مطلقہ اور بیوہ خواتین کا رشتہ اور ان کے بچوں کی کفالت
از : مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں 9028393682
فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتھم ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:
’’والدین کی موجودگی میں بیٹی اگر خدا نخواستہ طلاق یا بیوگی سے دوچار ہوجائے تو اولاً تو اس کے نکاحِ ثانی کی فکر کرنی چاہئے ، قرآن نے ایسے لوگوں کے نکاح کا حکم دیا ہے : ’’وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰى مِنْکُمْ‘‘ ( سورۃ نور۳۲) رسول اللہ ﷺاور صحابہ کے عہد میں جوں ہی کوئی خاتون بیوہ یا مطلقہ ہوتی تھی ، جلد سے جلد ان کا نکاح کردیا جاتا تھا ،عدت گذرنے سے پہلے ہی ان کے رشتے آنے لگتے تھے؛اس لئے قرآن مجیدنے عدت وفات گذرنے سے پہلے رشتہ طئے کرنے کومنع فرمایا۔(سورۃبقرہ:۲۳۲) اس طرح نہ صرف ان کی کفالت ہوتی تھی ؛ بلکہ ان کو ایک مکمل خاندان مل جاتا تھا ، افسوس کہ آج کل والدین ایسی خواتین کے نکاح کی طرف توجہ نہیں دیتے ، بعض اوقات ایک نوجوان لڑکی بیوہ ہوتی ہے اور اسے پوری زندگی بیوگی میں گزارنا پڑتا ہے ،وہ خودحیا سے کہہ نہیں پاتی اورماں باپ توجہ نہیں دیتے ہیں، غور کیجئے یہ خواتین کے ساتھ کتنا بڑا ظلم ہے ، اگر کوئی شوہر یا بیوی چند دنوں ایک دوسرے سے دور رہیں تو یہ چیز ان کو ذہنی طورپر بے سکون کردیتی ہے ،توایک لڑکی کو زندگی بھر تجرد(تنہائی) کی سزا دی جائے ، کیا یہ انصاف کی بات ہے ؛ اس لئے ان کے نکاح کی فکرکرنی چاہئے،اوراگروہ خودحیاکریں توان کوسمجھاناچاہئے۔‘‘
بچوں والی خواتین کا رشتہ
مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ مطلقہ اور بیوہ عورتوں سے نکاح کریں، اور اگر وہ اولاد والی ہوں تو ان کی اولاد کی بھی کفالت کریں، کہ اس میں ان کے لیے بے پناہ اجر وثواب بھی ہے،اور یہ رسول اللہﷺ کی سنت بھی ہے ۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپﷺ نے مجھے اپنے ساتھ شادی کا پیغام دیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسی تو کوئی بات نہیں کہ مجھے آپ میں رغبت نہ ہو، درحقیقت بات یہ ہے کہ میرے اندر غیرت کا جذبہ بہت زیادہ ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو آپ میرے اندر ایسی کوئی بات دیکھیں، جس کی وجہ سے اللہ مجھے عذاب سے دو چار کر دے، نیز میں اب کافی عمر رسیدہ بھی ہو چکی ہوں اور میں اولاد والی بھی ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم نے جو غیرت کا ذکر کیا ہے، اللہ تعالیٰ اسے عنقریب ختم کر دے گا، تم نے عمر رسیدہ ہونے کی جو بات کی ہے تو میرا حال بھی ایسا ہی ہے اور جو تم نے اولاد کی بات کی ہے تو وہ میری اپنی اولاد ہو گی۔ چنانچہ میں نے حضور ﷺ کی بات تسلیم کر لی اور اللہ کے رسول نے مجھ سے نکاح کر لیا۔ ( مسند احمد )
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت سے شادی کی ، میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ نے پوچھا : جابر! تم نے نکاح کر لیا ہے؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : کنواری ہے یا ثیبہ ( شوہر دیدہ ) ؟ میں نے عرض کی : ثیبہ، آپ نے فرمایا : باکرہ( کنواری) سے کیوں نہ کی ، تم اس سے دل لگی کرتے؟میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! میری بہنیں ہیں تو میں ڈرا کہ وہ میرے اور ان کے درمیان حائل ہو جائے گی ، آپ نے فرمایا : پھر ٹھیک ہے ۔ ( مسلم)
