از :مفتی محمد عامریاسین ملی
محترم قارئین !یہ بات ہم سب کے لیے تشویش کاباعث ہے کہ ہمارے شہر بالخصوص مسلم معاشرے میں نشہ آور چیزوں کا استعمال انتہا کی حد تک بڑ ھ چکا ہے ،اور عوام ہی نہیں خواص بلکہ تعلیم یافتہ اور دیندار افراد بھی نشے کی لت میں مبتلا نظر آتے ہیں ،نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب نشہ خوری کو لوگوں نے برا سمجھنا اور اس پر نکیر کرنا بھی چھوڑ دیا ہے،حالانکہ نشہ (شراب کا ہو یا بیڑی ،سگریٹ ،تمباکو اور گٹکھےکایا ای سگریٹ،چرس،ہیروئن ،کوکین ،آئس کا)بہر حال انسان کی صحت ،اس کی جان ،مال اور اخلاق کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے ،نشہ معمولی درجے کا بھی ہوتو وہ ہلکا زہر ہے،جو آہستہ آہستہ مہلک امراض (منہ، پھیپھڑوں اور گلے کاکینسر،دمہ،فالج ،جگراورمسوڑھوں کی بیماری وغیرہ )میں مبتلا کردیتا ہے ،اگر ہم گہرائی سے اپنے اطراف کا جائزہ لیں تو ہمارے بہت سارے رشتے دار اور دوست احباب نشہ کے نتیجے میں مذکورہ بیماریوں کا شکار نظر آئیں گے ۔گزشتہ چند برسوں میں راقم نے خود ایسے متعدد افراد (جن میں تعلیم یافتہ حضرات :ڈاکٹر ،معلم ،ٹیچر ،سیاسی لیڈراور عام افراد: مزدور وغیرہ)کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو تمباکو اور گٹکھےکی لت کا شکار ہوکر کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہوئے اور پھر علاج ومعالجے کی ہر ممکن کوشش کے باوجود یہی مرض ان کی موت کا سبب ثابت ہوا ،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے افراد کو دیکھ کر ان کے اہل خانہ ،دوست واحباب اور عام لوگ عبرت حاصل کر کے ہر قسم کا نشہ ترک کردیتے ،لیکن افسوس !نشہ آور چیزوں کے پیکٹ پر اس وارننگ کےباجود (کہ یہ چیز کینسر کا سبب ہے )لوگ بے خوف ہو کر نشہ آور چیزیں استعمال کرتے ہیں ،گویا اب یہ احساس بھی ختم ہوچکا ہے کہ نشے کی عادت کیسی بری لعنت ہے اور اس کے نقصانات کتنےزیادہ ہیں!
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتارہا
تعجب تو اس بات پر ہے کہ اب اسکول اور مدارس کے چھوٹے چھوٹے طلبہ اور طالبات بھی مختلف قسم کی نشہ آور چیزیں استعمال کررہے ہیں ،جن کو روکنے اور سمجھانے کی ذمہ داری ان کے والدین اور اساتذہ کی تھی لیکن بہت سارے والدین اور اساتذہ بھی نشے کی لت کا شکار نظر آتے ہیں ،یہاں تک کہ بعض ڈاکٹر حضرات کو بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے کلینک میں مریضوں کا علاج بھی کررہے ہوتے ہیں اور ان کے منہ میں گٹکھا اور تمباکو بھی رکھا ہوتا ہے، سوچیے تو سہی
جب مسیحا دشمن جاں ہوتو کیوں کر ہو علاج
کون رہبر بن سکے جب خضر بہکانے لگے
ضرورت اس بات کی ہے کہ نشے کے سلسلے میں لوگوں کو بیدار کیا جائے ،اس کے نقصانات سے آگہی پیدا کی جائے ،نشہ آور چیزوں کی خرید فروخت پر روک لگائی جائی اور نوجوانوں خصوصاً بچوں اور بچیوں کو نشے کی لت سے بچایا جائے ۔الحمدللہ علماءکرام اور ائمہ مساجد گاہے بگاہے جمعہ کے منبر سے عام مسلمانوں کو نشہ اور اس کے نقصانات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں،پچھلے دو ہفتے مسلسل شہر کی پچاسویں مساجد میں مقررین کی تنظیم گلشن خطابت کی جانب سے ’’بڑھتا ہوا نشہ، اسباب اور ان کا حل‘‘کے موضوع پر خطاب کیا گیا ،لیکن جس تشویش ناک حد تک ہمارا معاشرہ نشے کی لت کا شکار ہوچکا ہے، اس کے خاتمے کے لیے محض تحریر وتقریر کافی نہیں بلکہ مختلف پلیٹ فارم سے عملی اقدام ضروری ہے ،نشے اور دیگر جرائم کے خلاف ۱۱؍اگست منگل کے روز میکس اسٹیپ فاؤنڈیشن کی جانب سے معروف سماجی شخصیت جناب رضوان احمد بیٹری والاصاحب کی قیادت میں نشے اور دیگر جرائم کے خلاف ایک مہا ریلی نکالی جارہی ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں اسکولوں اور مدارس ومکاتب کے طلبہ شریک ہوں گے ،اسی طرح عام افراد بھی اس ریلی کا حصہ ہوں گے ۔
گناہ کو’’ گناہ‘‘ سمجھنا ایمان کے زندہ ہونے کی علامت ہے اور گناہ پر نکیر کرنا بندہ مومن کی بنیادی ذمہ داری ہے ،اس لحاظ سے نشے اور دیگر جرائم جیسے گناہوں کو روکنے کی غرض سے نکالی جانے والی یہ ریلی اپنے مقصد کے لحاظ سے اہم ہے اور ریلی کے منتظمین کا جذبہ قابل قدر ہے ،ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس ریلی میں شرکت کریں یا کم ازکم اس کی تائید وحمایت کر کے نشے کے خاتمے کے سلسلے میں کی جانے والی کوشش کا حصہ بنیں ۔
*-*-*-*
0 تبصرے