قاسمیہ مسجد میں درس قرآن کی افتتاحی تقریب سے حضرت مولانا مختار مدنی کا خطاب
قرآن کریم اللہ کی کتاب بھی ہے اور اس کا کلام بھی! ہم قرآن کریم کا احترام تو خوب کرتے ہیں لیکن اس کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ اللہ قرآن کریم میں ہم سے کیا کہہ رہا ہے ؟ ہمیں چاہیے کہ قرآن پاک کو پڑھنے کے ساتھ اس کو سمجھیں اور اس کے پیغام پر اس حد تک عمل کریں کہ قرآنی احکام کی جھلک ہماری زندگی میں نظر آئے، جو شخص قرآن مجید سے اپنے آپ کو جتنا جوڑے گا ، اس کی زندگی میں اتنی زیادہ وسعت اور برکت نظر آئے گی۔ ان فکر انگیز جملوں کا اظہار مدرسہ سراج العلوم دھولیہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مختار سعید مدنی نے گزشتہ شب قاسمیہ مسجد میں کیا، واضح ہو کہ موصوف درس قرآن کی افتتاحی تقریب سے مخاطب تھے، انہوں نے فرمایا کہ تفسیر قرآن کے حلقے مسلمانوں کو آپس میں جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہیں ، جس میں تمام مسلمانوں کو شوق سے شرکت کرنی چاہیے۔ اس موقع پر نوجوان عالم دین مفتی محمد عامر یاسین ملی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ مسجد قاسمیہ میں ہر ہفتہ بدھ کے روز درس قرآن کی تقریب منعقد ہوا کرے گی اور حالات حاضرہ کے تناظر میں قرآن ہم سے کیا کہتا ہے؟ کے عنوان سے وہ مختلف مقامات سے قرآن پاک کا درس دیں گے تاکہ پیش آمدہ معاملات و مسائل کے سلسلے میں بروقت قرآنی رہنمائی حاصل کی جا سکے ،انہوں نے بتایا کہ مجلس درس کا دورانیہ محض آدھا گھنٹہ ہوگا اور آخر میں سامعین کے دینی سوالات کے جوابات بھی دئے جائیں گے۔
یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قاسمیہ مسجد میں درس قرآن کا سلسلہ ایک نئی ترتیب سے جاری ہورہا ہے ،جس کی مولانا مختار سعید مدنی صاحب نے ستائش کی اور کہا کہ یہ ایک فطری ترتیب ہے اور اہم ضرورت کی تکمیل بھی، انہوں بتایا کہ قرآن پاک کی آیات اور سورتیں ضرورت کے مطابق ہی نازل ہوا کرتی تھیں ۔ لھذا موقع کی مناسبت سے مختلف مقامات سے درس قرآن کے اس نئے زرین سلسلے کو اہتمام کے ساتھ جاری کرنا چاہیے اور عام مسلمانوں کو اس میں شریک ہونا چاہیے۔
درس قرآن کی یہ افتتاحی تقریب ڈاکٹر زبیر صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی ، قاری عبداللہ کفلیتوی صاحب کی تلاوت اور قاری محمد توصیف عکرمی صاحب کی نعت سے تقریب کا اغاز ہوا، مولانا عبدالوحید ندوی صاحب نے نظامت کے فرائض بخوبی انجام دئے ۔ تقریب میں بڑی تعداد میں مرد حضرات اور خواتین نے شرکت کی، جن میں مولانا امین الجبار ملی، مفتی ہارون ندوی، حافظ شارق ،مولانا ریحان رئیس ندوی، جناب شاہد سر، قاری عبدالجلیل جلیلی، جناب مزمل حسین رحیمی، اعجاز انڈیگو، جناب عارف سندیپ اور خلیل احمد ازہری وغیرہ قابلِ ذکر ہیں ۔
مختلف مقامات سے درس قرآن کے نئے سلسلے کا آغاز
مالیگاؤں میں افتتاحی تقریب سے مولانا مختار مدنی کا خطاب
قرآن کریم اللہ کی کتاب بھی ہے اور اس کا کلام بھی! ہم قرآن کریم کا احترام تو خوب کرتے ہیں لیکن اس کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ اللہ قرآن کریم میں ہم سے کیا کہہ رہا ہے ؟ ہمیں چاہیے کہ قرآن پاک کو پڑھنے کے ساتھ اس کو سمجھیں اور اس کے پیغام پر اس حد تک عمل کریں کہ قرآنی احکام کی جھلک ہماری زندگی میں نظر آئے، جو شخص قرآن مجید سے اپنے آپ کو جتنا جوڑے گا ، اس کی زندگی میں اتنی زیادہ وسعت اور برکت نظر آئے گی۔ ان فکر انگیز جملوں کا اظہار مدرسہ سراج العلوم دھولیہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مختار سعید مدنی نے گزشتہ شب قاسمیہ مسجد میں کیا، واضح ہو کہ موصوف درس قرآن کی افتتاحی تقریب سے مخاطب تھے، انہوں نے فرمایا کہ تفسیر قرآن کے حلقے مسلمانوں کو آپس میں جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہیں ، جس میں تمام مسلمانوں کو شوق سے شرکت کرنی چاہیے۔ اس موقع پر نوجوان عالم دین مفتی محمد عامر یاسین ملی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ مسجد قاسمیہ میں ہر ہفتہ بدھ کے روز درس قرآن کی تقریب منعقد ہوا کرے گی اور حالات حاضرہ کے تناظر میں قرآن ہم سے کیا کہتا ہے؟ کے عنوان سے وہ مختلف مقامات سے قرآن پاک کا درس دیں گے تاکہ پیش آمدہ معاملات و مسائل کے سلسلے میں بروقت قرآنی رہنمائی حاصل کی جا سکے ،انہوں نے بتایا کہ مجلس درس کا دورانیہ محض آدھا گھنٹہ ہوگا اور آخر میں سامعین کے دینی سوالات کے جوابات بھی دئے جائیں گے۔
یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ قاسمیہ مسجد میں درس قرآن کا سلسلہ ایک نئی ترتیب سے جاری ہورہا ہے ،جس کی مولانا مختار سعید مدنی صاحب نے ستائش کی اور کہا کہ یہ ایک فطری ترتیب ہے اور اہم ضرورت کی تکمیل بھی، انہوں بتایا کہ قرآن پاک کی آیات اور سورتیں ضرورت کے مطابق ہی نازل ہوا کرتی تھیں ۔ لھذا موقع کی مناسبت سے مختلف مقامات سے درس قرآن کے اس نئے زرین سلسلے کو اہتمام کے ساتھ جاری کرنا چاہیے اور عام مسلمانوں کو اس میں شریک ہونا چاہیے۔
درس قرآن کی یہ افتتاحی تقریب ڈاکٹر زبیر صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی ، قاری عبداللہ کفلیتوی صاحب کی تلاوت اور قاری محمد توصیف عکرمی صاحب کی نعت سے تقریب کا اغاز ہوا، مولانا عبدالوحید ندوی صاحب نے نظامت کے فرائض بخوبی انجام دئے ۔ تقریب میں بڑی تعداد میں مرد حضرات اور خواتین نے شرکت کی، جن میں مولانا امین الجبار ملی، مفتی ہارون ندوی، حافظ شارق ،مولانا ریحان رئیس ندوی، جناب شاہد سر، قاری عبدالجلیل جلیلی، جناب مزمل حسین رحیمی، اعجاز انڈیگو، جناب عارف سندیپ اور خلیل احمد ازہری وغیرہ قابلِ ذکر ہیں ۔
Show quoted text
0 تبصرے