تحریر: محمد عامر یاسین ملی مالیگاؤں
8446393682
ہمارے معاشرے میں طلاق دینے والے مردوں اور مطلقہ خواتین کے لیے رشتۂ نکاح کی تلاش انتہائی پیچیدہ اورمشکل عمل بن چکا ہے، جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ کسی بھی طلاق یافتہ خاتون کا رشتہ قبول کرنے سے پہلے لوگ اس خاتون کے اخلاق و کردار اور طلاق ہونے کی وجوہات اس کے سابق شوہر اور سسرالی رشتہ داروں سےمعلوم کرتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح اگر کسی ایسے مرد سے اپنی بہن یا بیٹی کا رشتہ طے کرنا ہو جس نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دی ہوتو اس مرد کے اخلاق و کردار کا حال اس کی مطلقہ بیوی اور اس کے سسرالی رشتہ داروں سے معلوم کیا جاتا یے،ظاہر ہے کہ طلاق کے نتیجے میں ایک دوسرے سے دور ہونے والے مردو عورت کبھی بھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کریں گے، بلکہ خو د کو پارسا ثابت کرنے کے لیے ایک دوسرے کی کمزوریوں اور اندرونی باتوں کو اجاگر کریں گے، اور پھر نہ وہ جھوٹ سے گریز کریں گے اور نہ غیبت اور الزام تراشی سے ، اس حقیقت کو جاننے کے باوجودطلاق کے ذریعے جدا ہونےوالے مرد و عورت کے اخلاق و کردارکا پتہ خود ان سے یا ان کے سسرالی رشتہ داروں سےمعلوم کرنے کی کوشش کرنا،اور یہ گمان کرنا کہ وہ ایک دوسرے کے متعلق صحیح باتوں کاا ظہار کریں گے،انتہادرجے کی حماقت ہے۔اس لیے بہتر یہ ہے کہ ایسے رشتوں کے اخلاق و کردار کی تحقیق کسی انصاف پسند اورغیرجانبدار شخص سے کی جائے۔
یہاں یہ واضح کر دینا بھی ضروری ہے کہ طلاق واقع ہوجانے کے بعد مرد و عورت کی راہیں الگ ہو جاتی ہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کے حق میں اجنبی بن جاتے ہیں۔ لہذا انہیں ایک دوسرےکی بد خواہی کرنے اور ایک دوسرے کی پردہ دری سےگریز کرناچاہئے، بلکہ جہاں تک ممکن ہو ایک دوسرے کے حق میں خیر کی بات ہی کہنی چاہئے۔
ایک دیہاتی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی کچھ لوگ اس کے پاس پوچھنے اور سببب معلوم کرنے آئے کہ اُس نے طلاق کیوں دی وہ کہنے لگا : کہ وہ ابھی عدت میں ہے ابھی تک وہ میری بیوی ہے مجھے اُس سے رجوع کا حق حاصل ہے میں اگر اس کے عیب تمہارے سامنے بیان کردوں تو رجوع کیسے کروں گا؟
لوگوں نے انتظار کیا اور عدت ختم ہوگئی اور اس شخص نے رجوع نہیں کیا لوگ دوبارہ اُس کے پاس آئے تو اس نے کہا :
اگر میں نے اب اس کے بارے میں کچھ بتایا تو یہ اُس کی شخصیت کو بدنام کرنا ہو گا اور پھر کوئی بھی اس سے شادی نہیں کرے گا !!!
لوگوں نے انتظار کیا حتٰی کہ اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہوگئی- لوگ پھر اُس کے پاس آئے اور طلاق کا سبب پوچھنے لگے اس دیہاتی نے کہا: اب چونکہ وہ کسی اور کی عزت ہے اور مروت وشرافت کا تقاضا یہ ہے کہ میں پرائی اور اجنبی عورت کے بارے میں اپنی زبان بند رکھوں ...
قارئین ! یہ واقعہ جہاں ان مردوں کے لئے سبق آموز ہے جنہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہو، وہیں ان لوگوں کے لیے بھی نصیحت آمیز ہے جو بغیر کسی وجہ کے ہر طلاق یافتہ جوڑے کے سلسلے میں کھوج کرید میں لگے رہتے ہیں، اور پھر یہی لوگ صحیح اور غلط باتیں پھیلا کر ان کے نکاح ثانی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
اگر طلاق کے بعد مرد و عورت اور دونوں خاندان ایک دوسرے کے تعلق سے اپنی زبان بند رکھ لیں تو نہ صرف ان کی عزت محفوظ رہے گی بلکہ وہ جھوٹ غیبت اور الزام تراشی کے گناہ سے بھی بچ جائیں گے اور ان کے نکاح ثانی میں بھی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی۔
٭…٭…٭
1 تبصرے
اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزاخیر آتا فرمائے
جواب دیںحذف کریں