مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ
تحریر : مفتی محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
مکہ مکرمہ میں ہم لوگوں کا تقریباً ہفتہ بھر قیام رہا ، رحیمی ٹو ر کے ذریعے پندرہ دن کے سفر عمرہ پر جانے والوں کی ترتیب عموماً یہ رکھی جاتی ہے کہ ان کا ایک ہفتہ مکہ مکرمہ میں اور ایک ہفتہ مدینہ منورہ میں قیام ہو،جو لوگ بیس دن کے لیے سفر عمرہ پر جاتے ہیں ،وہ دس دن مکہ مکرمہ اور دس دن مدینہ منورہ میں قیام کرتے ہیں ، ہم لوگ ۲۹؍اکتوبرمنگل کے روزمکہ مکرمہ پہنچے تھے،ٹھیک ایک ہفتے کے بعد منگل ہی کے روز مدینہ منورہ کے لیے روانگی ہوئی ،دودن پہلے ہی ٹور آپریٹرجناب حاجی اعجاز انڈیگو صاحب نے بتادیا تھا کہ منگل کے روز صبح گیارہ بجے مدینہ منورہ روانگی ر ہےگی ،چنانچہ منگل کےدن بوقت تہجد حرم شریف میں حاضری ہوئی ،اور فجر کے بعد بھی دیر تک حرم میں ہی وقت گزارنے کا موقع ملا ، ناشتے کے وقت قیام گاہ واپسی ہوئی، تاکہ سامان وغیرہ ترتیب سے رکھ کر اپنا اپنا بیگ کمرے سے نکال کر رسیپشن(Recepsion ) میں رکھ دیا جائے،دس بجے حرم مکی کی آخری حاضری کے لیےہم لوگ پھر حرم چلے گئے ،وہاں پہنچ کر پہلے نفلی طواف ہوا اور پھر دیر تک تلاوت اور ذکر کے ساتھ دعا میں مشغول رہے ،یہاں تک کہ ظہر کی اذان ہوگئی، وہیں ظہر کی نماز پڑھ کر آخری نگاہ کعبۃ اللہ پر ڈال کر واپسی ہوئی ،جس وقت واپسی ہورہی تھی ،دل میں یہ احساس کچوکے لگا رہا تھا کہ اللہ پاک نے ہم ناکارہ اور گناہ گار لوگوں کو ایسی مقدس اور بابرکت جگہ کی حاضری نصیب فرمائی ،لیکن اپنی سستی اور کوتاہی کی وجہ سےہم نے اس موقع کی قدر نہیں کی ،دیکھتے ہی دیکھتے ایک ہفتہ نکل گیا اور واپسی کاوقت بھی آپہنچا ،اب آخری سہارا یہی تھا کہ اپنی کوتاہیوں پر معافی طلب کی جائے اور جو تھوڑے موڑے اعمال توفیق الٰہی سے انجام دئیے گئے ہیں ،ان کی قبولیت کے لیے التجا کی جائےچنانچہ یہ دعا کی :
اے اللہ! ہماری کوتاہی اورغفلت کو معاف فرما ،اور جس انداز میں بھی ہم نے ٹوٹے پھوٹے اعمال انجام دئیے ہیں، انہیں شرف قبولیت عطا فرما ،نیزاپنے در کی دوبارہ حاضری مقدر فرما تا کہ آئندہ ہم مزید اہتمام کے ساتھ تیری عبادت کرکے تجھ کو راضی کرسکیں اور اپنے گناہ بخشواسکیں۔
ہوٹل واپس پہنچے تو بس تیار تھی اور تقریباً تمام لوگ جمع ہوچکے تھے ،تھوڑی ہی دیر میں مدینہ منورہ کے لیے روانگی ہوئی ،یہ بھی اللہ کا کیسا کرم ہے کہ مکہ مکرمہ کے بعد مدینہ منورہ حاضری کا موقع مل جاتا ہے ، سوچئے تو سہی کہ سرکار دوعالم ﷺ کا روضہ بھی مکہ مکرمہ میں ہی ہوتاتو بیک وقت اللہ کے گھر کعبہ مشرفہ اور رسول اللہ ﷺ کے روضہ اطہر کو الوداع کہنا کس قدر مشکل ہوتا ۔مکہ مکرمہ سے روانگی کے وقت ہر حاجی کا دل بوجھل ہوتا ہے اور اللہ کےاس گھر سے واپسی پر طبیعت رنجیدہ ہوجاتی ہے ،یہ احساس رہ رہ کر دل میں اٹھتا رہتا ہے کہ پتہ نہیں دوبارہ حاضری کب نصیب ہوگی ؟ ایسی کیفیت میں جب یہ خیال آتا ہے کہ اب مدینہ منورہ حاضر ہونا ہے اور اس نبی ٔ رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے روضہ پر حاضری دینی ہے جن کے صدقے میں اللہ نے ہمیں ایمان کی دولت عطافرمائی، تو دل کو بڑی تسلی ہوتی ہے اور ا س طرح مکہ مکرمہ سے واپسی کا غم کچھ ہلکا ہوجاتا ہے ۔
مکہ مکرمہ سے جب ہماری بس نکلنے لگی تو راقم الحروف نے تمام ہی عازمین کو دعا کرائی، یہ دعا بطور خاص کی گئی کہ اے اللہ ! ہماری اس حاضری کو آخری حاضری نہ بنا ۔ دعا کے بعد راقم نے بس کے اسپیکر کے ذریعے تمام ہی عازمین کے سامنے مدینہ منورہ کی حاضری کے مقاصد اور وہاں کے آداب بیان کیے ،ساتھ ہی ساتھ منورہ میں قیام کے دوران انجام دی جانے والی عبادتوں پر بھی روشنی ڈالی ،عام طریقے پر لوگ مدینہ منورہ جانے کے بعد بالکل فارغ ہوجاتے ہیں ا ور اپنا قیمتی وقت عبادات کے بجائے بازاروں میں گھومنے اور غیر ضروری خریداری میں گزار دیتے ہیں، اب پوری دنیا ایک انٹرنیشنل مارکیٹ میں تبدیل ہوچکی ہے، سوائے کھجور اور زمزم کے کوئی چیز ایسی نہیں جو ہندوستان اور دنیا کے دیگر خطوں میں نہ ملتی ہو ، اس لئے اپنے یا گھر کے ہر فرد اور متعلقین کے لیے تحفہ لینا ضروری سمجھنا اور اس میں وقت ضائع کرنا گھاٹے کا سودا ہے،اس کوشش میں بعض لوگوں کا لگیج بڑھ جاتا ہے اور پھر ایئر پورٹ پر وہ پریشان رہتے ہیں ۔ اس لئے اپنا زیادہ سے زیادہ وقت عبادات میں صرف کرنا چاہئے۔ مدینہ منورہ میں کوئی لازمی عبادت طے نہیں کی گئی نہیں ہے ،لیکن وہاں قیام کے دوران کوشش کرنی چاہیے کہ کثرت سے درود شریف پڑھیں اور جب بھی موقع ملے روضہ اطہر پر حاضر ہو کر درود سلام کا نذرانہ پیش کریں ، اسی طرح حسب توفیق و استطاعت مسجد قبا حاصل ہوکر دو رکعت نفل پڑھ لیا کریں ،حدیث شریف میں ہے کہ مسجد قبا میں نبی کریم ﷺ سنیچر کے روز جایا کرتے تھے اور وہاں دورکعت نماز پڑھا کرتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے کہ جو شخص مسجد قبا میں حاضر ہو کر دو رکعت نماز ادا کرلے اللہ تعالیٰ اس کو ان دو رکعتوں کے بدلے مقبول عمرہ کا ثواب عطا فرماتے ہیں ۔یہ بھی اللہ کا کیسا کرم ہے کہ مکہ سے واپس آجانے کے بعد بھی اس نے مقبول عمرہ کا اجر حاصل کرنے کا موقع میسر فرمایا ،قدر کرنے والوں کو بہر حال اس کی قدر کرنی چاہیے۔ (جاری)
0 تبصرے