Ticker

6/recent/ticker-posts

نئے سال کی آمد کیا پایا کیا کھویا

نئے سال کی آمد پر جشن یا اپنامحاسبہ

از: محمد نجیب قاسمی سنبھلی صاحب

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم 

اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

یہ دنیا کس طرح دوڑ رہی ہے کہ مہینے دنوں کی طرح اور دن گھنٹوں کی طرح گزر رہے ہیں۔ ہمیں احساس بھی نہیں ہورہا اور ہماری زندگی کے ایام کم ہوتے جارہے ہیں اور ہم برابر اپنی موت کے قریب ہوتے جارہے ہیں۔ ہم اپنی دنیاوی زندگی میں ایسے مصروف اور منہمک ہیں کہ لگتا ہے کہ ہم اسی دنیا میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ حالانکہ عقلمند اور نیک بخت وہ ہے جو دنوں کی تیزی سے جانے اور سال وموسم کے بدلنے کو اپنے لئے عبرت بنائے، وقت کی قدر وقیمت سمجھے کہ وقت صرف اس کی وہ عمر ہے جو اس کے ہر سانس پر کم ہورہی ہے اور اچھے اعمال کی طرف راغب ہوکر اپنے مولا کو راضی کرنے کی کوشش کرے۔ وقت کا تیزی کے ساتھ گزرنا قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے جیساکہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک زمانہ آپس میں بہت قریب نہ ہوجائے(یعنی شب وروز کی گردش بہت تیز نہ ہوجائے) چنانچہ سال مہینے کے برابر، مہینہ ہفتہ کے برابر، ہفتہ دنوں کے برابر اور دن گھنٹے کے برابر ہوجائے گا۔ اور گھنٹے کا دورانیہ بس اتنا رہ جائے گا جتنی دیر میں آگ کا شعلہ یکدم بھڑک کر بجھ جاتا ہے۔ مسند احمد، ترمذی


اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کے لئے موت کا وقت اور جگہ متعین کردی ہے اور موت ایسی شی ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص خواہ وہ کافر یا فاجر حتی کہ دہریہ ہی کیوں نہ ہو، موت کو یقینی مانتا ہے۔ اور اگر کوئی موت پر شک وشبہ بھی کرے تو اسے بے وقوفوں کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ بڑی بڑی مادی طاقتیں اور مشرق سے مغرب تک قائم ساری حکومتیں موت کے سامنے عاجز وبے بس ہوجاتی ہیں۔ ہر شخص کا مرنا یقینی ہے لیکن موت کا وقت اور جگہ سوائے اللہ کی ذات کے کسی بشر کو معلوم نہیں۔ چنانچہ بعض بچپن میں، بعض عنفوان شباب میں اور بعض ادھیڑ عمر میں، جبکہ باقی بڑھاپے میں داعی اجل کو لبیک کہہ جاتے ہیں۔ بعض صحت مند تندرست نوجوان سواری پر سوار ہوتے ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ موت کی سواری پر سوار ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس حقیقت کو بار بار ذکرفرمایا ہے: تم جہاں بھی ہوگے(ایک نہ ایک دن) موت تمہیں جا پکڑے گی، چاہے تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ رہ رہے ہو۔ (سورۃ النساء ۷۸) (اے نبی!) آپ کہہ دیجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو، وہ تم سے آملنے والی ہے۔ یعنی وقت آنے پر موت تمہیں ضرور اچک لے گی۔ (سورۃ الجمعہ ۸) جب اُن کی مقررہ میعاد آجاتی ہے تو وہ گھڑی بھر بھی اُس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتے۔ (سورۃ الاعراف ۳۴) اور نہ کسی متنفس کو یہ پتہ ہے کہ زمین کے کس حصہ میں اُسے موت آئے گی۔ سورۃ لقمان ۳۴


مختلف مواقع پر علماء کرام وداعیان اسلام وعظ ونصیحت کرتے ہیں تاکہ ہم دنیاوی زندگی کی حقیقت کو سمجھ کر وقتاً فوقتاً اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے رہیں اور زندگی کے گزرے ہوئے ایام میں اعمال کی تلافی زندگی کے باقی ماندہ ایام میں کرسکیں۔ لہٰذا ہم نئے سال کی آمد پر عزم مصمم کریں کہ زندگی کے جتنے ایام باقی بچے ہیں ان شاء اللہ اپنے مولا کو راضی رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ابھی ہم بقید حیات ہیں اور موت کا فرشتہ ہماری جان نکالنے کے لئے کب آجائے، معلوم نہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانچ امور سے قبل پانچ امور سے فائدہ اٹھایا جائے۔ بڑھاپہ آنے سے قبل جوانی سے ۔ مرنے سے قبل زندگی سے۔ کام آنے سے قبل خالی وقت سے۔ غربت آنے سے قبل مال سے۔ بیماری سے قبل صحت سے۔ (مستدرک الحاکم ومصنف بن ابی شیبہ) اسی طرح حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن کسی انسان کا قدم اللہ تعالیٰ کے سامنے سے ہٹ نہیں سکتا یہاں تک کہ وہ مذکورہ سوالات کا جواب دیدے: زندگی کہاں گزاری؟ جوانی کہاں لگائی؟ مال کہاں سے کمایا؟ یعنی حصولِ مال کے اسباب حلال تھے یا حرام۔ مال کہاں خرچ کیا؟ یعنی مال سے متعلق اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کئے یا نہیں۔ علم پر کتنا عمل کیا؟ میرے عزیز بھائیو! ہمیں اپنی زندگی کا حساب اپنے خالق ومالک ورازق کو دینا ہے جو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، جو پوری کائنات کا پیدا کرنے والا اور پوری دنیا کے نظام کو تن تنہا چلا رہا ہے۔


ہمیں گزشتہ ۳۶۵ دن کے چند اچھے دن اور کچھ تکلیف دہ لمحات یاد رہ گئے ہیں باقی ہم نے ۳۶۵ دن اس طرح بھلادئے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ غرضیکہ ہماری قیمتی زندگی کے ۳۶۵ دن ایسے ہوگئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ حالانکہ ہمیں سال کے اختتام پر یہ محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہمارے نامۂ اعمال میں کتنی نیکیاں اور کتنی برائیاں لکھی گئیں ۔ کیا ہم نے امسال اپنے نامۂ اعمال میں ایسے نیک اعمال درج کرائے کہ کل قیامت کے دن ان کو دیکھ کر ہم خوش ہوں اور جو ہمارے لئے دنیا وآخرت میں نفع بخش بنیں؟ یا ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ایسے اعمال ہمارے نامہ اعمال میں درج ہوگئے جو ہماری دنیا وآخرت کی ناکامی کا ذریعہ بنیں گے؟ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا کہ امسال اللہ کی اطاعت میں بڑھوتری ہوئی یا کمی آئی؟ ہماری نمازیں، روزے اور صدقات وغیرہ صحیح طریقہ سے ادا ہوئے یا نہیں؟ ہماری نمازیں خشوع وخضوع کے ساتھ ادا ہوئیں یا پھر وہی طریقہ باقی رہا جوبچپن سے جاری ہے؟ روزوں کی وجہ سے ہمارے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوا یا صرف صبح سے شام تک بھوکا رہنا؟ ہم نے یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھا یا نہیں؟ ہمارے معاملات میں تبدیلی آئی یا نہیں؟ ہمارے اخلاق نبی اکرمﷺ کے اخلاق کا نمونہ بنے یا نہیں؟ جو علم ہم نے حاصل کیا تھا وہ دوسروں کو پہنچایا یا نہیں؟ ہم نے اپنے بچوں کی ہمیشہ ہمیش کی زندگی میں کامیابی کے لئے کچھ اقدامات بھی کئے یاصرف ان کی دنیاوی تعلیم اور ان کو دنیاوی سہولیات فراہم کرنے کی ہی فکر کرتے رہے؟ ہم نے امسال انسانوں کو ایذائیں پہنچائی یا ان کی راحت رسانی کے انتظام کئے؟ ہم نے یتیموں اور بیواؤں کی مدد بھی کی یا صرف تماشہ دیکھتے رہے؟ ہم نے قرآن کریم کے ہمارے اوپر جو حقوق ہیں وہ ادا بھی کئے یا نہیں؟ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی یا نافرمانی؟ ہمارے پڑوسی ہماری تکلیفوں سے محفوظ رہے یا نہیں؟ ہم نے والدین، پڑوسی اور رشتہ داروں کے حقوق ادا کئے یا نہیں؟


جس طرح مختلف ممالک، کمپنیاں اور انجمنیں سال کے اختتام پر اپنے دفتروں میں حساب لگاتے ہیں کہ کتنا نقصان ہوا یا فائدہ؟ اور پھر فائدے یا نقصان کے اسباب پر غور وخوض کرتے ہیں۔ نیز خسارہ کے اسباب سے بچنے اور فائدہ کے اسباب کو زیادہ سے زیادہ اختیار کرنے کی پلاننگ کرتے ہیں۔ اسی طرح میرے دینی بھائیو! آخرت کے تاجروں کو سال کے اختتام پر نیز وقتاً فوقتاً اپنی ذات کا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے کہ کس طرح ہم دونوں جہاں میں کامیابی وکامرانی حاصل کرنے والے بنیں؟ کس طرح ہمارا اور ہماری اولاد کا خاتمہ ایمان پر ہو؟ کس طرح ہماری اخروی زندگی کی پہلی منزل یعنی قبر جنت کا باغیچہ بنے؟ جب ہماری اولاد ، ہمارے دوست واحباب اور دیگر متعلقین ہمیں دفن کرکے قبرستان کی اندھیرے میں چھوڑکر آجائیں گے، توکس طرح ہم قبر میں منکر نکیر کے سوالات کا جواب دیں گے؟ کس طرح ہم پل صراط سے بجلی کی طرح گزریں گے؟ قیامت کے دن ہمارا نامہ اعمال کس طرح دائیں ہاتھ میں ملے گا؟ کس طرح حوض کوثر سے نبی اکرم ﷺکے دست مبارک سے کوثر کا پانی پینے ملے کہ جس کے بعد پھر کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی؟ جہنم کے عذاب سے بچ کر کس طرح بغیر حساب وکتاب کے ہمیں جنت الفردوس میں مقام ملے گا؟ آخرت کی کامیابی وکامریانی ہی اصل نفع ہے جس کے لئے ہمیں ہرسال، ہر ماہ، ہر ہفتہ بلکہ ہر روز اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔ ہند نزاد مشہور سعودی محدث ڈاکٹر محمد مصطفی اعظمی قاسمی دامت برکاتہم نے بندہ سے متعدد مرتبہ فرمایا کہ میں ہر روز سونے سے قبل اپنا محاسبہ کرتا ہوں اور جس روز کوئی علمی کام نہیں کرپاتا تو میں اپنے آپ کو مردہ سمجھتا ہوں۔ چنانچہ ۸۵ سال کی عمر کے باوجودہ موصوف ابھی تک علمی کاموں میں لگے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو صحت عطا فرمائے اور ان کی عمر اور وقت میں برکت عطا فرمائے۔

ابھی وقت ہے۔ موت کسی بھی وقت اچانک ہمیں دبوچ لے گی، ہمیں توبہ کرکے نیک اعمال کی طرف سبقت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (سورۃ النور ۳۱) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: کہہ دو کہ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، یعنی گناہ کررکھے ہیں، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یقیناًوہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ (سورۃ الزمر ۵۳) یقینانیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔ (سورۃ الہود ۱۱۴) یہی دنیاوی فانی وقتی زندگی اخروی ابدی زندگی کی تیاری کے لئے پہلا اور آخری موقع ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آکھڑی ہوگی تو وہ کہے گا کہ اے میرے پروردگار! مجھے واپس بھیج دیجئے تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں، اس میں جاکر نیک اعمال کروں۔ ہرگز نہیں، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے، اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ ہے جب تک کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائیں۔ (سورۂ المؤمنون ۹۹ و ۱۰۰) لہذا ضروری ہے کہ ہم افسوس کرنے یا خون کے آنسو بہانے سے قبل اس دنیاوی زندگی میں ہی ا پنے مولاکو راضی کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہمارے بدن سے ہماری روح اس حال میں جدا ہو کہ ہمارا خالق ومالک و رازق ہم سے راضی ہو۔ آج ہم صرف فانی زندگی کے عارضی مقاصد کو سامنے رکھ کر دنیاوی زندگی گزارتے ہیں اور دنیاوی زندگی کے عیش وآرام اور وقتی عزت کے لئے جد وجہد کرتے ہیں۔

لہٰذا نماز وروزہ کی پابندی کے ساتھ زکوٰۃکے فرض ہونے پر اس کی ادائیگی کریں۔قرآن کی تلاوت کا اہتمام کریں۔ صرف حلال روزی پر اکتفا کریں خواہ بظاہر کم ہی کیوں نہ ہو۔ بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کی فکر وکوشش کریں۔ احکام الٰہی پر عمل کرنے کے ساتھ جن امور سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے ان سے باز آئیں۔ ٹی وی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے اپنے آپ کو اور بچوں کو دور رکھیں۔ حتی الامکان نبی اکرم ﷺ کی ہر سنت کو اپنی زندگی میں داخل کرنے کی کوشش کریں اور جن سنتوں پر عمل کرنا مشکل ہو ان کو بھی اچھی اور محبت بھری نگاہ سے دیکھیں اور عمل نہ کرنے پر ندامت اور افسوس کریں۔ اپنے معاملات کو صاف ستھرا بنائیں۔ اپنے اخلاق کو ایسا بنائیں کہ غیر مسلم حضرات ہمارے اخلاق سے متاثر ہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہوں۔ عصر حاضر کے داعی اسلام جناب ڈاکٹر عمر گوتم صاحب بار بار کہتے ہیں کہ ان دنوں جو حضرات مسلمان ہورہے ہیں ان میں سے بیشتر حضرات ہمارے اخلاق سے متاثر ہوکر ایمان لاتے ہیں۔ تقریباً ۳۰ سال قبل ڈاکٹر عمر گوتم صاحب بھی ایک مسلمان کے اخلاق سے متاثر ہوکر ہی ایمان لائے تھے اور آج الحمد للہ ان کی محنت وکاوش اور ان کے اخلاق سے سینکڑوں حضرات ایمان لاکر مختلف مقامات پر دین اسلام کی خدمت کررہے ہیں۔

نئے سال کی مناسبت سے دنیا میں مختلف مقامات پر Happy New Year کے نام سے متعدد پروگرام کئے جاتے ہیں اور ان میں بے تحاشہ رقم خرچ کی جاتی ہے، حالانکہ اس رقم سے لوگوں کی فلاح وبہبود کے بڑے بڑے کام کئے جاسکتے ہیں، انسانی حقوق کی ٹھیکیدار بننے والی دنیا کی مختلف تنظیمیں بھی اس موقع پر چشم پوشی سے کام لیتی ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ ان پروگراموں کو منعقد کرنے والے نہ ہماری بات مان سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اس وقت ہمارے مخاطب ہیں۔ لیکن ہم مسلمانوں کو اس موقع پر کیا کرنا چاہئے؟ یہ اس مضمون کو لکھنے کا بنیادی مقصد ہے۔ پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ شریعت اسلامیہ میں کوئی مخصوص عمل اس موقع پر مطلوب نہیں ہے اور قیامت تک آنے والے انس وجن کے نبی حضور اکرم ﷺ ، صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، مفسرین، محدثین اور فقہاء سے Happy New Year کہہ کر ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اس طرح کے مواقع کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے: (رحمن کے بندے وہ ہیں) جو ناحق کاموں میں شامل نہیں ہوتے ہیں، یعنی جہاں ناحق اور ناجائز کام ہورہے ہوں، اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اُن میں شامل نہیں ہوتے ہیں۔ اور جب کسی لغو چیز کے پاس سے گزرتے ہیں تو وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ یعنی لغو وبے ہودہ کام میں شریک نہیں ہوتے ہیں، بلکہ برے کام کو برا سمجھتے ہوئے وقار کے ساتھ وہاں سے گزر جاتے ہیں۔ سورۃ الفرقان ۷۲

