’’گلشن خطابت‘‘ اب اہلیان شہر مالیگاؤں خصوصاً ائمہ ومقررین کے لیے کوئی نیا یا غیر معروف نام نہیں رہا،ائمہ مساجد اور خطباء ومقررین کے اس گروپ کے قیام کو گزشتہ دنوں ڈیڑھ سو ہفتے مکمل ہوگئے،(آنے والےجمعہ کو ۱۵۳ ؍ہفتے مکمل ہوجائیں گے) یعنی تقریباً تین سال پورے ہوگئے،اس پورے عرصہ میں گلشن خطابت کے مقررین نےسو سے زائد مختلف عنوانات پر شہر اور بیرون شہر کی مساجد میں اہتمام اور تسلسل کے ساتھ خطاب کرنے کی اہم اور باوقار خدمت انجام دی ہے،بعض ایسےعنوانات پربھی نماز جمعہ سے قبل مسجدوں میں گفتگو کی گئی ،جن کے متعلق بہت سارے عمر رسیدہ افراد کا تاثر یہ رہا کہ ہم نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ ایسے عنوانات پر مسجد میں بیان سنا ہے۔
گلشن خطابت کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے ارکان شہری و ملکی حالات و مسائل سے تعلق رکھنے والے عنوانات پرپوری تیاری کے ساتھ آسان انداز میں خطاب کرتے ہیں،اسی کے ساتھ وہ طے شدہ وقت میں گفتگو مکمل کرلیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ جن مساجد میں گلشن خطابت کے مقررین کا پابندی کے ساتھ خطاب ہوتاہے وہاں خطاب جمعہ سے متعلق مصلیان میں ایک نیا جوش وخروش پایاجاتا ہے،چونکہ جمعرات ہی کے روز اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے عام مسلمانوں کو خطاب جمعہ سے متعلق ایک مرتب فہرست کے ذریعے اطلاع دے دی جاتی ہے کہ آئندہ جمعہ کوکس موضوع پر شہر و بیرون شہر کی کن کن مساجد میں کس وقت کن مقررین کا بیان ہوگا،لہذا بہت سارے باذوق افراد جمعہ کا بیان سننے کے لیے وقت مقررہ پر مساجد میں پہنچ جاتے ہیں۔ الحمد للّٰہ بہت ساری مساجد کے ائمہ اور ذمہ داران کا یہ تاثر ہے کہ طے شدہ عنوان پر منظم انداز میں مشترکہ خطاب کا نتیجہ یہ ہے کہ پہلے جن مسجدوں میں بیان کے آغاز میں گنے چنے افراد موجود ہو ا کرتے تھے وہاں اب اچھی خاصی تعداد میں مصلیان اذان ہوتے ہی حاضر ہوجاتے ہیں اور اونگھتے اور سر کھجاتے ہوئے بیان سننے کے بجائے پوری توجہ سے مقررین کی باتوں کو سماعت کرتے ہیں اور جمعہ کے بعد اپنے اہل خانہ اور دوستوں کی مجالس میں بیان کی گئی باتوں کامذاکرہ اور تذکرہ بھی کرتے ہیں ۔۔ اس وقت شہر بھر کے سو سے زائد اور بیرون شہر کے تقریباً پانچ سو ائمہ مساجد اور مقررین گلشن خطابت گروپ میں شامل ہیں اور پابندی کے ساتھ مشترکہ خطاب جمعہ کی عظیم الشان خدمت انجام دے رہے ہیں،جن کے بیانات کو ہر ہفتہ لاکھوں افراد مسجدوں میں سماعت کرتے ہیں ،اس طرح بغیر کسی خاص شور شرابے اور خرچ کے انتہائی منظم اور باوقار انداز میں سلگتے ہوئے عنوانات سے متعلق دینی باتیں اور پیغام عام مسلمانوں پہنچ جاتاہے۔فالحمدللہ علی ذالک
قارئین!گلشن خطابت کی مذکورہ مختصر کارگزاری اس کی کامیابی اور مقبولیت کی علامت ہے اور بلاشبہ یہ توفیق الٰہی اور مقررین کی مخلصانہ جدوجہد کانتیجہ ہے،اللہ کا کرم ہے کہ گلشن خطابت کا کارواں بخیر وخوبی رواں دواں ہے اور منظم انداز میں ایک عظیم الشان دینی واصلاحی خدمت انجام دے رہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگر ائمہ ومقررین(بلا تفریق مسلک ومکتب فکر) بھی اس کارواں میں شریک ہوں اور اہتمام کے ساتھ طے شدہ عنوانات پر مشترکہ خطاب جمعہ کی خدمت انجام دیں۔مساجد کے ذمہ داران کو بھی چاہیے کہ وہ نماز جمعہ سے قبل ہونے والے خطاب کو منظم اور مؤثر بنانے کی کوشش کریں،اپنی مساجد میں علماء و مقررین کو خطاب جمعہ کے لیے مدعو کریں،ساتھ ہی ساتھ قبل از وقت بورڈ لکھ کر اور اعلان کر کے مصلیان کو مسجد میں جلد آنے اور بیان سننے کی ترغیب دیں۔عام مسلمانوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ جمعہ کاوقت ہوتے ہی مساجد میں پہنچنے کی کوشش کریں۔واضح ہوکہ نماز سے قبل ہونے والاخطاب ہماری اصلاح اور دینی معلومات میں اضافہ کا اہم ذریعہ ہے،لہذا اس بیان کو پوری توجہ اور اہتمام کے ساتھ سنیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں،ساتھ ہی ساتھ ان باتوں کو اپنے اہل خانہ اور دوست واحباب تک پہنچانے کی بھی جدوجہد کریں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مقررین اور خطیب حضرات کے اس گلشن کو اسی طرح شاد وآباد رکھے اور مشترکہ خطاب جمعہ کی خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول کرکے اسے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائےآمین!
0 تبصرے