تحریر : مفتی محمد عامر یاسین ملی
8446393682
گزشتہ ماہ پڑوسی شہر دھولیہ کے مولانا محمد سلمان قاسمی صاحب کے نکاح ثانی کی خبر اخبارات اور سوشل میڈیا کی زینت بنی، یہ خبر اس لئے بھی لوگوں کے لیے دلچسپی اور توجہ کے لائق بنی کہ مولانا سلمان صاحب کا یہ دوسرا نکاح تھا، موصوف پہلے سے شادی شدہ ہیں، اور پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں، اب انہوں نے جس خاتون سے نکاح کیا، وہ مولانا موصوف سے عمر میں کچھ بڑی ہیں اور یہ ان کاپہلا نکاح ہے۔ معلوم ہوا کہ محترمہ اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور منصورہ کالج میں بحیثیت پروفیسر اپنی تعلیمی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
یقینا یہ نکاح اس لحاظ سے لائق ستائش ہے کہ اس کے ذریعے ان لوگوں کے سامنے ایک مثال سامنے آئی جو اس طرح کے نکاح ( جس میں لڑکی کنواری ہو اور لڑکا شادی شدہ ہو یا لڑکا کنوارہ ہو اور لڑکی مطلقہ یا بیوہ ہو ) کو کم علمی کی وجہ سے معیوب سمجھتے ہیں۔ حالانکہ شریعتِ اسلامیہ میں یہ چیز ہر گز معیوب نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس طرح کے نکاح ہوتے تھے جو ہمارے لئے نمونہ ہیں ۔ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا نکاح حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا سے کیا جو یکے بعد دیگرے دو شوہروں کی وفات کے بعد بیوگی کے دور سے گزر رہی تھیں، اور عمر میں بھی آپ سے پندرہ برس بڑی تھیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پچیس سال کے کنوارے نوجوان تھے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے نکاح کیا جبکہ آپ کے نکاح میں پہلے سے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنھا موجود تھیں۔ یہی عمل صحابہ کرام کا تھا،حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت سے شادی کی ، میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ نے پوچھا : جابر! تم نے نکاح کر لیا ہے؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : کنواری ہے یا ثیبہ ( شوہر دیدہ ) ؟ میں نے عرض کی : ثیبہ، آپ نے فرمایا : باکرہ( کنواری) سے کیوں نہ کی ، تم اس سے دل لگی کرتے؟میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! میری بہنیں ہیں تو میں ڈرا کہ وہ میرے اور ان کے درمیان حائل ہو جائے گی ، آپ نے فرمایا : پھر ٹھیک ہے۔( مسلم) اگر ہم اس حدیث مبارکہ کا پس منظر پر بغور نظر ڈالیں تو یہ حدیث بہ آسانی سمجھ میں آسکتی ہے ۔غزوہ احد میں حضرت جابر کے والدگرامی حضرت عبداللہ شہید ہوگئے تھے اور اپنے اوپر کچھ قرضہ اور نو بیٹیاں سوگوار چھوڑ گئے تھے، چنانچہ اپنی بہنوں کی تعلیم وتربیت کے لئے حضرت جابر نے ایک ایسی عورت سے نکاح کیا جو عمر میں پختہ اور پہلے سے شادی شدہ تھیں ، وہ فرماتے ہیں:اپنے والد کی شہادت کے بعد اپنی بہنوں کی تربیت کے لئے میں نے ایک شادی شدہ عورت سے نکاح کیا ۔ مجھے یہ بات ناپسند تھی کہ میں اپنی بہنوں پر ان جیسی ہی کوئی لڑکی لے آؤں، میری چاہت تھی کہ میں اپنی بہنوں کی تربیت کے لئے ایسی عورت سے شادی کروں جو ان کا خیال رکھے، ان کے بال وغیرہ سنوارے اور ان پر بڑی بن کر رہے ۔ حضرت جابرؓ نے جب یہ وجہ بیان کی تو آپ نے اس پر خوشی کا اظہار کیا اور دعا دی: بارک اللہ لک ' اللہ تجھے برکت دے۔
قارئین! یہ چند مثالیں اس لئے تحریر کی گئی ہیں تاکہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ نکاح کا اسلامی نظام بہت وسیع ہے،اور اس نظام میں نکاح کی بہت ساری شکلیں ہیں نیز نکاح کسی بھی عمر میں ممکن ہے ، اسلام نے ایسی سہولتیں مہیا کی ہیں تاکہ کوئی مرد و عورت زندگی کے کسی بھی مرحلے میں بے نکاحی زندگی نہ بسر کرے، لیکن ہم لوگوں نے اپنی محدود سوچ اور اپنے طرز عمل سے رشتہ نکاح کے نظام کو محدود کردیا ہے، ہماری شرط ہوتی ہے کہ رشتہ ایسا ملے جو کنوارہ اور سنگل ہو ، نہ لڑکی کی عمر زیادہ ہو نہ اس کی گود میں بچہ ہو، اسی طرح لڑکا بھی اکیلا ہو، صاحب اولاد نہ ہو، وہ کیسا ہی دیندار اور بااخلاق ہو لیکن شادی شدہ نہ ہو، اس کا ذاتی مکان ضرور ہو، کاروبار بھی خود کا ہو، اور پہلی بیوی تو بالکل موجود نہ ہو، اگر وہ ناراض ہوکر چلی گئی ہو تو جب تک قانونی اور شرعی طور پر اس سے رشتہ نکاح بالکل ختم نہ ہو جائے، لوگ ایسے شخص کے ساتھ اپنی بہن یا بیٹی کا رشتہ طے نہیں کرتے، اس اندیشے سے کہ کسی دن وہ پہلی بیوی لوٹ کر نہ آجائے ۔
ظاہر ہے کہ یہ طرز فکر اسلامی نہیں ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہزاروں کی تعداد میں ایسی اعلی تعلیم یافتہ کنواری لڑکیاں ( جن میں ڈاکٹر، ٹیچر اور عالمہ وغیرہ شامل ہیں) اپنے گھروں میں رشتہ نکاح کے انتظار میں بیٹھی ہوئی ہیں جن کی عمر ڈھلتی جارہی ہے، والدین ان کے نکاح کی فکر اور کڑھن لئے جی رہے ہیں بلکہ دنیا سے رخصت ہورہے ہیں، لیکن ان کے رشتے کے لئے اپنی شرائط کم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، بس چاہت یہ ہوتی ہے کہ ان کی تیس پینتیس سال کی بیٹی کے لیے چونتیس اڑتیس سال کے کسی تعلیم یافتہ کاروباری بطور خاص کنوارے جوان کا رشتہ مل جائے تو وہ اپنی بیٹی کا نکاح اس کے ساتھ کردیں۔ حالانکہ بعض جگہوں پر ایسی لڑکیاں بھی حالات سے سمجھوتہ کرکے اس انداز میں نکاح کے لئے تیار ہوتی ہیں جس شکل میں مولانا سلمان صاحب کا نکاح ہوا، لیکن بوڑھے والدین اور سرپرستوں کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی اولاد پر ایک طرح کا ظلم ہے اور ان کا ایمان اور عزت و آبرو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، اس لئے کہ نکاح ایمان کی تکمیل اور عزت و آبرو کی حفاظت کا ضامن ہے۔ جو لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں وہ دیندار اور با اخلاق رشتہ دیکھ کر اپنی بیٹیوں کا نکاح کردیتے ہیں اور اس طرح ان کا فرض بھی ادا ہوجاتا ہے جبکہ بیٹیوں کو بھی ازدواجی زندگی کی خوشیاں مل جاتی ہیں۔ مولانا سلمان صاحب اور ان کی شریک حیات نے موجودہ ماحول میں جس حوصلے سے کام لیا ہے اور جو مثال پیش کی ہے وہ قابل قدر ہے اور لائق تقلید بھی ! دعا ہے کہ ان کی ازدواجی زندگی بھی خوشگوار انداز میں بسر ہو تاکہ معاشرے کے لیے ایک مثال قائم ہوسکے۔ فھل من مدکر۔تو ہے کوئی جو حق بات قبول کرے اور نصیحت حاصل کرے ۔
نوٹ : آئندہ کسی مضمون میں ایک سے زائد نکاح کے اسلامی نظام، اس کی شرائط، حکمت و مصلحت اور لوگوں کے طرز عمل پر بھی روشنی ڈالی جائے گی تاکہ اس نظام کی حقیقت معلوم ہو اور غلط فہمیاں دور ہوسکیں۔
1 تبصرے
جزاک اللہ خیر ماشاءاللہ ماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریں