Ticker

6/recent/ticker-posts

اہلکار ( اگوا ) حضرات کا انٹرویو


رشتہ نکاح کے سلسلے میں دو سینیئر اہلکاروں کا انٹرویو

 مفتی محمد عامر یاسین ملی 8446393682

      بخاری شریف کی روایت ہے اللہ کے رسولﷺ کے اوپر جب پہلی وحی نازل ہوئی تو اس آپ گھبرائے ہوئے حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو۔ آپﷺ کو کمبل اڑھا دیاگیا، جب آپﷺ کا ڈر جاتا رہا تو آپ نے اپنی زوجہ محترمہ خدیجہ کو تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ سنایا اور فرمانے لگے کہ مجھ کو اب اپنی جان کا خوف ہو گیا ہے، حضرت خدیجہؓ نے آپﷺ کی ڈھارس بندھائی اور کہا کہ آپ کا خیال صحیح نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ تو کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بےمثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ حق بات کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایسے اوصاف حسنہ والا انسان یوں بے وقت ذلت و خواری کی موت نہیں پا سکتا۔
    قارئین! حضورﷺ کی مکی زندگی کا یہ سب سے نمایاں پہلو ہے ، جسے موجودہ دور میں بڑی حد تک مسلمانوں نے فراموش کردیا ہے۔ آج جب کہ ہر شخص اپنے ذاتی مسائل میں الجھا ہوا ہے ، اسے دوسروں کے مسائل سے نہ ہی واقفیت ہوتی ہے اور نہ ہی ان مسائل کے حل کے سلسلے میں کوئی دلچسپی ہوتی ہے، لیکن اسی بے مروتی اور مفاد پرستی کے دور میں کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اس شعر کے مصداق ہیں ؂
میری زندگی یہی ہے کہ ہر اک کو فیض پہنچے
میں چراغ رہ گزر ہوں مجھے شوق سے جلاؤ

     ایسے ہی درد مند دل رکھنے والے بافیض افراد میں ہمارے مخدوم الحاج ماسٹر محمد ہارون جامعی صاحب کا بھی شمار ہوتا ہے ،آپ ایک ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ہیں اور گزشتہ پچاس سالوں سے سماجی و فلاحی خدمات انجام دے رہے ہیں،خصوصا سن 2007 میں اسکول سے ریٹائر ہونے کے بعد سے آپ پورے طور پر سماجی و فلاحی کاموں بطور خاص نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے رشتے جوڑنے کی اہم خدمت بلامعاوضہ انجام دے رہے ہیں، موصوف راقم الحروف سے انتہائی مخلصانہ اور والہانہ تعلق رکھتے ہیں۔
    اسی شعبے سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک دوسرے مخلص ہیں جناب اشتیاق احمد صاحب، یہ بھی گزشتہ تین دہائیوں سے رشتہ طے کروانے کا کام انجام دے رہے ہیں۔
      راقم نے ان دونوں حضرات سے تفصیلی ملاقات کرکے رشتہ نکاح سے متعلق سماجی صورتحال پر ان کے طویل تجربات کی روشنی میں بہت ساری اہم باتیں معلوم کیں، ذیل میں ان سے ہونے والی گفتگو کو سوال و جواب کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے جسے پڑھنے کے بعد قارئین کو بھی رشتہ نکاح کے انتخاب سے متعلق پیچیدگیوں اور اس سلسلے میں لوگوں کی سوچ اور ان کے معاملات کا بخوبی اندازہ ہوگا۔

سوال: رشتہ نکاح کے سلسلے میں لوگ کس چیز کو ترجیح دیتے ہیں؟
جواب: لڑکی کی خوبصورتی اور لڑکے کی مالداری کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ہم لوگوں کے پاس خوبصورت لڑکیوں اور مالدار لڑکوں کے رشتے بہت کم آتے ہیں، اس لیے کہ ان کو رشتہ تلاش کرنے کے لئے کسی کو بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی، رشتے خود چل کر ان کے پاس آتے ہیں۔

سوال: آج سے کچھ عرصہ پہلے لوگوں کی ترجیح کیا ہوا کرتی تھی ؟
جواب: بیس سال پہلے لوگ محنتی لڑکے اور گھریلو کاموں کا سلیقہ رکھنے والی کم تعلیم یافتہ لڑکی تلاش کرتے تھے،نیز اس بات پر بھی لوگوں کی نگاہ ہوتی تھی کہ لڑکا یا لڑکی نے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی ہے یا نہیں؟ اس کے برعکس اب دینی تعلیم سے متعلق بہت کم لوگ سوال کرتے ہیں، البتہ عصری تعلیم ضرور پوچھتے ہیں۔

سوال :عام طور پر لوگ کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کتنی لڑکیوں کو دیکھنے کے بعد رشتہ طے کرتے ہیں؟
جواب: یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بعض خواتین کو لڑکیاں دیکھنے کا شوق ہوتا ہے، وہ کم از کم دس پندرہ اور زیادہ سے زیادہ پچیس سے تیس لڑکیاں دیکھنے کے بعد اپنے بیٹے کے لئے کوئی لڑکی پسند کرتی ہیں۔
(اس سوال پر ماسٹر محمد ہارون صاحب نے بتایا کہ ایک نوجوان نے یکے بعد دیگرے پندرہ لڑکیوں کو دیکھنے کے بعد ان کا رشتہ رد کردیا تو انہوں نے اس سے کہا کہ اب تمہاری پسند کا رشتہ صوبہ کشمیر ہی میں مل سکتا ہے!)

سوال: لوگ اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کے لیے کس عمر میں رشتہ تلاش کرتے ہیں؟
جواب :پہلے سولہ اور اٹھارہ سال میں لڑکیوں اور اٹھارہ اور بیس سال کی عمر ہوتے ہی لڑکوں کا نکاح کردیا جاتا تھا ،لیکن اب تعلیم کی خاطر لڑکیاں تیئیس اور پچیس سال کی ہوجاتی ہیں، اسی طرح لڑکے ملازمت کے انتظار میں پچیس اور ستائیس سال کے ہو جاتے ہیں تب ان کے لئے رشتہ نکاح تلاش کیا جاتا ہے، نتیجے میں ان کی عمریں مزید بڑھتی جاتی ہیں۔ آج تیس سے پینتیس سال کی بہت ساری اعلی تعلیم یافتہ لڑکیاں رشتہ نکاح کی منتظر ہیں لیکن ان کے جوڑ کا مناسب رشتہ نہیں ملتا، اس کے باوجود والدین اپنی شرائط میں کمی کرنے کے لیے اور حالات سے سمجھوتا کرنے کے لئے راضی نہیں ہیں ۔حالانکہ موجودہ حیاءسوز ماحول میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا نکاح جتنی جلدی کردیا جائے اتنا بہتر ہے۔ بعض نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خود سے رابطہ کرکے اہلکار حضرات سے گزارش کرتے ہیں کہ ہمارے لئے کوئی مناسب رشتہ تلاش کرکے ہمارے والدین کو بتاؤ، لیکن والدین کو اس چیز کا بہت کم احساس ہوتا ہے۔

سوال: موجودہ دور میں رشتہ نکاح کی تلاش اس قدر مشکل چیز کیوں بن چکی ہے؟
جواب: ہر شخص شریعت کے بنائے ہوئے معیار کو چھوڑ کر اپنے معیار کے مطابق رشتہ تلاش کر رہا ہے اور ہر ایک اپنے سے بہتر اور بڑھ کر رشتہ کی چاہت رکھتا ہے۔

سوال: لڑکیوں کے رشتے باربار رد کرنے میں سب سے اہم رول لڑکوں کا ہوتا ہے یا کسی اور کا؟
جواب: عموما رشتے کی بات لڑکوں تک نہیں پہنچ پاتی، اس سے پہلے ہی لڑکے کی بہنیں اور خصوصا اس کی والدہ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے رشتے سے انکار کر دیتی ہیں۔البتہ جہاں رشتہ منظور کرنے کا پورا اختیار مردوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے، وہاں لڑکے اور لڑکیوں کو جلد ہی کوئی مناسب رشتہ مل جاتا ہے۔

سوال: مطلقہ اور بیوہ خواتین کے رشتہ نکاح کی کیا صورت حال ہے اور ان کے مسائل کا حل کیا ہے؟
جواب: مطلقہ اور بیوہ خواتین کے نکاح ثانی کیلئے رشتہ ملنا کافی مشکل اور پیچیدہ کام ہے، اس لیے کہ عموما لوگ کنواری لڑکی کا رشتہ تلاش کرتے ہیں، مطلقہ اور بیوہ خاتون کی عمر اگر لڑکے کی عمر سے زیادہ ہو یا اس کی گود میں بچہ ہو تو ایسی خواتین کا رشتہ مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ
اگر کسی مطلقہ اور بیوہ خاتون کو کوئی ایسا دیندار شوہر مل رہا ہو جس کے نکاح میں پہلے سے بیوی موجود ہو تو وقت ضائع کرنے کے بجائے اسی سے نکاح کرلینا چاہیے۔اس لئے کہ اگر بیوہ یا مطلقہ کی عمر چالیس سے پینتالیس سال ہوجائے تو پھر وہ از خود نکاح ثانی میں دلچسپی نہیں لیتی، اس لئے کہ ایک جانب جہاں بچوں کی فکر دامن گیر رہتی ہے وہیں معاشرے کی جانب سے تنقید کاخوف بھی لاحق رہتا ہے۔یہی حال ان مردوں کا ہوتا ہے جن کی عمر پچاس سے ساٹھ سال ہو جاتی ہے اور بیوی کا انتقال ہو جاتا ہے ،وہ چاہت کے باوجود نکاح ثانی سے کتراتے ہیں۔ حالانکہ عمر کے اس مرحلے میں بیوی جس انداز میں شوہر کی خدمت کر سکتی ہے، ویسی خدمت نہ بیٹی کر سکتی ہے اور نہ بہو یا بہن کر سکتی ہے۔اس سلسلے میں علمائے کرام کو لوگوں کی سوچ بدلنے اور مزاج بنانے کے لئے کوشش کرنی چاہیے۔

سوال: ایک سے زائد نکاح کے سلسلے میں لوگوں کی سوچ اور ان کا عمل کیا ہے ؟
جواب: زیادہ تر لوگ ایک سے زائد نکاح کے فوائد نہیں جانتے ، خصوصا خواتین اسے غلط اور نامناسب سمجھتی ہیں، جس کی بنیادی وجہ لاعلمی اور ایک سے زائد نکاح کرنے والے بعض لوگوں کا غلط طرز عمل اور پہلی بیوی پر زیادتی بھی ہے ،حالانکہ ایک سے زائد نکاح کا نظام خود خواتین کے لیے رحمت ہے ،اس لیے علماء کرام کو ایک سے زائد نکاح کی حکمتوں اور مصلحتوں سے عام لوگوں کو واقف کرانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اسے رواج دینا چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں گرچہ ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے جنہوں نے اس سے زائد نہیں نکاح کیا ہے لیکن ان میں سے اکثر افراد دونوں بیویوں کے ساتھ انصاف کرکے خوش وخرم زندگی گزار رہے ہیں ۔

سوال: لوگوں کا آپ حضرات کے ساتھ سلوک کیسا ہوتا ہے؟
جواب: جب تک رشتہ نہ مل جائے لوگ بار بار ملاقات کرتے ہیں لیکن رشتہ ہو جانے کے بعد اکثر لوگ گویا ہمیں پہچانتے ہی نہیں، اسی طرح اگر رشتہ اچھا ہو تو ہمارے شکر گزار نہیں ہوتے، لیکن اگرخدانخواستہ نکاح کے بعد طلاق کی نوبت آجائے یا کسی طرح کی کوئی بدمزگی پیدا ہو جائے تو اس کا ذمہ دار ہم لوگوں کو گردانتے ہیں، حالانکہ ہم لوگ صرف رشتوں کی نشاندہی کرتے ہیں، تحقیق کر کے اطمینان کرنا،یہ لڑکےاور لڑکی کے والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری پے۔
***

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے