2023ء میں ہم نے کیا کھویا کیاپایا؟
جشن نہ منائیں بلکہ محاسبہ کریں!
از:مفتی محمد عامر یاسین ملی
عربی زبان کا شعر ہے
حیاتک انفاس تعد فکلمامضت
نفس منھا انتقضت بہِ جزء ً
(تمہاری زندگی چند سانسوں کا ذخیرہ ہے، جوں جوں تم سانس لئے جا رہے ہو،وہ ذخیرہ بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔)
یقیناخالق کائنات نے انسان کو بڑی مختصر زندگی عطا فرمائی ہے، جو ہر گزرتے ہوئے لمحے کے ساتھ ختم ہو رہی ہے، اور رفتہ رفتہ انسان اس فانی دنیا سے دور اور قبر اور آخرت سے قریب ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسی ناقابلِ تردید حقیقت ہے جس کا اعتراف وہ قومیں بھی کرتی ہیں جو ﷲ پاک کے وجودکی منکر ہیں ، حالانکہ اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اس کو بنانے والے خالق و مالک کا وجود ہے جو تن تنہا عبادت کے لائق ہے۔
ﷲ پاک نے اس دنیا میں کسی کو بھی ہمیشہ کی زندگی عطا نہیں کی ،بلکہ ہر ایک کے لئے موت مقدر کی ہے۔ یہاں تک کہ جس ذات کے صدقہ میں یہ کائنات وجودمیں آئی ، یعنی ہمارے آقا جناب محمد رسول اللہ ﷺ انہیں بھی موت آ کر رہی۔ طبرانی شریف کی روایت ہے حضرت سہل ابن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرئیل ؑ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: محمد !(ﷺ)آپ جتنا بھی زندہ رہیں ایک دن موت آنی ہے،آپ جو چاہیں عمل کریں اس کابدلہ آپ کو دیا جائے گا، جس سے چاہیں محبت کریں آخر ایک دن اس سے جدا ہونا ہے۔جان لیجئے کہ مومن کی بزرگی تہجد پڑھنے میں ہے اورمومن کی عزت لوگوں سے بے نیازرہنے میں ہے۔
جن لوگوں نے زندگی اور موت کے اس فلسفہ کو سمجھ لیا ،انہوں نے ہر دن کو اپنی زندگی کاآخری دن سمجھا اور اس فانی دنیا کے بجائے باقی رہنے والی آخرت کی تیاری میں مشغول رہے، وہ لمبی زندگی کی چاہت رکھنے کے بجائے گزرے دنوں کامحاسبہ کرتے رہے اور حال کو ماضی سے بہتر بنانے کاعزم ہی ان کا شیوہ رہا۔ نہ وہ زندگی کے شیدائی بنے نہ ہی موت سے خائف ہوئے بلکہ فکر آخرت اور مرنے سے پہلے موت کی تیاری کی جستجو نے انہیں جینے کا ایک نرالا انداز عطا کیا جو ہرلحاظ سے نفع بخش تھا۔ ایک بزرگ سے کسی شخص نے سوال کیا کہ عبادت کرنے کا بہترین دن کونسا ہے؟ انہوں نے کہا کہ موت سے ایک دن پہلے…!پوچھنے والے نے حیرت سے کہا :
ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ یہی دن موت کاآخری دن ہے؟
بزرگ نے جواب دیا :تو پھر ہر دن زندگی کاآخری دن سمجھو۔ یقینا یہ وہی کامیاب افراد ہیں جنہیں حدیث شریف میں سب سے زیادہ ہوشیار اور عقلمندکہا گیا ہے۔
اس کے برعکس امت کا ایک بڑا طبقہ وہ ہے جو ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ‘‘ کے اصول پر عمل پیرا ہے،اس طبقے کا اندازِ فکر ایسا ہے کہ جب کوئی سال پورا ہو کر عمر کو کم کر جاتا ہے تو وہ اسے ’’عمرکا بڑھنا ‘‘قراردے کر Happy Birth Dayاور Happy New Year (یومِ پیدائش اور نئے سال کا جشن)مناتا ہے۔حالاں کہ سمجھنے کے لئے بالکل آسان سی بات ہے،’’اگر کسی شخص کی زندگی بالفرض ساٹھ سال مقدر ہے اور وہ اکتیس؍دسمبر 2023ء کو اپنی زندگی کا انسٹھواں سال پورا کر رہاہے۔ تو یقینا اس کے لئے بڑی فکر کی بات ہے کہ اب اس کی زندگی کا محض ایک ہی سال باقی بچا ہے، یعنی 31 دسمبر 2024ء کا سورج غرو ب ہونے کے ساتھ ہی اس کی زندگی کا سورج بھی غروب ہو جائے گا، اور وہ 2025ء کی آمد کا جشن نہیں منا سکے گا، لہذا اسے زندگی کے گزرے ایام کامحاسبہ کر کے بقیہ ایام کو اچھے انداز میں بسر کرنے کی منصوبہ بندی کرنی ہو گی ورنہ یہ آنے والا آخری سال بھی یوں ہی دیکھتے دیکھتے گزر جائے گا اورپھر سوائے حسرت و افسوس کہ کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔
محترم قارئین !جس وقت مضمون پڑھ رہے ہوں گے، دنیا بھر میں بے شمار لوگ نئے سال کی آمد کا جشن منانے کی تیاری کر رہے ہوں گے…!!کاش!کوئی انہیں بتادے کہ اپنی زندگی کے قیمتی ایام کو فضول اور لایعنی کاموں میں ضائع کرنے والے اورHappy New Year (نئے سال کی آمد کا جشن) جیسی فضول اور بے ہودہ رسومات میں پڑکرموت اور فکرِ آخرت سے غافل ہونے والے آج کتنے ہی ایسے بوڑھے ہیں جواپنی عمرِ رفتہ کو یاد کر کے کفِ افسوس مل رہے ہیں،کتنے جوان ہیں جو جوانی کے ضائع ہو جانے پر خون کے آنسو رو رہے ہیں اور کتنی ہی ایسی عورتیں ہیں جو گذشتہ زندگی کے برے اعمال کو یاد کر کے پچھتا رہی ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ ان لوگوں کے جسم کمزور ہو چکے، چہرے سیاہ پڑ گئے اور کمرجھک گئی ،بلکہ نئے سال کا جشن منانے والے بہت سارے افراد تو قبر کے تاریک گڑھوں میں جاپہنچے؛ اگر انہیں بولنے کا اختیار مل جائے تو یہ سب کے سب ہمیں یہ پیغام دیں
فکر عقبیٰ کی کر آج ہی بے خبر
کل نہ کر کل کی پل کابھروسہ نہیں
کل نہ آئی کبھی اور نہ آئے گی کل
کل تو کیا ایک پل کا بھروسہ نہیں
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں گزشتہ زندگی کا محاسبہ کرنے اور آئندہ زندگی کو دین ودنیا کے مفید کاموں میں بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
***
https://youtu.be/df1F1qQp1wE?si=GnrzESdNhbZSlE4d
1 تبصرے
ماشااللہ 🌹 اللہ استاذ محترم کی عمر میں عافیت کے ساتھ برکت عطا فرمائے۔
جواب دیںحذف کریںاور ان خدمات کو دوام و استحکام عطا فرمائے آمین 🤲🤲