مساجد کے منبر و محراب سے دیا گیا مشترکہ پیغام
مؤرخہ 11 ستمبر 2026 بروز جمعہ نماز جمعہ سے قبل گلشن خطابت گروپ کے زیر اہتمام شہر مالیگاؤں کی کئی درجن مساجد میں صحت و تندرستی کی اہمیت، بیماریوں پر صبر اور عیادت کے آداب کے موضوع پر مشترکہ خطاب ہوا ، جس کا مختصر خلاصہ افادہ عام کی غرض سے پیش خدمت ہے، اسے پڑھیں اور دوسروں کو بھی شیئر کریں۔
(۱)صحت وتندرستی اللہ پاک کی بڑی نعمت ہے ،جس کی قدر اور حفاظت کرنا ضروری ہے ،اس لیے کہ ’’تندرستی ہزار نعمت ہے ‘‘۔
(۲)وقت پر کھانا ،رات کو جلد سونا اور صبح سویرے بیدار ہوجانا ،ورزش کرنا اور مضر صحت اشیاء گریز خصوصاً گناہوں سے اجتناب ،صحت وتندرستی کے بنیادی اصول ہیں ۔
(۳)صحت مند اور طاقتور بندہ اللہ کی نگاہ میں کمزور شخص کے مقابلے زیادہ پسندیدہ ہے ،جو اپنے دینی اور دنیاوی امور کو بخوبی انجام دے سکتا ہے ۔
(۴)بیماری بندۂ مومن کے لیے آزمائش ،حصول رحمت ،گناہوں کی معافی اور دعاؤں کی معافی کا ذریعہ ہے ۔
(۵)بیماری کے موقع پر مایوس ہو جانا ،شکوہ شکایت کرنا ،علاج میں کوتاہی کرنا ایمان والوں کا شیوہ نہیں ۔
(۶)جب کوئی شخص بیماری کے مرحلے سے گزررہا ہوتو ہمیں اس کی عیادت کر کے اسے تسلی دینا چاہیے ،اگر وہ ضرورت مند ہوتو اس کی مدد کرنی چاہیے اور اپنے لیے دعا کی درخواست کرنا چاہیے ،اس لیے کہ مریض کی دعا قبول ہوتی ہے ۔
(۷)عیادت کرنا سنت ہے ،البتہ عیادت کے کچھ آداب ہیں جن کی رعایت ضروری ہے تا کہ مریض کو تکلیف نہ ،کسی بھی وقت عیادت کی غرض سے چلے جانا ، مریض کے پاس دیر تک بیٹھے رہنا ،اس سے غیر ضروری سوالات کرنا اور ہاسپیٹل میں بچوں سمیت عیادت کے لیے جانا مناسب نہیں ہے ۔
(۸)دوا، علاج، ڈاکٹراور دواخانے، یہ ساری چیزیں سبب کے درجے میں ہیں۔شفا دینے والی ذات اللہ کی ہے،اس لئے اسی پر اعتماد ہونا چاہئے۔
(۹) طب ایک مقدس پیشہ ہے جو خدمت کا ذریعہ ہے،اسے خالص تجارت کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے۔
(۱۰) عام لوگوں کو ڈاکٹرز اور ہاسپیٹل اسٹاف کے سلسلے میں بدگمانی،بلا وجہ الزام تراشی اور بدسلوکی سے پرہیز کرنا چاہیئے اور ڈاکٹر حضرات اسی طرح صحت کے دیگر شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو بھی مریض اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ نرمی، شفقت، احسان اورخلوص کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
*-*-*
0 تبصرے