اگر ہم اس حدیث مبارکہ کا پس منظر پر بغور نظر ڈالیں تو یہ حدیث بہ آسانی سمجھ میں آسکتی ہے ۔غزوہ احد میں حضرت جابر کے والدگرامی حضرت عبداللہ شہید ہوگئے تھے اور اپنے اوپر کچھ قرضہ اور نو بیٹیاں سوگوار چھوڑ گئے تھے تو اپنی بہنوں کی تعلیم وتربیت کے لئے جابر نے ایک ایسی عورت سے نکاح کیا جو عمر میں پختہ اور پہلے سے شادی شدہ تھیں ،جابر فرماتے ہیں:اپنے والد کی شہادت کے بعد اپنی بہنوں کی تربیت کے لئے میں نے ایک شادی شدہ عورت سے نکاح کیا ۔ مجھے یہ بات ناپسند تھی کہ میں اپنی بہنوں پر ان جیسی ہی کوئی لڑکی لے آؤں، میری چاہت تھی کہ میں اپنی بہنوں کی تربیت کے لئے ایسی عورت سے شادی کروں کہ وہ ان کا خیال رکھے، ان کے بال وغیرہ سنوارے اور ان پر بڑی بن کر رہے ۔
حضرت جابرؓ نے جب یہ وجہ بیان کی کہ میں نے ثیبہ سے نکاح اپنے گھر کی دیکھ بھال اور بہنوں کی تربیت کے خاطر کیا تو آپ نے اس پر خوشی کا اظہار کیا اور دعا دی بارک اللہ لک ' اللہ تجھے برکت دے۔ معلوم ہوا کہ کنوارے مرد کا مطلقہ یا بیوہ عورت سے نکاح کرنا معیوب نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ صاحب اولاد خواتین زیادہ سمجھ دار اور بچوں کی بہتر تربیت کرنے والی ہوتی ہیں۔ چنانچہ اگر مرد بھی پہلے سے صاحب اولاد ہوتو ایسی خاتون سے نکاح کرنے کے نتیجے میں اس کے بچوں کی تربیت اور پرورش کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے۔ آج حال یہ ہے کہ ایسے مرد بھی کنواری لڑکی سے نکاح کے خواہشمند نظر آتے ہیں جو خود صاحب اولاد ہوتے ہیں، وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ دوسری بیوی ان کے بچوں کی تربیت اور پرورش کرے، لیکن یہ جذبہ نہیں رکھتے کہ وہ بھی اپنی دوسری بیوی کے پہلے شوہر کے بچوں کی کفالت کریں،جو یا تو یتیم ہوتے ہیں یا ان کا باپ ان کی کفالت سے انکار کردیتا ہے۔ بعض خواتین کا مزاج بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ نکاح ثانی کے بعد اپنے شوہر کے بچوں کی تربیت و پرورش کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہتیں ۔
قارئین ! موجودہ دور میں مطلقہ اور بیوہ خواتین کے لیے مناسب رشتۂ نکاح کا ملنا انتہائی پیچیدہ اور مشکل کام ہوچکا ہے، ہر علاقے میں مطلقہ اور بیوہ خواتین اسی طرح عمر دراز کنواری لڑکیوں کی اچھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے،اگر اوپر ذکر کردہ واقعات کو نمونہ بنالیا جائے اور (1) کنوارے مرد بھی مطلقہ خواتین سے نکاح کرنے لگ جائیں(2) بیوی کا انتقال یا طلاق ہوجانے کے بعد مرد مطلقہ اور بیوہ خواتین سے ہی نکاح کریں (3) صاحب استطاعت اور انصاف کرنے کا حوصلہ رکھنے والے مرد ایک سے زائد نکاح کریں (4) اور سرپرست حضرات بھی اپنی مطلقہ اور بیوہ بیٹیوں اور بہنوں کے رشتہ نکاح کے لئے ایسی ہی جدوجہد کریں جیسی اس کے پہلے رشتہ نکاح کے لئے کرتے تھے تو نہ جانے کتنی بےسہارا مطلقہ اور بیوہ خواتین کو سہارا مل جائے ۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے واقعہ میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کیا، تب آپﷺ کے نکاح میں اور بھی ازواج مطہرات تھیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کسی مطلقہ اور بیوہ خاتون کو کوئی ایسا دیندار شوہر مل رہا ہو جس کے نکاح میں پہلے سے بیوی موجود ہو تو بھی اس سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لئے کہ تنہا زندگی گزارنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ کسی شریک حیات کے ساتھ زندگی گزاری جائے، جس سے دین وایمان، عزت وآبرو اور جان ومال کا تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔اوپر ذکر کردہ واقعات مسلم معاشرے کے لیے اپنے اندر نصیحت کا بڑا سامان رکھتے ہیں ۔ تو ہے کوئی جو نصیحت حاصل کرے؟
٭…٭…٭
2 تبصرے
حالات کی مناسبت سے بہترین تحریر....
جواب دیںحذف کریںماشاء اللہ
جواب دیںحذف کریں