Ticker

6/recent/ticker-posts

حجاب اور پردہ ، ہم کیا کریں؟


حجاب اور پردہ، ہم کیا کریں؟  
از : مفتی محمد عامر یاسین ملی

      سنن ابوداؤد حدیث کی اہم اور معروف کتاب ہے ، اس میں ام خلاّد رضی اللہ عنہا کا یہ واقعہ منقول ہے کہ ان کا بیٹا حضور ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں گیا ہوا تھا۔ جنگ کے بعد جب ان کا بیٹا واپس نہیں آیا تو بے تابی کے عالم میں وہ حضورﷺ کی خدمت میں اس حال میں پہنچیں کہ وہ چہرے پر نقاب ڈالے ہوئی تھیں۔ وہاں پہنچ کر دریافت کیا یا رسول اللہ! میرے بیٹے کا کیا ہوا؟ صحابہ کرامؓ نے جواب دیا کہ تمہارا بیٹا تو اللہ کے راستے میں شہید ہوگیا۔ یہ اطلاع ان پر بجلی بن کر گری۔ تاہم انہوں نے مثالی صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ اسی حالت میں کسی شخص نے ان سے پوچھا کہ
    تم اتنی پریشانی کے عالم میں اپنے گھر سے نکل کر آئی ہو، پھر بھی تم اپنے چہرے پر نقاب ڈالی ہوئی ہو۔ اس ہنگامی موقع پر بھی تم نقاب ڈالنا نہ بھولیں۔ 
     حضرت امّ خلاّدؓ نے تاریخی جواب دیا، فرمایا : 
     ان ازرأ ابنی فلن أزرأ حیائی
     یعنی میرا بیٹا تو فوت ہوگیا ہے لیکن میری حیا کا ابھی جنازہ نہیں نکلا ہے کہ میں بے پردہ یہاں آجاتی۔ (ابوداؤد کتاب الجہاد، ۳۳۷)
    
     اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ نے صحابہ سے سوال کیا کہ بتلاؤ کہ عورت کے لیے کون سی بات سب سے بہتر ہے؟ صحابہ کرامؓ خاموش رہے۔ کسی نے جواب نہیں دیا۔ پھر جب میں گھر گیا اور حضرت فاطمہؓ سے میں نے یہی سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ: لا یرین الرجال ولا یرونہن
     یعنی عورتوں کے لیے سب سے بہتر چیز یہ ہے کہ نہ وہ مردوں کو دیکھیں، نہ مرد ان کو دیکھیں۔ 
     حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے ان کا جواب رسول اللہﷺ سے نقل کیا تو آپ نے فرمایا کہ فاطمہؓ میری لخت جگر ہیں، اس لیے وہ خوب سمجھیں۔(مسند بزار، دارقطنی) 

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جس حجرۂ مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدفون ہیں اس کمرہ میں میں جب داخل ہوتی تو میں پوری طرح پردہ نہیں کرتی تھی۔ میرا یہ خیال تھا کہ اس حجرے میں میرے شوہرؐ اور میرے والد ابوبکرؓ کے علاوہ کوئی اور مدفون نہیں ہے۔ اور ان دونوں سے پردہ نہیں ہے؛ لیکن جب ان کے ساتھ حضرت عمرؓ بھی دفن کردیئے گئے تو بخدا اس کے بعد میں جب بھی حجرۂ مبارکہ میں جاتی تو حضرت عمرؓ سے حیا کی وجہ سے پوری طرح باپردہ ہوکر جاتی تھی۔ (مسند احمد بن حنبل)

     مذکورہ تینوں واقعات یہ واضح کرنے کے لیے بہت کافی ہیں کہ اسلام میں پردہ اور حجاب کی کیا اہمیت ہے اور مسلمان خواتین پردے کو اپنے لیے کتنا ضروری سمجھتی ہیں۔ مندرجہ بالا واقعات میں جن مقدس خواتین کا ذکر کیا گیا ہے، وہ صحابیات میں شمار ہوتی ہیں لیکن آج بھی پردے کا ایسا ہی اہتمام کرنے والی اور حیاء اور پاکدامنی کے ساتھ زندگی بسر کرنے والی خواتین موجود ہیں۔ پردے اور حجاب کو لے کر ملک بھر میں خواتین کی جانب سے ہونے والے احتجاج نے یہ بات صاف کردی ہے کہ پردہ اور حجاب خواتین اپنے اختیار سے استعمال کرتی ہیں اور اس کو اپنے حق میں محافظ تصور کرتی ہیں۔ فی الوقت پورے ملک میں حجاب کا معاملہ زیر بحث ہے، اور بہت سارے غیر مسلم بھی حجاب اور پردے کے بارے میں معلومات حاصل کررہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ پردے اور حجاب سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اس کے فوائد کو اجاگر کرنے کا اس سے بہتر موقع پھر نہیں ملے گا، سوشل میڈیا کی شکل میں ایک آسان اور مؤثر ذریعہ ابلاغ ہمارے ہاتھ میں ہے، اگر دعوتی نقطہ نظر سے ائمہ مساجد ، علماء کرام اور تعلیم یافتہ مسلمان اپنے اپنے شہر اور دیہاتوں میں علاقائی زبان میں پردے اور حجاب سے متعلّق تحریریں اور تقریریں شیئر کریں نیز دینی و ملی تنظیموں کے ذمہ داران چھوٹے چھوٹے پروگرام منعقد کرکے اس میں برادران وطن کو مدعو کرکے پردے اور حجاب کی حقیقت پر روشنی ڈالیں اور ان کو پردے اور حجاب کے فوائد اور بے پردگی کے نقصانات سے آگاہ کریں تو یہ عمل موجودہ  پھیلے ہوئے شر کو خیر میں تبدیل کرنے کا ذریعہ ثابت ہوگا باذن اللہ
       عدو شود سبب خیر گر خدا خواہد

     اسی کے ساتھ ساتھ خود مسلمانوں میں بھی پردے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ضروری ہے، تاکہ جو طبقہ دین سے دوری کے نتیجے میں پردے کے اہتمام کو ضروری نہیں سمجھتا وہ بھی پردے کی اہمیت کو محسوس کرے اور پردے کے تعلق سے ابھی جو منفی باتیں پھیل رہی ہیں ان سے عام مسلمان خواتین متاثر نہ ہوں ۔
         ایک اہم کام یہ بھی ہے کہ اپنے گھروں کی خواتین میں بھی پردے کی اہمیت پر گفتگو کی جائے اور چھوٹی بچیوں کو بھی اسکارف اور نقاب پہننے کی ترغیب دیں تاکہ ابھی سے پردے اور حجاب سے وہ آشنا ہوسکیں ۔
      کسی بھی پیغام کے مؤثر ہونے کے لئے ماحول سازگار ہونا ضروری ہے، پردے اور حجاب کے لیے یہی ماحول سازگار ثابت ہوسکتا ہے اگر مندرجہ بالا گذارشات کو ہم عملی جامہ پہنانے کی کوشش کریں اور محض سوشل میڈیا پر اسٹیٹس لگانے کے بجائے کچھ عملی جدوجہد کریں۔ واللہ الموفق وھوالمستعان

نوٹ: آئندہ جمعہ کو نماز جمعہ سے قبل مساجد میں پردے اور حجاب کی اہمیت پر خطاب کیا جائے گا انشاء اللہ ! جو ائمہ اور مقررین اس موضوع پر خطاب کرنا چاہیں اور انہیں تقریری مواد درکار ہو، وہ اس نمبر پر بذریعہ واٹس ایپ رابطہ کریں  8446393682

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے