Ticker

6/recent/ticker-posts

سلام کرنے کے آداب

سلام کرنے کے آداب 
ترتیب وپیشکش مفتی محمد عامر یاسین ملی

    کسی بھی مسلمان کو سلام کرنے کے مسنون (یعنی سنت سے ثابت) صیغے دو ہیں:
1- "السَّلَامُ عَلَیکُم و رحمة اللّٰه و بركاته" (شروع میں الف لام اور میم پر پیش) اور جواب ان الفاظ سے ہو "وَعَلَیکُمُ السَّلَام و رحمة اللّٰه و بركاته"۔ اگر سلام میں "السلام علیکم" اور جواب میں "وعلیکم السلام" پر اکتفا کیا جائے تب بھی درست ہے۔
2- "سَلَامٌ علیکم"(شروع میں ا لف لام کا حذف اور میم پر تنوین)
اس کے علاوہ جتنے صیغے بھی سلام کے لیے بولے جاتے ہیں یا لکھے جاتے ہیں، مثلاً: "اَسلَام علیکم"، یا "اَلسَّلَامُ وعلیکم"، یہ سب الفاظ غیر مسنون ہیں۔ ان دوصیغوں کے علاوہ کسی اور صیغے سے سلام کرنا درست ہی نہیں ہے، اور نہ ہی شرعًا اس کا جواب دینا ضروری ہے۔
البتہ "کم"کی جگہ كَ،كِِ،کما،كنَّ استعمال کرنا اگرچہ درست ہے، لیکن مسنون طریقہ میں شامل نہیں ہے، مسنون طریقہ السلام علیکم" ہے ۔
     سلام وعلیکم، السام وعلیکم وغیرہ کے الفاظ بددعآء کے ہیں، سلام میں اس کے کہنے سے اجتناب کیا جائے ۔ السائیکم اورسلالیکم، سلام کے الفاظ نہیں اورمعنوی لحاظ سے بھی صحیح نہیں اس لیے ان الفاظ کے کہنے سے احتراز کیا جائے۔
      بعض لوگ مختصر الفاظ سے سلام کرتے ہیں یا جواب دیتے ہیں مثلاً AOA اورمختصر الفاظ سے جواب WAS۔ یہ نہ سلام ہے اور نہ ہی سلام کا جواب ہے ،اس طرح سلام وجواب صحیح نہیں۔
     معروف الفاظ میں سلام السلام علیکم اسلامی شعار ہے یہ مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے ،کسی غیر مسلم کو ان الفاظ کے ساتھ سلام کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ غیر مسلموں کو سلام کے ساتھ مخا طب کرنے کے لیے شریعت نے الگ الفاظ بتائے ہیں ،وہ یہ ہیں : السلام علی ٰ من اتبع الہدیٰ۔ 
    مصافحہ کا طریقہ اور آداب اور ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے کا حکم
      سوال : مصافحہ کیا جاۓ تو کیسے؟ اور کیا مصافحہ ایک ہاتھ سے کرنا جائز ہے؟
      جواب :سلام کرتے وقت مصافحہ کرنا سنت ہے اور حدیث شریف میں مصافحہ کو سلام کی تکمیل قرار دیا گیا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہو جاتا ہے کہ ان کی دعاؤں کو سنے اور دونوں ہاتھوں کے الگ ہونے سے پہلے اُن کی مغفرت فرما دے۔(مجمع الزوائد)
      مصافحہ دونوں ہاتھوں سے کرنا سنت اور افضل ہے اس طرح کہ دونوں ہاتھوں سے ایک دوسرے کی ہتھیلیاں آپس میں ملائی جائیں، اِمام بخاریؒ نے بخاری شریف میں دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کے ثبوت کے لیے باقاعدہ ایک ترجمۃ الباب قائم فرمایا ہے، اور اُس کے تحت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت نقل فرمائی ہے جس میں آپ ﷺ کا دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنے کا ذکر ہے ، تاہم کسی عذر کی وجہ سے ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ البتہ
 مصافحہ کرتے وقت مندرجہ ذیل آداب کا خیال رکھنا چاہیے:

(1)پہلے سلام اور پھر مصافحہ کرنا چاہیے،کیوں کہ سلام کے بغیر صرف مصافحہ خلافِ سنت ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
(2)مشغولی کے وقت مصافحہ نہیں کرنا چاہیے۔ (آداب المعاشرت )
(3)جو شخص تیزی سے جا رہا ہو اُس کو مصافحہ کے لیے نہ روکنا چاہیے؛ تاکہ اس کا کوئی حرج نہ ہو۔(آداب المعاشرت)
(4)مجلس میں سب لوگوں کی بجائے صرف اُسی آدمی سے مصافحہ پر اکتفا کیا جائے جس کے ساتھ ملاقات کا ارادہ ہو، البتہ اگر باقی لوگوں کے ساتھ بھی واقفیت ہو تو ان سب سے مصافحہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ (آداب المعاشرت)
(5)مصافحہ پہلی ملاقات کے وقت یا رخصت ہوتے ہوئے کرنا چاہیے۔ (آداب المعاشرت)
(6)مصافحہ کرتے وقت دوسرے کی راحت کا خیال رکھنا چاہیے۔ (آداب المعاشرت)
(7)مصافحہ دونوں ہاتھوں سے کرنا چاہیے۔ (صحیح بخاری)

سلام کرتے وقت درج ذیل آداب کا خیال رکھنا چاہیے:

(1)چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے۔ (صحیح بخاری)
(2)سوار پیدل کو سلام کرے۔ (صحیح بخاری)
(3)کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کریں۔ (صحیح بخاری)
(4)چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔ (صحیح بخاری)
(5)اتنی آواز سے سلام کرے کہ دوسرا سن لے۔ اور جواب بھی اتنی آواز سے دے کہ سلام کرنے والا سن لے۔
(شمائل کبری)
(6)اگر کسی مجلس میں آئے اور مجلس میں کوئی خاص گفتگو ہو رہی ہو تو جہراً (بلند آواز سے) سلام نہیں کرنا چاہیے۔ (آداب المعاشرت)
(7)جھک کر سلام نہیں کرنا چاہیے۔(آداب المعاشرت)
(8)اجنبی مرد اجنبی عورتوں کواور اجنبی عورتیں اجنبی مردوں کو سلام نہ کریں۔ (عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی)
(9)سلام ہر مسلمان کو کرناچاہیے، خواہ اُسے پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو۔ (صحیح بخاری)
(10)تلاوت، ذکر، وظیفہ وغیرہ میں مشغول شخص کو سلام نہ کر نا چاہیے۔ (جامع الفتاوی: 313/3،تالیفات اشرفیہ)
(11)علمی مشغلہ میں مصروف شخص کو سلام نہ کرنا چاہیے۔ (جامع الفتاوی: 313/3،تالیفات اشرفیہ)
(12)اگر کوئی سونے کے لیے لیٹاہو تو اتنی آواز سے سلام کیا جائے کہ اگر وہ جاگ رہا ہو تو جواب دے دے اور اگر سو رہا ہو تو بیدار نہ ہو۔ (جامع ترمذی: 96/2 )
(13)اذان کے دوران سلام نہ کرنا چاہیے۔ (جامع الفتاوی: 313/3،تالیفات اشرفیہ)
(14)جب مسجد میں آئے اور لوگ ذکر وغیرہ میں مشغول ہوں تو سلام نہ کرنا چاہیے۔ (امداد الفتاوی: 278/4، دارالعلوم)

اشارہ سے سلام کرنا
      
فقط اشارے سے سلام کرنا یا اشارہ سے جواب دینا جائز نہیں یہ ہنود ونصاری کا طریقہ ہے، حدیث شریف میں اس کی ممانعت آئی ہے: عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ رضي اللہ تعالیٰ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّہَ بِغَیْرِنَا، لا تَشَبَّہُوا بالیَہُودِ وَ لا بالنَّصَارَی، فإنَّ تَسْلِیمَ الیَہُودِ الإِشارَةُ بالأصَابِعِ، وَتَسْلِیمَ النَّصَارَی الإِشارَةُ بالکَفّ (مشکاة:) البتہ اگر جس کو سلام کیا جارہا ہے وہ دور ہے اور صیغہٴ سلام کے تلفظ کے ساتھ ہاتھ سے اشارہ بھی کردے تاکہ وہ سمجھ لے کہ یہ سلام کررہا ہے، تو اس کی گنجائش ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے