Ticker

6/recent/ticker-posts

سفرِحج و عمرہ، کتنا آسان کتنا مشکل

 تحریر:مفتی محمد عامریاسین ملی 
(سفرنامہ حرمین قسط نمبر 2 گزشتہ پیوستہ)
     حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، سفر کی وجہ سے آدمی کی نیند صحیح سے نہیں ہوتی، کھانا، پینا بھی صحیح سے نہیں ہوتا؛ لہٰذاجب آدمی ضرورت پوری کرلے تو جلد از جلد گھر واپس آجائے۔ (مشکوۃ )پرانے زمانے میں پیدل اور جانوروں کی پشت پر سواری کرنے والے انسان نے اتنی ترقی کرلی کہ اب وہ بجلی کی رفتار سے چلنے والے جہازوں میں سفر کرنے لگا،اور مہینوں میں طے ہونے والی مسافت گھنٹوں میں طے ہونے لگی ،دوران سفر وہ ساری سہولیات بھی دستیاب ہونے لگیں جو گھر میں دستیاب ہوتی ہیں،ان سب کے باوجودیہ حقیقت ہے کہ ’’سفر ‘‘تو سفر ہے،چنانچہ لگژری گاڑیوں میں انتہائی آرام دہ سفر کرنے والامسافر بھی سفر کی مشقتوں کو محسوس کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ سفر کا مرحلہ جلد پورا ہو اور وہ منزل مقصود پر پہنچ جائے۔
      عام طریقے پر عازمین حج وعمرہ جب اپنے گھروں سے روانہ ہوتے ہیں تو اہل خانہ اور بعض قریبی رشتے دار اور متعلقین ان کو رخصت کرنے کے لیے ممبئی ایئر پورٹ تک ساتھ میں جاتے ہیں ،اس کے لیے باضابطہ پرائیوٹ فور وہیلرگاڑیاں استعمال کی جاتی ہیں ۔ممبئی ایئر پورٹ روانگی سے کئی روز پہلے سفر کی تیاری شروع ہوجاتی ہے ،جس میں حج وعمرہ کی ادائیگی کے لیےضروری سازو سامان اور لوازمات سفر مہیا کرنااور رشتے داروں اور متعلقین سے ملاقات وغیرہ شامل ہے۔سفر کی تیاری اور متعلقین سے ملاقات کرتے کرتے عازمین عمرہ تھک جاتے ہیں ،اس کے فوراً بعد فور وہیلر گاڑیوں میں بیٹھ کر مسلسل چھ سے آٹھ گھنٹے ممبئی کا سفر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں تھکن مزید بڑھ جاتی ہے۔ممبئی پہنچتے ہی بعض لوگ براہ راست ایئر پورٹ چلے جاتے ہیں اور جو وقت سے پہلے ممبئی پہنچ جاتے ہیں ان کے لیےآرام کا موقع ہوتا ہے۔ایئر پورٹ میں داخل ہونے کے بعد امیگریشن کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے جس میں تین سے چار گھنٹے صرف ہوجاتے ہیں ،اس دوران نہ بیٹھنا نصیب ہوتا ہے اور نہ کھانا پینا میسر آتا ہے۔مختلف قطاروں میں لگ کر اپنے سازو سامان ،پاسپورٹ ،ویزا،اور خود اپنے آپ کو چیک پوائنٹس سے گزارنا ہوتا ہے۔یہ بڑا صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے جہاں ہر خاص وعام کے لیے عموماً کوئی رعایت اور سہولت نہیں ہوتی ۔جب یہ مرحلہ مکمل ہوتا ہے تو پھر مزید دو سے تین گھنٹے فلائٹ کے انتظار میں صرف ہوتے ہیں ۔جو لوگ شہر سے تھکے ماندے ممبئی کے لیے روانہ ہوتے ہیں اور پھر مسلسل چھ گھنٹہ گاڑی میں بیٹھ کر ممبئی پہنچتے ہیں ان کے لیے امیگریشن کا مرحلہ انتہائی تکلیف دہ بالفاظ دیگر’’مرے پہ سو درّے‘‘کے مصداق ثابت ہوتا ہے،البتہ جو لوگ ممبئی پہنچ کر کسی جگہ آرام کرلیتے ہیں ،ان کے لیے یہ مرحلہ کسی قدر آسان اور قابل برداشت ہوتا ہے۔
       راقم الحروف کو آنے والے ان مراحل کا پہلے ہی سے کچھ اندازہ تھا ،اس لیے میں نے اپنے سفر کی ترتیب اس طرح بنائی کہ فور وہیلر گاڑی کے بجائے سلپیر کلاس لگژری بس کا ٹکٹ حاصل کرلیا اور مالیگاؤں سے ممبئی کا سفر آرام کرتے ہوئے طے ہوگیا ۔ہمیں کہا گیا تھا کہ ۵؍مارچ اتوار کے روز دو پہر میں تین بجے ایئرپورٹ پہنچ جائیں ،میں سنیچر کے روز رات میں بارہ بجے مالیگاؤں سے روانہ ہوگیا ،صبح ممبئی پہنچنے کے بعد اندھیری میں ہمارے ایک عزیز جناب یعقوب بھائی کے ہوٹل میں دو پہر تک آرام ہوا اور پھر ہمارے سرپرست جناب ہارون ماسٹر صاحب کے فرزند مخلص مکرم جناب عرفان ماسٹر صاحب کے گھر (جو ممبئی ایئر پورٹ سے بالکل قریب ہے)پر ظہرانے سے فارغ ہو کرہم لوگ وہیں سے یعقوب خان صاحب کی کار سے ایئر پورٹ کے لیے روانہ ہوگئے۔ ہمارے بڑے ابو رحمانی ایوب صاحب اپنی فیمیلی کے ساتھ ہم لوگوں کو رخصت کرنےکے لیے ایئر پورٹ تشریف لائے تھے ۔ والد مرحوم کی اس موقع پر یاد آئی ، بہرحال بڑے ابو کی موجودگی سے کچھ تسلی ہوئی۔
     قریب تین گھنٹے کے بعد امیگریشن کے مرحلے سے گزرنے کے بعد مغرب سے کچھ پہلے ایئر پورٹ کی مسجد میں پہنچے ،پہلے عصر کی نماز ادا کی ،کچھ دیر کے بعد مغرب کی نماز باجماعت ادا کی گئی ۔ٹور کے ذمہ داران کی جانب سے ایئر پورٹ میں داخل ہوتے وقت کھانے کا پیکٹ دیا گیا تھا ،وہی کھانا کھا کر بیٹھے تھے کہ اعلان ہوا کہ ’’اسپائس جیٹ کے ذریعے ممبئی سے جدہ جانے والے مسافر تیار ہوجائیں ‘‘۔چنانچہ تمام افراد مزید ایک کاؤنٹر سے گزرنے کے بعد جہاز میں بیٹھ گئے ۔خدا خدا کر کے ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے جہاز ممبئی ایئر پورٹ سے روانہ ہوا ۔
       ممبئی سے جدہ کا فاصلہ چار سے پانچ گھنٹے میں طے ہوجاتا ہے،لیکن ہمارا جہاز آٹھ گھنٹے کے بعد جدہ پہنچا ،ہوا یوں کہ ایک معمر خاتون حالت احرام میں دوران پرواز انتقال کرگئی ،چنانچہ جہاز نے دمام ایئر پورٹ پر ایمر جنسی لینڈنگ کی اور پھر میت کو اتارنے اور دیگر مراحل کو پورا کرنے میں دو سے زائد گھنٹے بیت گئے ،اس طرح آٹھ گھنٹہ مسلسل ہم لوگ جہاز میں اپنی سیٹ پر بیٹھے رہے۔
      جدہ پہنچنے کے بعد ایئر پورٹ سے باہر نکلنے میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے صرف ہوگئے ۔اس کے بعد لگژری بس کے ذریعے مکہ مکرمہ روانگی ہوئی۔جدہ سے مکہ پہنچنے میں بھی دو گھنٹہ بیت گیا۔یعنی اپنے گھر سے نکلنے کے بعد مکہ مکرمہ کی سرزمین پر پہنچتے پہنچتے تقریباً چوبیس گھنٹے بیت گئے ۔قارئین اندازہ کرسکتے ہیں کہ تھکن کا کیا عالم ہوگا ! اسی لیے علماء کرام یہ نصیحت کرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد پہلے اچھی طرح آرام کرلیں،اس کے بعد غسل سے فارغ ہوکر اچھے کپڑے پہن لیں ،ضروری ناشتہ یا کھانے سے فارغ ہوجائیں ،اس کے بعد پوری بشاشت اور شوق کے ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے مسجد حرام کے لیے روانہ ہوجائیں ۔
       خلاصہ:جو بات تجرباتی طور پر سامنے آئی اور عازمین حج وعمرہ کو جو پیغام دینا ہے وہ یہ کہ مالیگاؤں سے روانہ ہونے سے لے کر جہاز میں بیٹھنے تک کم وبیش پندرہ سے بیس گھنٹے بیت جاتے ہیں ،جو ایک کڑیل نوجوان کو تھکانے دینے کے لیے بھی بہت کافی ہیں۔اگر عازمین کی عمر پچاس یا اس سے اوپر ہو تو اندازہ لگایئے کہ ایسے افراد کی تھکن کا کیاعالم ہوتا ہوگا۔اس لیے جو لوگ وقت سے پہلے اپنے شہر سے روانہ ہوجاتے ہیں اور ممبئی جاکر کسی مناسب جگہ آرام کر لیتے ہیں ان کے لیے راحت اور سہولت کا معاملہ ہوتاہے۔اب الحمدللہ سلیپر کلاس لگژری بسز بالکل عام ہوچکی ہیں ،اس لیے عازمین حج وعمرہ کو میرا یہ مخلصانہ مشورہ ہے کہ اپنے رشتے داروں کو فور وہیلر سواریوں کے ذریعے ممبئی آنے دیں(حالانکہ رشتے داروں کا ممبئی ایئر پورٹ تک آنا ضروری نہیں ہے) لیکن عازمین خود سلیپر کلاس لگژری بس کے ذریعے آرام کرتے ہوئے ممبئی پہنچیں،بعض لوگوں کو سفر کی عادت نہیں ہوتی چنانچہ سواری میں بیٹھتے ہی ان کو سر چکرانے اور قے ہونے کی تکلیف لاحق ہوجاتی ہے،ایسے لوگوں کے لیے بھی سلیپر کلاس بسیز بہت ہی مفید اور آرام دہ ہیں ۔یاد رکھیں !مالیگاؤں سے ایئر پورٹ تک کے سفر کو آسان بنانا اور اس دوران آرام کرلینا ہمارے اختیار میں ہےاور بعد کے طویل سفر کے لیے بہتر بھی،البتہ ایئر پورٹ میں داخل ہونے سے لے کر مکہ مکرمہ پہنچنے تک آرام کا کوئی موقع نہیں ہوتا !اس لیے جہاں تک ممکن ہو آسان راستہ اختیار کریں اور اپنے آپ کو مشقت سے بچائیں ۔(جاری) 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے