Ticker

6/recent/ticker-posts

تعزیت کا طریقہ اور تعزیتی تقریر

تعزیت کا طریقہ اور تعزیتی تقریر

تعزیت کالغوی معنی ہے مصیبت زدہ کو صبر دلانا اور غمخواری کرنا۔اصطلاحی معنی ہے صبر کا حکم دینا،گناہ سے ڈرانا،میت کے لیے مغفرت اور مصیبت زدہ کے لیے مصیبت کی تلافی کی دعا کرنا۔ 
      حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ(ہمارے گھر) تشریف لائے۔ اس وقت ابو سلمہ کی آنکھیں پتھرا چکی تھیں۔ آپ ﷺنے ابو سلمہ کی آنکھیں بند کرکے فرمایا: ’’جب روح قبض کی جاتی ہے تو نظر اس کے تعاقب میں جاتی ہے۔‘‘ گھر والے اس بات پر رونے لگے تو آپ ﷺنے فرمایا: ’’اپنے مرنے والے کے حق میں اچھی بات کہو کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔‘‘ پھر آپ ﷺنے (ابوسلمہ کے حق میں) یہ دعا فرمائی: ’’اے اللہ! ابوسلمہ کو بخش دیجئے، اسے ہدایت یافتہ لو گوں میں بلندمرتبہ عنایت فرمائیے اور اس کے ورثاء کی حفاظت فرمائیے، اے ربّ العالمین!ہم سب کو اور مرنے والے کو معاف فرما دیجئے، میت کی قبر کشادہ کردیجئے اور اسے نورسے بھر دیجئے۔‘‘(مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تعزیتی تقریر میں موت کی حقیقت، اہل خانہ کو صبر کی تلقین اور میت کے لئے دعائے مغفرت کا اہتمام ہونا چاہیے ۔ حدیث میں مرحومین کی خوبیوں کو ذکر کرنے کا حکم بھی ملتا ہے ، حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنے مرحومین کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی خامیوں سے صرف نظر کرو۔(ترمذی) لہذا تعزیتی تقریر میں مرحوم کی خوبیوں کو بھی بغیر کسی مبالغہ کے مختصراََ ذکر کردیا جائے تو مناسب ہے ۔
   مجموعی طور پر تعزیتی تقریر میں جن امور کا لحاظ رکھنا چاہیے وہ درج ذیل ہیں:
(1 )موت کی حقیقت اورموت و حیات سے متعلق ضابطہ خداوندی پر روشنی ڈالی جائے!
(2)غم اور حادثہ کے موقع پر صبر کا حکم اور صبر کی فضیلت بیان کی جائے!
(3) مرحوم کی چند خوبیاں ذکر کی جائیں!
(4)اہل خانہ کو مرحوم کی وصیت ( اگر کی ہو) نافذ کرنے اور اس کے قرضہ جات اور نماز روزے کے فدیہ کی ادائیگی بطور خاص ترکے کی شرعی طور پر جلد تقسیم کی تلقین کی جائے!
(5)سامعین و حاضرین کو اپنی موت کی تیاری کرنے کی تلقین کی جائے!
(6)مرحوم کے حق میں دعائےمغفرت کی جائے!
 (7) تعزیتی تقریر مختصر اور جامع ہونی چاہیے نیز تعزیت کرنے والے کے علم میں مرحوم کا نام ، عمر ، موت کا پس منظر اور پسماندگان کی مختصر تفصیل بھی ہوتو بہتر ہے۔

تعزیتی تقریردرج ذیل ہے:
نحمدہ ونصلی علی رسولہٖ الکریم امابعد !
أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْت صَدقَ اللہ الْعَظِیْم وَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیہِ وَسَلَّم اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْت (ترمذی)
محترم حضرات خصوصاََ مرحوم/ مرحومہ کے اہل خانہ اور اعزہ واقربا!
اللہ رب العزت نے جس دن یہ کائنات بنائی ، اسی دن سے یہ ضابطہ بھی مقرر کردیا کہ اس کائنات میں آنے والے ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہوگا ۔ اس کائنات کے پہلے دن سے لےکر آج تک موت کا یہ سلسلہ جاری ہے ۔یہاں تک کہ سب سے پہلے انسان اورنبی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری نبی ہم سب کے آقا جناب رسول اللہ ﷺ تک ہر پیغمبر کو موت کے مرحلے سے گزارا گیا ؎
نہ نبی رہے نہ ولی رہے نہ سخی رہے نہ غنی رہے
چلے جارہے ہیں کشاں کشاں کوئی قید پیر و جواں نہیں
موت ایک اٹل حقیقت ہے اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ ہر ایک کو موت کا مزہ چکھنا ہے،اس کے باوجود جب ہماراکوئی عزیز ہم سے رخصت ہوتاہے تو دل کا غمگین اور آنکھوں کا اشکبا ر ہونا فطری ہے ، ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان والوں کی آزمائش ہوتی ہے کہ وہ اسے خدا کافیصلہ سمجھ کرراضی رہتے ہیں اور صبر کرتے ہیں یا نہیں ؟
جب رسول اللہ ﷺ کے صاحب زادےحضرت ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو آپ ﷺ رو پڑے، آپ سے تعزیت کرنے والے ( وہ یا تو ابوبکر تھے یا عمر رضی اللہ عنہما ) نے کہا: آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آنکھ روتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا، تو اے ابراہیم! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں۔(بخاری شریف)
قرآ ن کریم اور احادیث مبارکہ میں صبر کرنے والوں کے لیے بڑے فضائل اور انعامات کا ذکر ملتاہے ، سورہ بقرہ میں ارشاد ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، سورہ زمرمیں ہے کہ صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر سے نوازا جائے گا۔ بخاری شریف کی روایت ہے ،رسول اللہﷺ نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی، میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔“
محترم حضرات!آج خدا تعالیٰ نے ہمارے ایک عزیز کو اپنی رحمت میں واپس بلالیا،یہ ہمارے لیے صبر کا موقع ہےہم اگر اس موقع پر صبر کا مظاہر ہ کرتے ہیں تو ہم صبر پر ملنے والے اجر وثواب کے حقدار ہوں گے، حضرت ابوامامہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اللہ پاک فرماتے ہیں: آدم کے بیٹے !اگرتو صدمہ کے شروع میں صبرکرے اور ثواب کی امید رکھے تو میں (تیرے لئے) جنت کے علاوہ اور کسی بدلہ کو پسند نہ کروں گا۔ (سنن ابن ماجہ)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر تو وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے۔( بخاری )
یادرکھیں !صبر کے ذریعہ جہاں اجر و ثواب ملتاہے ، دل کوتسلی ملتی ہے ، وہیں ا للہ کی طرف سے لی جانے والی نعمت کا نعم البدل ملتا ہے۔اُمّ المؤمنین سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرے شوہر ابوسلمہ ایک دن رسول اللہﷺ کے پاس سے تشریف لائے اورکہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک ایسی بات کہتے سنا ہے کہ جس سے مجھے بہت خوشی ہوئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی مسلمان کو کوئی مصیبت آئے اور وہ اس وقت (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) کہہ کہ یہ دعا پڑھے اللَّہُمَّ أْجُرْنِی فِی مُصِیبَتِی وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا (یا اللہ! مجھے اس مصیبت کا اجر دے اور اس کا نعم البدل عطا فرما) تو اللہ اسے یہ چیزیں عطا فرما دیتا ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ان کی یہ بات یاد رکھی اور جب ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو میں نے (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) کہہ کہ یہ دعا پڑھی اللَّہُمَّ أْجُرْنِی فِی مُصِیبَتِی وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا لیکن ساتھ ہی میرے دل میں خیال آیا کہ ابو سلمہ سے بہتر اور اچھا انسان کون ہو سکتا ہے؟ (بہرحال میں نے دعا جاری رکھی)، سو جب میری عدت پوری ہوئی تو اللہ کے رسولﷺ نے میرے ہاں داخل ہو نے کی اجازت طلب کی، اس وقت میں چمڑا رنگ رہی تھی، میں نے جلدی سے ہاتھ دھوئے اور آپ ﷺ کو اندر آنے کی اجازت دی،اور آپ کے لیے چمڑے کا ایک تکیہ رکھا، اس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے، آپ اس پر بیٹھ گئے اور آپ نے مجھے اپنے ساتھ نکاح کا پیغام دیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کی بات تسلیم کر لی اور اللہ کے رسول ﷺ نے مجھ سے نکاح کر لیا، سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی شکل میں ابو سلمہ کے بدلے میں ان سے بہتر شوہرعطاکیا۔(احمد)
نوٹ:مذکورہ بالا باتیں ہر تعزیتی تقریر میں کہی جاسکتی ہیں ، البتہ آگے پیش کی جانے والی باتیں مرحوم یا مرحومہ کے مختلف حالات سے تعلق رکھتی ہیں ، مثلاً:
 مرحوم نے طویل عمر پائی ہو تو یہ حدیث ذکر کریں:
حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ موت کی تمنا نہ کرو ، کیونکہ مرنے کے بعد کے سماں کی ہولناکی بہت سخت ہے ، اور یہ سعادت کی بات ہے کہ بندے کی عمر دراز ہو جائے اور اللہ عزوجل اسے اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔‘‘(مسند احمد)
بچے کاانتقال ہو تو یہ احادیث سنائیں
آپﷺ نے فرمایا جب کسی کا بچہ انتقال کرتاہے تو اللہ تعالیٰ ملائکہ سے فرماتا ہے تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کی؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ ہاں! پھر فرماتا ہے تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا؟ عرض کرتے ہیں ہاں ! پھررب تعالیٰ فرماتا ہے اس پر میرے بندے نے کیا کہا؟ عرض کرتے ہیں اس نے تیری حمد کی اور پڑھا کہ ’’انّا للہ وَاِنَّا اِلَیہ رَاجِعُوْن‘‘ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘‘اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اس کے لئے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔(مسند احمد)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے تین بچے انتقال کر جائیں، وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کسی عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان پر صبر کرے تو جنت میں داخل ہوگی۔ ان میں سے ایک عورت نے کہا: دو بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بھی فوت ہو جائیں تب بھی۔ (بخاری شریف)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ساقط بچہ اپنی ماں کو اپنی ناف سے جنت میں کھینچے گا جب کہ وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے ۔ (ابن ماجہ)
حادثاتی طور پر موت ہوئی ہوتو یہ حدیث سنائیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل فی سبیل اللہ کے علاوہ بھی سات شہادتیں ہیں: طاعون میں مرجانے والا شہید ہے، ڈوب کر مر جانے والا شہید ہے، ذات الجنب ( نمونیہ ) سے مر جانے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری (دست وغیرہ ) سے مر جانے والا شہید ہے، جل کر مر جانے والا شہید ہے، جو دیوار گرنے سے مر جائے شہید ہے، اوروہ عورت جو حالت حمل میں ہو اور انتقال کر جائے تو وہ بھی شہید ہے ۔ (ابو داؤد )
مرحوم بیمار رہے ہوں تو یہ حدیث سنائیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا رتبہ مل جاتا ہے جس تک وہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ پاتا تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے ذریعہ اسے آزماتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ بندہ اس مقام کو جا پہنچتا ہے جو اسے اللہ کی طرف سے ملا تھا ۔ (ابوداؤد) 
٭......٭......٭


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے