ نہ کر لے یہ گناہ معاف نہیں ہوں گے۔یہ شریعت کاضابطہ ہے،ایک دوسراضابطہ ہے، جو ہمارا اپنا بنایاہوا ہے، وہ یہ کہ شرابی ،زانی ،چور اور قاتل کو تو ہم لوگ دل سے برا جانتے ہیں اور ایسے لوگوں سے میل جول رکھنا گوارہ نہیں کرتے،لیکن جھوٹ بولنے اور غیبت کرنے والے ،بے نمازی، یتیموں کاحق مارنے والے اور دوسرے مسلمانوں کی غیبت کرنے افراد کو ہم لوگ ہرگز برا نہیں سمجھتے اور بلاتکلف ایسے لوگوں سے میل جول رکھتے ہیں۔حالانکہ شریعت کی نگاہ میں دونوں ہی طبقے کے افراد ایک جیسے ہیں،لیکن چونکہ ہم دوسرے طبقے کے گناہوں کو گناہ نہیں سمجھتے یا بہت ہلکا اور معمولی تصور کرتے ہیں اس لئے نہ ان گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو بچانے کی جدوجہد۔
غیبت ہی کو لے لیجئے،یہ ایک ایسا سنگین گناہ ہے جس کے بارے میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت گناہ ہے۔‘‘آپ ﷺنے یہ بھی فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ غیبت کرنے والے شخص کو اس وقت تک معاف نہیں فرمائیں گے جب تک وہ شخص معاف نہ کر دے،جس کی غیبت کی گئی تھی۔
سفیان بن حسین نامی ایک شخص قاضی ایاس بن معاویہ ؒکی مجلس میں بیٹھ کر کسی آدمی کی غیبت کرنے لگا ، قاضی صاحب نے اس سے کہا’’آپ نے رومیوں کے ساتھ جہاد کیا؟‘‘کہنے لگا ’’نہیں‘‘پوچھا’’سندھ اور ہند کے جہاد میںشریک ہوئے ہو؟‘‘کہا ’’نہیں‘‘فرمانے لگے ’’روم ، سندھ اور ہند کے کفار تو آپ سے محفوظ رہے لیکن بے چارہ اپنا ایک مسلمان بھائی آپ سے بچ نہ سکا اور زبان کی تلوار اس پر چلا دی۔ ‘‘سفیان پر ان کے اس جملے کا اس قدر اثر ہوا کہ اس نے زندگی بھر پھر کسی کی غیبت نہیں کی۔
(البدایۃ والنھایۃ :ج ۹، ص ۳۳۶،ترجمہ: ایاس)
امام بن وہبؒ دوسری صدی ہجری کے مشہور محدث اورفقیہ ہیں، فرماتے ہیں، میں نے غیبت سے بچنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا کہ جس دن کسی کی غیبت کر دیتا ، اگلے دن نفس کو سزا دینے کے لئے روزہ رکھ لیتا ، لیکن بات بنی نہیں ، روزہ رکھنا عادت سی بن گئی اور سزا کی تلخی کی بجائے اس میں لطف محسوس ہونے لگا ، ظاہر ہے جو چیز پر لطف ہو ، وہ سزا کیسے ہو سکتی ہے، اس لئے میں نے روزہ کی بجائے ہر غیبت کے عوض ایک درہم صدقہ کرنا شروع کیا، یہ سزا نفس کو شاق معلوم ہوئی اور یوں غیبت کے رو گ سے نجات ملی۔
(ترتیب المدارک للقاضی عیاض : ج۳،ص:۲۸۰)
آج ہمارے معاشرے کاحال یہ ہے کہ شاید ہی کوئی مجلس غیبت سے پاک ملے ، او ر اب تو علی الاعلان اور کھلے عام مجمع میں اجتماعی طور پر دوسرے مسلمانوں کی غیبت کی جاتی ہے، اور سننے والے پورے شوق سے مزے لے لے کر دوسروں کی غیبت سنتے ہیں۔ عام اور بے پڑھے لکھے ، بے دین افراد کا کیاشکوہ ،اچھے خاصے تعلیم یافتہ اور دیندار سمجھے جانے والے افراد بھی اس خطرناک مرض کا شکار ہیں۔اگر کوئی اعتراض کرے تو فوراً اسے اظہار حقیقت اور تبصروں کاخوبصورت نام دے دیاجاتا ہے۔حالانکہ وہ غیبت ہی ہوتی ہے جب کہ غیبت کی حقیقت ہی یہ ہے کہ ’’کسی شخص کی غیر حاضری میں کوئی ایسی بات کہنا ، جو اسے ناگوار لگے۔‘‘
قرآن کریم میں ﷲ رب العزت نے غیبت کرنے سے منع فرمایا ہے اور اسے اپنے مردار بھائی کاگوشت کھانے جیسا عمل قرار دیا ہے۔لہٰذا ہر مسلمان کو غیبت جیسے سنگین گناہ سے خود بھی بچنے کی کوشش کرنی چاہئے اور دوسروں کو بچانے کی بھی جدوجہد کرنی چاہئے۔ نیز ایسی مجالس سے دور رہناچاہئے جہاں دوسروں کی غیبت کی جا رہی ہو۔
٭…٭…٭
0 تبصرے