Ticker

6/recent/ticker-posts

لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

    لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو 
تحریر : محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
 9028393682
     کہتے ہیں کہ وقت کا پہیہ سب سے تیز رفتار ہے، یہی وجہ ہے کہ جب بوڑھا جوانی کا اور جوان بچپن کا زمانہ یاد کرتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ابھی کل کی بات ہو ! یہاں تک کہ موت کا وقت قریب آجاتا ہے اور انسان کف افسوس ملتا ہوا اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے کہ کاش اپنی زندگی میں میں نے یہ کام کرلیا ہوتا اور یہ نہ کیا ہوتا ! البتہ جو لوگ اپنا محاسبہ کرتے رہتے ہیں اور آئندہ زندگی کو گزشتہ کے مقابلے بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں وہ کامیاب اور سرخ رو ہوتے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ ہماری زندگی بہت مختصر ہے ، لیکن اتنی بھی نہیں کہ انسان اس میں دنیا و آخرت کی بھلائی کے کام نہ کرسکے اور اتنی طویل بھی نہیں کہ انسان اس کو یونہی لہو لعب اور فضول مشغلوں میں ضائع کردے ۔ 
     زندگی جینے اور اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے کا انداز ہر ایک کا مختلف ہوتا ہے ، آج میری زندگی کے پینتیس برس مکمل ہوئے ، چنانچہ میں نے اب تک کی زندگی کو محض سال کے بجائے مہینے ، ہفتے ، دن یہاں تک گھنٹے ، منٹ اور سکینڈ کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کی تو عقل دنگ رہ گئی کہ وقت کا کتنا بڑا اور کیسا قیمتی سرمایہ ہاتھ سے نکل چکا ہے جو اب کبھی لوٹ کر نہیں آنے والا ! آئیے آپ کو بھی بتاتا چلوں کہ میں نے اپنی اب تک کی زندگی کو کس زوایے سے دیکھا ہے :
کل عمر :
 پینتیس ( 35) سال یعنی
اٹھارہ سو چھبیس (1826) ہفتے 
بارہ ہزار سات سو چوراسی (12784) دن 
تین لاکھ چھ ہزار آٹھ سو سولہ (306816) گھنٹے
ایک کروڑ چوارسی لاکھ آٹھ ہزار نو سو تراسی (18408983) منٹ
ایک ارب دس کروڑ پینتالیس لاکھ انچالیس ہزار چودہ (1104539014) سکینڈ 
_ _ _ _ _ _ _ _ _ 
    قارئین ! اس خاکے کو دیکھ کر سوچ آتی ہے کہ ہم جن اوقات کو بہت تھوڑا اور معمولی سمجھ کر یوں ہی ضائع کردیتے ہیں ، آہستہ آہستہ وہ اوقات کتنے زیادہ ہوجاتے ہیں ، جن کو ہم چاہ کر بھی لوٹا نہیں سکتے ، بس حسرت و افسوس کے ساتھ کہہ سکتے ہیں 

ہاں دکھادے اے تصور پھروہ صبح وشام تو 
لوٹ پیچھے کی  طرف اے  گردش ایام  تو 

آمدم بر سر مطلب : مذکورہ ساری تفصیلات لکھنے مقصد بس دل میں اس احساس کو جگانا ہے کہ زندگی خدا کی دی ہوئی انمول نعمت ہے، جس کا صحیح استعمال ہر ایک کے لئے انتہائی ضروری ہے ، قبل اس کے کہ یہ نعمت ختم ہو جائے اور ہم خدا کے دربار میں کھڑے ہوں، پھر حدیث شریف کے مطابق اللہ ہر انسان سے پوچھے گا کہ اس نے اپنی زندگی کن کاموں میں گزاری ؟
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: موت آنے سے پہلے زندگی کو غنیمت جانو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : عقلمند انسان وہ ہے جو اپنی حقیقت کو سمجھے اور موت سے پہلے موت کی تیاری کرے ! 
       قارئین ! زندگی کو غنیمت جان کر موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے جو خود احتسابی، محاسبہ یا سیلف ٹرائل کہتے ہیں ، اس کی عادت انسان کو بہت فائدہ دیتی ہے۔ یہ کامیابی کا پہلا زینہ ہے، جس کے ذریعےہم اپنی خوبیوں اور خامیوں پر نگاہ رکھ سکتے ہیں، اپنے اخلاق و کردار کو سنوار سکتے ہیں، لاپروائی کی عادت سے جان چھڑا سکتے ہیں، کیوں کہ بہت سے معاشرتی، معاشی، سماجی، انفرادی اور اجتماعی مسائل کی جڑ لاپروائی ہی ہے۔ خود احتسابی سے محروم شخص نہ دنیاوی لحاظ سے ترقی کر سکتا ہے نہ اخروی لحاظ سے !  سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے : 
’’حساب لیے جانے سے پہلے پہلے اپنا حساب کر لو، کیوں کہ جس شخص نے دنیا میں اپنا محاسبہ کر لیا، روزِ قیامت اس کا حساب آسان لیا جائے گا۔‘‘
       آج جبکہ زندگی کی پینتیس بہاریں گزر چکی ہیں، خدا جانے آئندہ زندگی کتنی باقی ہے؟ دعا گو ہوں کہ خدائے رحیم و کریم اب تک کی کوتاہیوں کو معاف کرے اور بقیہ زندگی کو ہر لحاظ سے گزشتہ کے مقابلے بہتر بنائے آمین!

    اَللّٰہُمَّ أَصْلِحْ لِیْ دِیْنِیْ الَّذِیْ ہُوَ عِصْمَۃُ أَمْرِیْ،وَأَصْلِحْ لِیْ دُنْیَایَ الَّتِیْ فِیْہَا مَعَاشِیْ ، وَأَصْلِحْ لِیْ آخِرَتِیْ الَّتِیْ فِیْہَا مَعَادِیْ ،وَاجْعَلِ الْحَیَاۃَ زِیَادَۃً لِّیْ فِیْ کُلِّ خَیْرٍ ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَۃً لِّیْ مِنْ کُلِّ شَرٍّ [ مسلم : ۲۷۲۰]

’’اے اللہ ! تو میرا دین میرے لئے سنوار دے جوکہ میرے حق میں بچاؤ کا ذریعہ ہے ، اور میرے لئے میری دنیا کو بھی ٹھیک کردے جس میں میں رہتا ہوں ہے اور میرے لئے میری آخرت کو بھی بہتر بنا دے جس میں مجھے لوٹ کر جانا ہے اور میری زندگی کو میرے لئے ہر خیر میں اضافے کا باعث بنااور میری موت کو میرے لئے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنا۔‘‘
*-*-*

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے