Ticker

6/recent/ticker-posts

ایک لڑکی کی درد بھری داستان


   
بار بارناپسند کی جانے والی ایک لڑکی کا سوال
سیرت سےزیادہ صورت کو کیوں اہمیت دی جاتی ہے 

پیشکش : مفتی محمد عامر یاسین ملی 8446393682

     مہمانوں کے آنے میں بہت کم وقت رہ گیاتھا، اوروہ آج بھی ہمیشہ کی طرح دیوار پر لگے شیشے میں خود کو ہرزاویے سے دیکھ رہی تھی وہ کبھی آئینے کے قریب جاتی ہے تو کبھی دور ، کبھی بال کھولتی ہے تو کبھی باندھتی ہے، کبھی مسکراتی ہے تو کبھی ایک دم سنجیدہ ہوجاتی ہے۔یہ سب کرتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ وہ واقعی بہت عام سی ہے، کاش ! اﷲ تعالیٰ نے مجھے بھی تھوڑا خوبصور ت بنایا ہوتا !یہ سوچتے ہوئے نہ جانے کتنے آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر زمیں میں جذب ہو گئے تھے۔

    آج بھی تیار ہوتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ آخر کب تک !اماں کے چہرے پر آج بھی ہمیشہ کی طرح پریشانی اور غصہ کے ملے جلے تاثرات تھے، اماں کا بھی کیا قصور ہے ۔قصور تو میرا ہے، اگر میں بھی خوبصورت ہوتی توآج یہ سب نہ ہوتا!مہمانوں کے سامنے چائے کی ٹرے رکھتے ہی اس کے آگے ان سوالات کی برسات کر دی جاتی ہے جن کے جوابات وہ ہمیشہ سے ہی بڑی روانی کے ساتھ دیتی آئی تھی لیکن افسوس پاس پھر بھی نہیں ہوتی تھی۔
     رات گئے فون کی گھٹی بجتی ہے ، ماں کے چہرے پر ایک کے بعد ایک رنگ آتا دیکھ کر وہ سمجھ گئی تھی کہ لڑکے والوں نے منع کردیا ہے ۔ وہ آج بھی ریجیکٹ کر دی گئی تھی !صرف اس لیے کہ وہ ایک عام شکل و صورت کی گھرداری میں ماہر پڑھی لکھی لڑکی تھی۔ مگر افسوس وہ خوبصورت نہیں تھی ! آج بھی ہمیشہ کی طرح اسے اور ماں کورات بھر تکیہ بھگونا تھا!
یہ وہ کہانی ہے جو آ ج ہمیں اپنے تعلیم یافتہ معاشرے کے ہر گھر میں رونما ہوتی نظرآتی ہے، آپ کا تعلق کسی بھی کلاس سے ہو اگر آپ بیٹی والے ہیں تو آپ کو بھی اس کہانی کاکردار بننا پڑے گا۔ کہتے ہیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ، لیکن درحقیقت صرف اپنی بیٹی ہی اپنی ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے کی یہی تو روایت ہے کہ اپنی بیٹی جان سے پیاری اور دوسرے کی بیٹی کی تو کوئی اہمیت ہی نہیں، آپ کسی کی بیٹی میں دس دس خامیاں نکالواور بدلے میں اس بدی کابدلہ نیکی تصور کرو، یہ سراسر بیوقوفی ہے ۔ ہم جس معاشرے اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں وہاں بھی روایت ہے کہ جتنا جلدی ہوسکے بیٹیوں کواپنے گھر کا کر دیناچاہئے، کیوں کہ ان کااصل گھر سسرال ہوتا ہے۔
    کہتے ہیں عورت ہر طرح کی تکلیف برداشت کر لیتی ہے۔ صنف نازک کالقب پانے والی عورت زندگی کے کئی معاملوں میں مرد سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتی ہے، لیکن عورت تکلیف توبرداشت کرلیتی ہے ، ذلت نہیں ! اور کر ے بھی کیوں جب اﷲ نے اسے اتنی عزت دی ہے کہ اسے ماں کا درجہ دیااور اس کے قدموں تلے جنت رکھی ہے تو ہم کیوں اس کی عزت نفس مجروح کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟ہم آج کس مذہب کی اقدار لے کر چل رہے ہیں، جہاں ماں باپ کواپنی بیٹی کو اس کے گھر کاکرنے کے لیے سجاسنوار کر ہر طرح کی چھوٹی اور اونچی سوچ رکھنے والے لوگوں کے آگے پیش کرنا پڑتاہے۔ 
    چلیں مان لیتے ہیں کہ یہ وہ مہم ہے ، جس کا حصہ بننا آج کے دور کی ضرورت بن گیا ہے، لیکن ان آنے والوں کی انسانیت ،شرافت اور غیرت اس وقت کہاں چلی جاتی ہے جب یہ لڑکی کے گھر آنے سے قبل یابعد میں اس کے والدین سے الٹے سیدھے سوالات پوچھتے ہیں ۔
لڑکی گوری ہے یا کالی ؟ چھوٹی ہے یا بڑی ؟ موٹی ہے یا پتلی ؟ لڑکیوں کو گھر آنے سے پہلے ہی اس قدر خود اذیتی کا شکار کر دیا جاتاہے کہ وہ لوگوں کے آگے آنے میں عار محسو س کرتی ہیں، گھبراتی ہیں، کانپتی ہیں لیکن ان سب سے لڑکے والوں کوکوئی فرق نہیں پڑتا، وہ آتے ہیں کھاتے ہیں ، گھورتے ہیں اور چلے جاتے ہیں!اوربعض اوقا ت تو جواب دینا بھی گوار ہ نہیں کرتے،اور یہاں لڑکی اوروالدین آس لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔
     سوشل میڈیاپر اکثر اوقا ت ایک لطیفہ نظر سے گزرتا ہے کہ خود کا بیٹا چاہے بھوسی کاٹکڑاہو لیکن بہو چاند کاٹکڑا چاہیے! کہتے ہیں کہ لڑکے کی صرف جاب، پیسہ اور گھر دیکھا جاتاہے، اس کی شکل و صورت نہیں، تو کوئی یہ بھی بتادے کہ پھر ہم لڑکیوں کا کیا قصور ہے ؟ہمارارنگ، صحت او ر صورت سب کچھ کیوں دیکھا جاتاہے۔ 
     ہماری سیرت گھر داری سلیقہ اور اخلاق کیوں نہیں دیکھاجاتا ؟کیوں ہمارے معاشرے میں ہرمعاملے میں عورت کومرد سے کمتر اورپیچھے رکھا جاتا ہے؟اس میں ساراقصورہماری سوچ کاہے، ہم نے اپنے ذہنوں میں یہ سوچ فٹ کر لی ہے کہ عورت برداشت کرتی ہے۔ ہماری اسی سوچ اور عمل نے لڑکیوں سے ان کی زندگی کا اہم فیصلہ کرنے کاحق چھین لیا ہے۔
    لڑکے ہزار نخر ے دکھائیں اور لڑکیاں ریجیکٹ کرتے پھریں لیکن ہمارے پاس کئی لوگوں کے آگے ریجیکٹ ہونے کے بعد یہ آپشن( اختیار) ہی نہیں رہتا کہ ہم ناں کر سکیں!ہم لڑکیاں اپنے ماں باپ کی پریشانیوں سے خودسے جنگ لڑتے لڑتے اس قدرتھک جاتی ہیں کہ بالآخرہم اپنی پسند پر ماں باپ کی پسندکو ترجیح دے دیتی ہیں۔
     سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے معاشر ے میں یہ گھر گھر جا کر ، کھا پی کر اور تنقید کرکے گھر کی عزت لانے کارواج کہاں سے آیا ہے، لیکن میں اتناضرور جانتی ہوں کہ اس چیز کی فوری طور پر اصلاح کی ضرورت ہے، اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہماری سوچ تبدیل ہوگی ۔ اگر لڑکے والے لڑکی کے گھر مس یونیورس تلاش کرنے کے بجائے بہوتلاش کرنے کی نیت سے جائیں اور یہ سوچ لیں کہ اگر آج وہ کسی کی بیٹی پر تنقیدکریں گے تو کل کو ان کی بیٹی بھی اس چیز کا نشانہ بن سکتی ہے تو مجھے یقین ہے کہ یہ سوچ ان کی پسماندہ سوچ کو اتنااونچا توکر ہی دے گی کہ وہ کسی بھی لڑکی کواس کے گہرے رنگ، عام شکل و صورت اور موٹاپے کی بنیاد پر ریجیکٹ کرنے سے پہلے دس بار ضرور سوچیں گے!خوبصورتی ہی سب کچھ نہیں ہوتی ہے اصل میں انسان کو اچھے اخلا ق کردار اور سیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔
          ساتھ ہی اس معاملے میں لڑکیوں کو بھی چاہئے کہ وہ خودکوکسی سے بھی کمتر نہ سمجھیں اورلوگوں کی فضول باتوں کو دل سے لگا کر بیٹھنے کے بجائے حوصلہ رکھیں اور اللہ پاک کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اس کے علاوہ ماں باپ کو بھی شادی کے معاملے میں دیر سویراور بار بار ریجیکٹ ہونے پر اپنی بیٹیو ں کو یا ان کے نصیب کو قصور وار نہیں ٹھہرانا چاہئے۔ خدا اپنے بیٹوں اور بہنوں کے لیے رشتہ تلاش کرنے والی ماؤں اور بہنوں کو نیک سمجھ دے اور امت کی تمام بہنوں اور بیٹیوں کو اچھا رفیق حیات نصیب کرے!                                          ٭…٭…٭

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. اللہ تعالیٰ اس طرح کے اصلاح کے ذریعہ لوگوں کی اصلاح فرمائیں اور اصلاح کرنے والوں کی عمر دراز فرمائیے اور بہترین جزاخیر آتا فرمائے آمین

    جواب دیںحذف کریں