عام طریقے پر ہم لوگ اپنے مال کی زکوۃ رمضان المبارک میں ادا کرتے ہیں ،کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ٹھیک رمضان المبارک سے کچھ دن پہلے ہمارے پاس کہیں سے کوئی بڑی رقم آجاتی ہے ،تو یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اس آنے والی رقم پر تو ابھی سال نہیں گزرا ،لہذا اس کی زکوۃ ہم ادا کریں یا نہ کریں؟اس سلسلے میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ جیسے ہی کوئی شخص صاحب نصاب ہوتا ہے ٹھیک اس کے ایک سال بعد اس پر اپنی موجودہ ملکیت کا چالیسواں حصہ بطور زکوۃ دینا واجب ہوجاتا ہے ،جب دوسرا سال آتا ہے تو پھر وہ شخص اپنے پاس موجود قابل زکوۃ ملکیت کا چالیسواں حصہ بطور زکوۃ ادا کردے گا،اب سال کے درمیان میں اس کی ملکیت میں یا تو کمی واقع ہوگی یا اضافہ ہوگا ،اگر ایسا ہوا کہ ٹھیک رمضان المبارک سے پہلے اس کے پاس سال بھر سے رکھی ہوئی رقم خرچ ہوگئی تو اب زکوۃ ادا کرتے وقت اسے اس خرچ ہوچکی رقم کی زکوۃ نہیں دینی ہوگی ،ایسے ہی اگر رمضان المبارک سے ٹھیک پہلے اس کے پاس کوئی نئی رقم آجائے تو اسے اس کی بھی زکوۃ دینی ہوگی ۔
مثال کے طور پرزید رمضان میں زکوۃ ادا کرتا ہے ،پچھلےگیارہ مہینوں سے اس کے پاس پانچ لاکھ روپیہ رکھا ہوا تھا ،ٹھیک رمضان المبارک سے پہلے اس نے حج کے لیے رقم بھر دی ،یا گاڑی خرید لی یا مکان خرید لیا تو اب چونکہ یہ رقم خرچ ہوچکی ہے ،اس لیے اس رقم کی زکوۃ اس پر لازم نہیں ہوگی ،حالانکہ کچھ دن اور یہ رقم رہ جاتی تو اسے زکوۃ دینی ہوتی ۔اب اسی مسئلے کو الٹ کر دیکھے کہ زید صاحب نصاب ہےاور رمضان میں زکوۃ ادا کرتاہے ، رمضان المبارک سے کچھ دن پہلے اس کے پاس کہیں سے پانچ لاکھ روپے کی رقم آگئی تو اب وہ اسے بھی اپنی پہلے سے جمع شدہ ملکیت میں شامل کرلے گا اور رمضان المبارک میں پورے پورے مال کی زکوۃ ادا کرے گا،یہ سمجھنا کہ اس پانچ لاکھ روپے پر ابھی سال نہیں گزرا ،یہ درست نہیں ہے ۔دکاندار حضرات جن کی دکان میں بہت سارا چھوٹا بڑا سامان ہوتا ہے اور روزانہ ہی سامان آتا جاتا رہتا ہے ،ان کو بھی یہ مسئلہ اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے ۔
0 تبصرے