آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے
از : مفتی محمد عامر ملی ابن قاری محمد یاسین شمسی
درمیانہ قد، سانولا رنگ ، پیشانی کشادہ ، ناک کھڑی ، چہرہ گول اور بارعب ، گھنی داڑھی ، سینہ کشادہ ، حفظ قرآن کی دولت سے لبریز ، سر پر شامی ٹوپی ، گٹھنوں تک لمبا کرتا ، چوڑے پائنچے والا پاجاما ، لباس ہمشہ صاف ستھرا (مقامی زبان میں کہا جائے تو کڑک استری) ، آنکھوں میں سرمہ، کپڑوں میں عطر کی خوشبو ، صفائی اور نظافت کا مبالغہ کی حد تک اہتمام ، صرف لباس و پوشاک ہی نہیں اپنی سواری (سائیکل) بھی صاف ستھری رکھنے کا مزاج ، گفتگو بالکل صاف ستھری، شستہ اردو ، لہجہ لکھنوی اور باتیں بالکل دو ٹوک ، جس سے ملتے مسکراتے چہرے کے ساتھ گویا برسوں بعد مل رہے ہوں ، شخصیت باوقار ، مزاج میں سنجیدگی بلکہ قدرے سختی لیکن ہم مزاج لوگوں خصوصاً دوستوں کی مجلس میں اور اہل خانہ کے درمیان بھی ظرافت اور خوش مزاجی غالب ، کفایت شعار اور قناعت پسند ، حالات کتنے ہی آزمائشی ہوں لیکن چہرے پر ایسا تبسم اور اطمینان کہ سامنے والا محسوس نہ کرسکے ، خود دار اور غیرت مند ، جلدی کسی سے مرعوب ہوتے نہ کسی کو اپنے حالات بتاتے ، نمازوں کے پابند اور تلاوت قرآن کے شیدائی ، گھر میں رہتے تو اکثر اوقات معروف قراء کی تلاوت ٹیپ ریکارڈر پر سنتے رہتے ۔ رمضان المبارک میں عام دنوں کی بہ نسبت کثرت سے قرآن پڑھتے اور خوبصورتی کے ساتھ پڑھتے ، زندگی کے پینتیس برس قرآن پڑھانے اور نماز تراویح میں مصلے پر سنانے میں گزرے ، چھوٹے بڑے ہر عمر کے لوگوں کو ان کے ٹھکانے پر پہنچ کر تجوید کے ساتھ قرآن سکھانا زندگی کا سب بڑا مقصد ، اہل خانہ سے جذباتی لگاؤ رکھنے والے اور مخلص دوستوں کے سامنے بچھ جانے والے ، سب سے بڑھ کر اپنے رب پر زبردست توکل رکھنے والے اور دعاؤں کے ذریعے اس سے مانگنے والے !
یہ تھے ہمارے والد بزرگوار قاری محمد یاسین شمسی (تغمدہ اللہ بغفرانہ) کیسے بتاؤں کہ آج سے بارہ سال قبل آج ہی کے دن (13 مارچ 2013ء) مجھ سے یہ متاع گراں مایہ واپس لے لی گئی ، ایک دن قبل بظاہر سورت شہر کے سفر پر روانہ ہوئے جو آخرت کا سفر ثابت ہوا ، اس کے بعد حیاتی میں ان کی پیاری صورت دیکھنا نصیب نہ ہوسکا ، انتقال کے وقت عمر ہی کیا تھی کوئی پچاس برس ، لیکن شاید جانے والے کو فانی دنیا کی الجھنوں سے آزاد ہونے اور اپنے رب کے حضور پہنچنے کی جلدی تھی ، کہ جو جتنی جلدی پہنچے گا اس کا حساب اتنا مختصر ہوگا ۔
13 مارچ 2013ء ، یہ میری زندگی کا وہ تاریک اور تکلیف دہ دن ہے جسے میں زندگی بھر فراموش نہیں کرسکتا ، اسی دن اچانک والد گرامی داغ مفارقت دے گئے ، اس واقعے کو بارہ سال کا عرصہ بیت چکا ہے ، عبد اب اپنے معبود کی رحمت میں ہے ، اپنے اہل و عیال اور متعلقین کی ہمدردی اور محبت سے بے نیاز ، اب کوئی چیز اس کو نفع پہنچا سکتی ہے تو وہ ہے ہماری دعائیں اور نیک اعمال!
چند دن پہلے قرآن کی تلاوت شروع کی تھی ، خدا کی توفیق و عنایت سے آج وہ مکمل ہوا ، چنانچہ آخری سورتوں کی تلاوت کرکے کلام اللہ کی تکمیل کی اور ہاتھ اٹھا کر کلام نازل کرنے والے رب سے فریاد کی کہ وہ اس کا ثواب اپنے اس بندے کے اعمال میں لکھ لے جو اب خود اعمال کی انجام دہی سے قاصر ہے لیکن اپنے پیچھے اس نے اولاد ایسی چھوڑی ہے جس کے ہر عمل اور دعا میں اس کا پورا پورا حصہ ہے ۔ (حدیث کے الفاظ میں: او ولد صالح یدعو لہ)
ناکارہ بیٹے نے اپنی دعا میں اپنے سر پر باپ کے سایہ عاطفت سے محرومی کے احساس اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ یہ فریاد بھی کی کہ خدایا ! تیرے فیصلے پر مجھے اعتراض کا حق تو نہیں لیکن یہ درخواست ضرور ہے کہ ابا جان کی لغزشوں سے صرف نظر فرما اور کامل مغفرت کے ساتھ درجات کو بلند کردے ۔ قبر کو نور سے منور کردے اور جنت کا گہوارہ بنادے ۔ یہ التجا بھی ہے کہ والدہ محترمہ کی عمر و صحت میں عافیت کے ساتھ برکت نصیب فرما ۔ بے شک تیری ذات بڑی رحیم و کریم ہے اور ہماری ساری امیدیں تجھ سے ہی وابستہ ہیں ، اور ہمیں یہ یقین بھی ہے کہ تو اپنے بندوں کی دعاؤں کو رد نہیں کرتا ۔
گزشتہ ہفتے رمضان المبارک کی چھٹی شب میں چھ روزہ تراویح میں تکمیل قرآن کا موقع تھا، متعدد افراد نے راقم سے دعا کی درخواست کی، راقم نے پورے مجمع سے گزارش کی کہ آپ حضرات میرے والد مرحوم کے لیے ضرور دعا کریں کہ آج اگر اس مصلے پر کھڑے ہو کر میں قرآن سنا رہا ہوں تو یہ میرے والدین کی قربانیوں اور دعاؤں کا ثمرہ ہے ۔ میں ان کا بدلہ تو نہیں چکا سکتا البتہ یہ دعا ضرور کرسکتا ہوں :
ربی ارحمھما کما ربیانی صغیرا ربنا اغفر لی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب
جن کے والدین باحیات ہیں ، خدا تعالیٰ ان کے سائے کو دراز فرمائے اور جن کے والدین رخصت ہوچکے ہوں ، ان کو اپنی رحمت و مغفرت کے سائے میں رکھے ۔ ایں دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد
*-*-*
0 تبصرے