از: مفتی محمد عامر یاسین ملی
اس وقت ہمارے شہر کے اکثر راستوں کا جو حال ہے ،اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ ’’پورا شہر گڑھے میں ہے‘‘۔ حال یہ ہے کہ راستہ چلتے ہوئے اگر کچھ دور تک گڑھا یا غیر ضروری بریکر نظر نہ آئے تو راہ گیر کو خوشگوار حیرت ہونے لگتی ہے اور پھر اگلے ہی موڑ پر یہ حیرت ختم ہوجاتی ہے جب انڈر گراؤنڈ گٹر اور پائپ لائن کے نام پر کھود کر برباد کیے گئے راستےشروع ہوجاتے ہیں، جانکار کہتے ہیں کہ راستہ کھودنے کے بعد اس کو پہلے کی طرح درست کرنا ٹھکیدار کی ذمہ داری ہے ،لیکن ہمارے یہاں مٹی کے ہی ذریعہ گڑھوں کو مناسب انداز میں بھر دیا جائے توبھی غنیمت ہے ،ورنہ حال یہ ہے کہ گڑھوں کو جیسے تیسے بھر کر اور راستوں پر بقیہ مٹی چھوڑ کر ٹھیکیدار ایسے غائب ہوتا ہے جیسے ایک مخصوص جانور کے سر سے سینگ!اب عوام کاکام ہے کہ وہ احتیاط سے راستہ چلے یا پھر گڑھوں کی وجہ سے گر کر ہاسپیٹل پہنچے ،ویسے اب عام لوگ ان گڑھوں کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ اس سلسلہ میں نہ کوئی آواز بلند کرتے ہیں اور نہ کوئی مخالفت !(ہر شخص سوچتا ہے کہ یہ کوئی میرا ذاتی مسئلہ تھوڑی ہے )لہذااب ہم لوگ کہیں راستہ خراب ہوتو کسی دوسرے اچھے راستے کا انتخاب کرلیتے ہیں اور راستے میں گڑھے نظر آئیں تو کنارے سے گزر جاتے ہیں ۔(آگرہ روڈ پر سخاوت ہوٹل، مدینہ مسجد اور ملن ہوٹل کے پاس پائپ لائن درستگی کے نام پر کھودے گئے گڑھے اس کی مثال ہیں)۔
چند ماہ قبل سلام چاچا روڈ پر عائشہ نگر قبرستان کے بالکل سامنے کھدائی کی گئی اور سیمنٹ روڈ کو کھود کر حسب معمول جیسے تیسے گڑھا بھردیا گیا ،قبرستان کے سامنے سے جب آپ صوفیہ مسجد کی جانب ٹرن لینے لگیں گے (عبد الرحیم سیٹھ ریلائبل والے کے بنگلےکی جانب )وہاں آپ کو بالکل راستےمیں گڑھا نظر آئے گا ،گزشتہ دنوں یہ گڑھا اتنا گہرا ہوگیا تھا کہ اس میں رکشہ اور ٹووہیلر جیسی سواریوں کا پہیہ پھنسنے لگا تھا ،یہاں تک کہ بے خیالی میں راہ گیر گرنے لگے تھے ،لیکن کسی کو یہ خیال نہیں گزراکہ مٹی اور پتھر ڈال کر اس گڑھے کو بھردیا جائے ،راقم نے جناب اشفاق اشرفی صاحب (اشفاق بڑے)اور مسجد آفتاب رسالت کے مؤذن جناب کلیم اجمیری صاحب کو اس جانب متوجہ کیا اور گزارش کی کہ بیچ راستے میں واقع اس خطرناک گڑھے کو بند کردیں تاکہ کوئی بڑا حادثہ نہ پیش آئے ۔اللہ پاک جزائے خیر دے کلیم اجمیری صاحب کو ،انہوں نے توجہ دی اور محنت کرکے پتھر اور مٹی ڈال کر اچھی طرح گڑھا بھردیا ،ان کے اس عمل سے سینکڑوں راہ گیروں کو راحت ملی اور ان کے دل سے کلیم اجمیری صاحب کے لیے دعا نکلی ہوگی ۔
میں ذاتی طور پر بھی موصوف کا شکر گزار ہوں اور اس تحریر کے ذریعہ شہریان کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اپنے ارد گرد چھوٹے موٹے گڑھوں کو خود ہی بھر دیں ،اور راستے میں پتھر یا مٹی کا ڈھیر خود ہی ہٹادیں ،ٹھیکیدار ،سرکاری کارندے اور نمائندوں کا انتظار نہ کریں ،یہ چھوٹی موٹی خدمت نیکی کے حصول کی نیت سے کرلیا کریں ۔
آنحضرتﷺ کا ارشاد گرامی ہے :راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دیا کر ،یہ بھی تیرے لیے صدقہ ہے۔‘‘
ہم پورا راستہ درست نہیں کرسکتے ،لیکن اپنی بساط بھر کوشش کرکے چھوٹی موٹی تکلیف دہ چیزوں کو بھی دور کردیں تو یہ عمل ہزاروں لوگوں کے لیے راحت کا سبب بنے گا ۔بقول شاعر
مانا کہ اس گلی کو نہ گلزار کرسکے
کچھ خارکم تو کر گئےگزرے جدھر سے ہم
یہ بات درست ہے کہ اصولاًیہ کام ٹھیکیداروں ،سرکاری کارندوں اور سیاسی نمائندوں کا ہے ،لیکن جب بے حسی اور اپنے فرائض سے غفلت ولاپروائی عام ہوجائے تو پھر حالات ومسائل کا رونا رونے (سوشل میڈیا پر اور نجی مجلسوں میں تبصرے)سے کہیں بہتر ہے کہ آگے بڑھ کر کچھ کام کرلیا جائے !مشہور شاعر احمد فراز کیسے خوبصورت انداز میں یہی پیغام دیا ہے ؎
شکوۂ ظلمت شب سے توکہیں بہتر تھا
اپنے حصے کا دیا خود ہی جلاتے جاتے
آئیے ! سماجی مسائل کو دور کرنے کے سلسلہ میں اپنے حصہ کا دیا جلائیں،تاکہ کسی درجہ میں اندھیروں کا خاتمہ ہوسکے!
0 تبصرے