عصر حاضر کے علماء کرام کا بھی یہی موقف ہے کہ یہ عمل صرف اور صرف غیروں کا طریقہ ہے، لہٰذا ہمیں ان تقریبات میں شرکت سے حتی الامکان بچنا چاہئے۔ اور اگر کوئی شخص Happy New Year کہہ کر ہمیں مبارک باد پیش کرے تو مختلف دعائیہ کلمات اس کے جواب میں پیش کردیں، مثلاً اللہ تعالیٰ پوری دنیا میں امن وسکون قائم فرمائے، اللہ تعالیٰ کمزوروں اور مظلوموں کی مدد فرمائے۔ اللہ تعالیٰ برما، شام، عراق اور فلسطین میں مظلوم مسلمانوں کی مدد فرمائے، اللہ تعالیٰ ہم سب کی زندگیوں میں خوشیاں لائے۔ اللہ تعالیٰ ۲۰۱۶ کو اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی کا سال بنادے۔ نیز سال گزرنے پر زندگی کے محاسبہ کا پیغام بھی دیا جاسکتا ہے۔ ہم اس موقع پر آئندہ اچھے کام کرنے کے عہد کرنے کا پیغام بھی ارسال کرسکتے ہیں۔ غرضیکہ ہم خود Happy New Year کہہ کر پہل نہ کریں بلکہ اس موقع پر حاصل شدہ پیغام پر خود داعی بن کر مختلف انداز سے مثبت جواب پیش فرمائیں۔ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں بھی مختلف کیلنڈر رائج تھے، اور ظاہر ہے کہ ہر کیلنڈر کے اعتبار سے سال کی ابتداء بھی ہوتی تھی۔ ہجری کیلنڈر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں شروع کیا گیا ہے، اور چاند کے نظام سے چلنے والے ہجری کیلنڈر کے سال کی ابتداء محرم الحرام سے شروع کی گئی۔ سورج کے نظام سے عیسوی کیلنڈر میں ۳۶۵یا ۳۶۶ دن ہوتے ہیں، جبکہ ہجری کیلنڈر میں ۳۵۴ دن ہوتے ہیں۔ہر کیلنڈر میں ۱۲ ہی مہینے ہوتے ہیں۔ ہجری کیلنڈر میں مہینہ ۲۹ یا ۳۰ دن کا ہوتا ہے جبکہ عیسوی کیلنڈر میں سات مہینہ ۳۱ دن کے، چار ماہ ۳۰ دن اورایک ماہ ۲۸ یا ۲۹ دن کا ہوتا ہے۔ سورج اور چاند دونوں کا نظام اللہ ہی نے بنایا ہے۔

شریعت اسلامیہ میں متعدد عبادتیں ہجری کیلنڈر سے مربوط ہیں۔ دونوں کیلنڈر میں ۱۰ یا ۱۱ روز کا فرق ہونے کی وجہ سے بعض مخصوص عبادتوں کا وقت ایک موسم سے دوسرے موسم میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ موسموں کی تبدیلی بھی اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے۔ ہمیں اس پر غور کرنا چاہئے کہ موسم کیسے تبدیل ہوجاتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس پر غور وخوض کرنے کی دعوت دینی چاہئے۔ ظاہر ہے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کا حکم ہے جس نے متعدد موسم بنائے اور ہر موسم میں موسم کے اعتبار سے متعدد چیزیں بنائیں، جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے باری باری آنے جانے میں اُن عقل والوں کے بڑی نشانیاں ہیں۔ جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہوئے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں، اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں، (اور انہیں دیکھ کر بول اٹھتے ہیں کہ) اے ہمار پروردگار! آپ نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ آپ (ایسے فضول کام سے)پاک ہیں۔ پس دوزخ کے عذاب سے بچالیجئے۔ سورۃ آل عمران ۱۹۰ و ۱۹۱

نئے سال کے موقع پر عموماً دنیا میں سردی کی لہر ہوتی ہے، سردی کے موسم میں دو خاص عبادتیں کرکے ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکتے ہیں۔ ایک عبادت وہ ہے جس کا تعلق صرف اور صرف اللہ کی ذات سے ہے اور وہ رات کے آخری حصہ میں نماز تہجد کی ادائیگی ہے۔ جیسا کہ سردی کے موسم کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ سردی کا موسم مؤمن کے لئے موسم ربیع ہے، رات لمبی ہوتی ہے اس لئے وہ تہجد کی نماز پڑھتا ہے۔دن چھوٹا ہونے کی وجہ سے روزہ رکھتا ہے۔ یقیناًسردی میں رات لمبی ہونے کی وجہ سے تہجد کی چند رکعات نماز پڑھنا ہمارے لئے آسان ہے۔ قرآن کریم میں فرض نماز کے بعدجس نماز کا ذکر تاکید کے ساتھ بار بار کیا گیا ہے وہ تہجد کی نماز ہی ہے جو تمام نوافل میں سب سے افضل نماز ہے۔ ارشاد باری ہے : وہ لوگ راتوں کو اپنے بستروں سے اٹھ کر اپنے رب کو عذاب کے ڈر اور ثواب کی امید سے پکارتے رہتے ہیں (یعنی نماز، ذکر اور دُعا میں لگے رہتے ہیں) (سورۂ السجدہ ۱۶) یہ ان کی صفت اور عمل ہے لیکن جزا اور بدلہ عمل سے بہت زیادہ بڑا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو سامان خزانہ غیب میں موجود ہے اس کی کسی شخص کو بھی خبر نہیں۔ یہ اِن کو اُن اعمال کا بدلہ ملے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ (سورۂ السجدہ ۱۷) ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (رحمن کے سچے بندے وہ ہیں)جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں۔ (سورۂ الفرقان ۶۴) اس کے بعد سورہ کے اختتام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہی لوگ ہیں جنھیں ان کے صبر کے بدلے جنت میں بالا خانے دئے جائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز رات کی ہے یعنی تہجد (جو رات کے آخری حصہ میں ادا کی جاتی ہے)۔ (مسلم) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! سلام کو پھیلاؤ، لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور راتوں میں ایسے وقت نمازیں پڑھو جبکہ لوگ سورہے ہوں، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤگے۔ (ترمذی، ابن ماجہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات کو قیام فرماتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں مبارک میں ورم آجاتا۔ میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کردئے گئے ہیں(اگر ہوتے بھی)، پھر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں اپنے پروردگار کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ بخاری

سردی کے موسم میں دوسرا اہم کام جو ہمیں کرنا چاہئے وہ اللہ کے بندوں کی خدمت ہے اور اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ہم غرباء ومساکین ویتیم وبیواؤں وضرورت مندوں کو سردی سے بچنے کے لئے لحاف، کمبل اور گرم کپڑے تقسیم کریں۔ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ہوں گے جیسے دو انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔ (بخاری) رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: مسکین اور بیوہ عورت کی مدد کرنے والا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ ( بخاری،مسلم) رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کو ضرورت کے وقت کپڑا پہنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے سبز لباس پہنائے گا۔ جوشخص کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کچھ کھلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے پھل کھلائے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی پلائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کی ایسی شراب پلائے گا، جس پر مہر لگی ہوئی ہوگی۔ ( ابوداود، ترمذی) رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہیں اپنے کمزوروں کے طفیل سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ (بخاری) غرضیکہ اس طرح ہم اپنے مال ودولت کی ایک خاص مقدار محتاج، غریب، مساکین اور یتیم وبیواؤں پر خرچ کرسکتے ہیں جو یقیناًایک بڑا عمل ہے۔

خلاصۂ کلام: موت یقینی شی ہے لیکن اس کا وقت اللہ کے علاوہ کسی بشر کو معلوم نہیں ہے، ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ سال کے اختتام پر ہماری عمر کتنی ہوگئی، لیکن زندگی کے کتنے سال، مہینے، دن یا لمحات باقی رہ گئے، وہ کسی کو معلوم نہیں۔ موت کے فرشتہ کے آنے پر ہمارے گھر والے، خاندان والے بلکہ پوری کائنات مل کر بھی ہمیں نہیں بچا سکتی۔ لہٰذا عقلمندی اور نیک بختی اسی میں ہے کہ ہم اس فانی دنیاوی زندگی کو اخروی وابدی زندگی کو سامنے رکھ کر گزاریں جیسا کہ محسن انسانیت حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: دنیا میں اس طرح رہو جیسے مسافر ہو یا راستہ چلنے والا ہو۔ بخاری

Happy New Year کی مناسبت پر بے تحاشہ رقم کے خرچ سے ہونے والی تقریبات میں شرکت سے بچ کر اپنے مولا کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔ سردی کے موسم میں دیگر اعمال صالحہ کے ساتھ ان دو اعمال کا خاص اہتمام کریں۔ ایک حسب توفیق نماز تہجد کی ادائیگی اور دوسرے ضرورت مندوں کی مدد کرنا تاکہ غرباء ومساکین ویتیم وبیوائیں وضرورت مند حضرات رات کے ان لمحات میں چین وسکون کی نیند سوسکیں جب پوری دنیا خرافات میں اربوں وکھربوں روپئے بلاوجہ خرچ کررہی ہو۔ نیز پوری انسانیت کو یہ پیغام دیا جائے کہ غرباء ومساکین ویتیم وبیوائیں وضرورت مند کا جتنا خیال اسلام میں رکھا گیا ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی، بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں مذہب صرف اور صرف اسلام ہی ہے، باقی تمام مذاہب میں صرف روایت باقی رہ گئی ہے۔ دیگر مذاہب کے لوگ اپنے مذہب پر عمل تو درکنار اپنے مذہب کی کتابوں کو بھی نہیں پڑھتے۔ ۱۴۰۰ سال گزرنے کے باوجود مسلمانوں کا آج بھی قرآن وحدیث سے جیسا تعلق اور شغف ہے اس کی کوئی مثال دنیا میں موجود نہیں ہے۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے ہی دنیامیں غربت کو ختم کیا جاسکتا ہے جو ہمیشہ فضول خرچی کی مذمت اور انسانوں کی مدد کی ترغیب دیتا ہے۔ یاد رکھیں کہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے ہی دنیا سے سرمایہ داروں کی اجارہ داری ختم کی جاسکتی ہے۔

*-*-*


سال نو! جشن کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا وقت ہے

از : حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

   2021 ء کا سال گذرنے کو ہے، ہم 2022 ء میں داخل ہونے والے ہیں، عام طور پر لوگ نئے سال کے آغاز کو ایک جشن کی صورت میں مناتے ہیں؛ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ وقت افراد و اشخاص کے لئے بھی اداروں اور تنظیموں کے لئے بھی اور جماعتوں اورقوموں کے لئے بھی اپنے احتساب کا وقت ہے ، کہ انھوں نے اس عرصہ میں کیا کھویا اور کیا پایا ہے اور قت کی صورت میں جو عظیم نعمت اللہ نے انسان کو عطا فرما ئی ہے ، اس کا کس طور استعمال کیا ہے ؟ جو قوم خود اپنا محاسبہ نہیں کر سکتی اور جو جماعت اپنا گریباں آپ تھامنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ، دوسرے ان کے گریبان تھامتے ہیں اور خیر و شر کا حساب کر کے اس کا بدلہ چکاتے ہیں ، لمحوں کی ناقدری سے بعض اوقات صدیوں کا نقصان ہوتا ہے اور قومیں زوال وانحطاط کے دلدل میں پھنستی چلی جاتی ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بہت سی نعمتیں اس کا ئنات میں دی ہیں ، ان میں ایک بہت بڑی نعمت وقت ہے ، انسان سمجھتا ہے کہ اس کی عمر بڑھ رہی ہے ، اس کے اوقات بڑھ رہے ہیں ؛ لیکن در حقیقت عمر گھٹتی جاتی ہے اور ہر لمحہ وقت کی متاع گراں مایہ اس کے ہاتھوں سے نکلتی جاتی ہے :

ہو رہی ہے عمر مثل برف کمپ

چپکے چپکے ، لمحہ لمحہ ، دم بہ دم

وقت کی قدرو قیمت کا اندازہ اس سے لگایئے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں کتنے ہی مقامات پر وقت کی قسم کھائی ہے ، کبھی رات اور صبح کی قسم کھائی گئی ، ( اللیل : ۱ - ۲ ، مدثر: ۳۳-۳۴ ، تکویر : ۱۷- ۱۸) کبھی رات کے ساتھ شفق کی قسم کھائی گئی ، ( انشقاق : ۱۶-۱۷) کبھی فجر اور اس کے ساتھ دس راتوں کی ( الفجر : ۱-۲) کبھی دن کی روشنی اور رات کے چھاجانے کی (الضحیٰ: ۱- ۲) اور کبھی خود زمانہ کی، ( العصر : ۱) دنوں کی آمد و رفت اور سورج و چاند کے طلوع و غروب سے اوقات کا علم ہوتا ہے ، قرآن مجید نے جابجا اللہ کی نعمت کی حیثیت سے ان کا ذکر فرمایا ہے ، اللہ تعالیٰ قیامت میں انسان سے اس کی عمر کے بارے میں بھی سوال فرمائیں گے ، کہ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی ، جس میں نصیحت حاصل کرنے والے لوگ نصیحت حاصل کر سکیں '' أَوَلَمْ نُعَمِّرْکُم مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَن تَذَکَّرَ''( الفاطر: ۳۷) رسول اللہ انے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن آدمی سے اس بارے میں سوال کیا جائے گا کہ اس نے اپنی عمر کس کام میں گذاری اور اپنی جوانی کو کس مقصد میں صرف کیا ؟ حضرت عبد اللہ بن عباسصسے مروی ہے کہ آپ انے ارشاد فرمایا : دو نعمتیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکہ میں مبتلا ہیں ، صحت اورفراغت ِوقت ۔

سلف صالحین جنھوں نے اعلیٰ درجہ او ربلند قیمت علمی کام کئے ہیں ، اپنے وقت کے ایک ایک لمحہ کو وصول کرتے تھے اور ایک منٹ کا ضائع ہونا بھی ان کو گوارا نہیں تھا ، وہ آخر دم تک اپنے وقت کو مشغول رکھتے تھے ، امام ابو یوسفؒ ( ۱۱۳- ۱۸۲ھ) اسلامی تاریخ کے پہلے قاضی القضاۃ ہیں ، ان کے بارے میں اہل تذکرہ نے قاضی بن جراح سے نقل کیا ہے ، کہ وہ مرض وفات میں امام صاحب کی عیادت کے لئے پہنچے ، آپ پر بے ہوشی طاری تھی ، ابراہیم بیٹھے رہے ، کچھ دیر میں ہوش آیا ، امام صاحب نے پوچھا کہ حج میں جمرات کی رمی پیدل کرنا افضل ہے یا سواری پر ؟ ابراہیم نے استاذ سے عرض کیا ، کہ اس حال میں بھی آپ فکر و تحقیق کو نہیں چھوڑتے ، امام ابویوسف ؒ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ، ابراہیم نے کہا : سوار ہو کر رمی کرنا افضل ہے ، امام ابو یوسف ؒ نے کہا : یہ غلط ہے ، ابراہیم نے کہا پھر پیدل رمی کرنا افضل ہوگا ، فرمایا یہ بھی غلط ، ابراہیم نے عرض کیا کہ جورائے صحیح ہو ، اسے آپ ہی ارشاد فرمائیں ، فرمایا : جس رمی کے بعد کوئی اور رمی ہو ، اس کو پیدل کرنا افضل ہے اور جس کے بعد کوئی اور رمی نہ ہو ، اسے سوار ہو کر ، ابراہیم وہاں سے اُٹھے اورامام صاحب کے گھر کے دروازہ ہی پر پہنچے تھے کہ اہل خانہ کے رونے کی آواز آئی ، دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ امام ابو یوسف ؒکا انتقال ہو گیا ہے ، یہی امام ابویوسفؒ ہیں ، جن کے بارے میں منقول ہے کہ انھوں نے سترہ ۱۷؍ سال تک اپنے استاذ امام ابو حنیفہؒ کی مجلس میں اس طرح شرکت کی کہ کبھی فجر کی نماز فوت نہیں ہوئی ، یہاں تک کہ عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن بھی ؛ بلکہ صاحبزادے کا انتقال ہو گیا ، تو تجہیز و تکفین کا انتظام اپنے اعزہ اور پڑوسیوں کے حوالہ کرکے درس میں شریک رہے اور درس سے محرومی کو گوارا نہیں کیا ۔ ( مناقب مکی : ۱ ؍ ۴۷۲)

ایک بڑے محدث عبید بن یعیش گذرے ہیں جو امام بخاری اور امام مسلم کے اساتذہ میں ہیں ، ان کے بارے میں حافظ ذہبی نے نقل کیا ہے کہ تیس سال تک رات میں اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھایا ؛ بلکہ خود حدیث لکھنے میں مصروف رہتے اور بہن منھ میں لقمہ دیتی جاتی (سیراعلام النبلاء : ۱۱؍۴۵۸) احمد بن یحی شہبانی ( ۲۰۰ - ۲۹۱ھ) عربی لغت ، ادب ، گرامر اور قراء ت وغیرہ کے بڑے نامی گرامی آدمی تھے اور ثعلب کے نام سے مشہور تھے ، ان کا حال یہ تھا کہ اگر دعوت دی جاتی تو داعی سے فرماتے کہ کھانے کے وقت ان کے لئے چمڑے کے تکیہ کی مقدار جگہ خالی رکھی جائے ، جس میں وہ کتاب رکھ کر مطالعہ کریں ( الحث علی طلب العلم الخ للعسکری: ۷۷) امام ثعلب کا معمول تھا کہ راستہ چلتے بھی ہاتھ میں کتاب رہتی اور مطالعہ کرتے جاتے ؛ چنانچہ اسی طرح چل رہے تھے کہ گھوڑے نے ٹکر دی ، گر پڑے اور ایسی چوٹ آئی کہ دوسرے ہی دن وفات ہو گئی ۔ ( وفیات الاعیان لابن خلکان : ۱ ؍ ۱۰۴)

اسی کا نتیجہ ہے کہ اسلام کے ابتداتی دور میں اہل علم نے اتنا عظیم تصنیفی اور تالیفی کام انجام دیا ہے کہ سن کر اور پڑھ کر حیرت ہوتی ہے اور آج ان کتابوں کو ایک شخص کا پڑھ لینا بھی دشوار ہے ، امام ابن جریر طبریؒ بہت ہی بلند پایہ ، مفسر ، محدث اور فقیہ ہیں ، انھو ںنے اپنی عظیم الشان تفسیر ۳ ؍ہزار اور اق میں ۲۸۳ھ تا ۲۹۰ھ یعنی صرف سات سال کے عرصہ میں مکمل کی ، پھر ایک تفصیلی تاریخ لکھنی شروع کی ، جس سے ۳۰۳ھ میں فارغ ہوئے ، یہ دونوں کتابیں تین تین ہزار گویا ۶؍ ہزار صفحات پر مشتمل ہیں ، طبری کی یہ تفسیر ۱۱ ؍ ضخیم جلدوں میں منظر عام پر آچکی ہے ، بعض حضرات نے لکھا ہے کہ طبری کی تصنیفات کا حساب لگایا جائے تو یومیہ ۱۴؍ ورق یعنی ۲۸؍ صفحات کا اوسط ہوتا ہے ۔

حافظ ذہبی نے تذکرۃ الحفاظ میں لکھا ہے کہ انھوں نے جو روشنائی خریدی ، اس کا حساب کیا گیا تو وہ سات سو درہم کی تھی ، ابو ریحان بیرونی کی وفات کے وقت اس زمانہ کے مشہور فقیہ ابو الحسن و لوالجی گئے ، بیرونی نزع کی حالت میں تھے اور سینے میں گھٹن محسوس کر رہے تھے ، اس وقت علامہ ولوالجی سے '' جدات فاسدہ '' ( نانی ) کے حق میراث کا مسئلہ پوچھا ، ولوالجی کو رحم آیا اور کہنے لگے کہ اس وقت بھی آپ کو یہ فکر پڑی ہے ؟ بیرونی نے کہاکہ دنیا سے اس مسئلے سے واقف ہو کر جانا بہتر ہے یا ناواقف ہو کر ؟ ولوالجی نے مسئلہ کی وضاحت کر دی اور واپس ہوئے ، کچھ ہی دور آئے تھے کہ رونے دھونے کی آواز آئی اور معلوم ہوا کہ علامہ بیرونی کا انتقال ہو گیا ہے ۔

وقت کی حفاظت کرنے والے بزرگوں میں علامہ ابن عقیل بھی ہیں ، جو بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں ، ان کی سب سے اہم کتاب '' الفنون'' ہے ، جس کے بارے میں بعض دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ اس کی ۸ ؍ سو جلدیں تھیں ، اس کا کچھ حصہ ڈاکٹر جارج مقدسی مستشرق نے دو جلدوں میں ۱۹۷۰ - ۱۹۷۱ء میں شائع کیا ہے ، امام ابن جوزی تاریخ اسلام کے بڑے مصنفین میں ہیں ، وہ ان لوگوں کو بہت ناپسند کرتے تھے ، جو چاہتے کہ ان کے پاس ملاقاتیوں اور ہم نشینوں کی بھیڑ لگی رہے ، خود بھی بے مقصد آنے والوں سے بہت نالاں رہتے اور مجبوراً جن لوگوں سے ملاقات کرنی ہوتی ، ان سے ملاقات کے اوقات کو اسی طرح استعمال فرماتے کہ اس وقت حسب ِضرورت کا غذ کاٹے جاتے ، قلم تراش لیتے اور لکھے ہوئے اور اق باندھ لیتے ، اس کا نتیجہ تھا کہ بقول حافظ ابن رجب شاید ہی کوئی فن ہو ، جس میں ابن جوزی کی کوئی کتاب نہ ہو ، ابن جوزی کی تصنیفات پانچ سو سے اوپر ہیں اور ان میں سے بعض بیس جلدوں اور بعض ۱۰؍ جلدوں پر مشتمل ہیں ، ابن جوزی کے بارے میں نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے جن قلموں سے حدیثیں تحریر کی تھیں ، ان کے ڈھیر سارے تراشے جمع ہوگئے تھے ، انھوں نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے مرنے کے بعد میرے غسل کا پانی اسی سے گرم کیا جائے ؛ چنانچہ پانی گرم کرنے کے بعدبھی قلم کے تراشے بچے رہے ۔

مشہور مفسر اور صاحب نظر امام رازی کھانے کے وقت پر بھی افسوس کا اظہار کرتے کہ اس وقت علمی مشغلہ فوت ہو جاتا ہے ، مشہور محدث علامہ منذری کے صاحبزادے رشید الدین (م : ۶۴۳) کا انتقال ہوگیا، جو ان کو بہت محبوب تھے ، تو اپنے جواں مرد بیٹے کی نماز جنازہ خود پڑھائی ، مدرسہ کے دروازہ تک جنازہ کے ساتھ خود چلے اور وہاں سے اللہ کے حوالہ کرکے اپنے معمولات میں مشغول ہوگئے ، امام نوویؒ جیسے محدث اور صاحب علم سے کون ناواقف ہوگا، راستہ چلتے ہوئے بھی علمی مذاکرہ میں اپنا وقت گذارتے ، اس کا نتیجہ ہے کہ صرف ۴۵؍ سال کی عمر پائی ؛ لیکن ہزار ہا ہزار صفحات ان کے قلم سے آج بھی محفوظ ہیں، جو اہل علم کے لئے حرز جاں ہیں ۔

ابن نفیس میڈیکل سائنس کی یادگار شخصیتوں میں ہیں ، جسم میں دوران خون کا نظام سب سے پہلے آپ ہی نے دریافت کیا ، طب میں آپ کی کتاب '' الشامل '' تقریباً ۳۰؍ جلدوں میں ہے ، شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کاحال یہ تھا کہ سفر و حضر اور صحت و بیماری کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہونے دیتے ، ان کے شاگرد ابن قیم نے ان کی تصنیفات کی تعداد پر جو رسالہ لکھا ہے وہ خود ۲۲؍ صفحات کا ہے ، اخیر دور کے اہل علم میں علامہ شوکانی کا حال یہ تھا کہ روزانہ دس اسباق پڑھاتے ، فتاویٰ بھی لکھتے ، فریضۂ قضاء بھی انجام دیتے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک سو چودہ اہم تصنیفات آپ کی یادگار ہیں ، علامہ شہاب الدین آلوسی (۱۲۱۷ - ۱۲۷۰ھ) کا حال یہ تھا کہ روزانہ چوبیس اسباق پڑھاتے ، افتاء کا کام بھی کرتے اور اس کے ساتھ انھوں نے روح المعانی کے نام سے ایسی عظیم الشان اور مبسوط تفسیر لکھی ہے کہ جس کی پورے عالم اسلام نے داد دی ہے ۔

ہندوستان کے علماء میں مولانا عبد الحی فرنگی محلی نے صرف ۳۹؍ سال کی عمر پائی ؛ لیکن ان کی تصانیف ۱۱۰؍ سے بھی زیادہ ہیں اور ہر کتاب گویا اپنے موضوع پر حرف آخر ہے ، مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتابوں اور رسائل کی تعداد ہزار کے قریب ہے ، مولانا عبدالحی حسنی کی ''الثقافۃ الاسلامیہ فی الہند'' مولانا حبیب الرحمان شیروانی کی ' 'علماء سلف ' 'اور مشہور محقق شیخ عبدالفتاح ابو غدہؒکی نہایت اہم اور فاضلانہ تصنیف '' قیمۃ الزمن عند العلماء'' میں سلف صالحین کے ایسے کتنے ہی واقعات ملتے ہیں ۔

ظاہر ہے کہ یہ سب وقت کی قدر جاننے اور اس کی قیمت پہچاننے کا نتیجہ ہے ، جو لوگ وقت کوسستی اور بے قیمت شیٔ سمجھتے ہیں اور اس کی قدر دانی نہیں کرتے ، وہ زندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کرسکتے ، اسلام نے وقت کی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے تمام عبادات کو وقت سے جوڑ رکھا ہے ، نمازوں کے اوقات مقرر ہیں ، روزہ متعین وقت سے شروع ہوتا ہے اور متعین وقت پر ختم ہوتا ہے ، حج کے افعال بھی متعین ایام و اوقات میں انجام دیئے جاتے ہیں ، قربانی بھی متعین دنوں میں ہوتی ہے ، زکوٰۃ میں بھی مال پر ایک سال گذرنے کا وقت مقرر کیا گیا ہے اورشریعت میں کتنے ہی احکام ہیں، جو وقت سے مربوط ہیں ؛ لیکن افسوس کہ یہ اُمت اپنے وقت کو جس قدر ضائع کرتی ہے اور اس کو جتنا بے قیمت سمجھتی ہے ، شاید ہی اس کی کوئی مثال مل سکے ، مسلمان نوجوانوں کی یارباشی ، ہوٹل بازی اور بے مقصد سیر و تفریح ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے ؛ بلکہ ضرب المثل بنتی جا رہی ہے ، شادی بیاہ وغیرہ کی تقریبات میں جس بے دردی اور بے رحمی کے ساتھ اوقات ضائع کئے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ دینی جلسوں اور اجتماعات میں بھی اوقات کی پابندی کے معاملہ میں جوبے احتیاطی روا رکھی جاتی ہے ، وہ کس قدر افسوس ناک ہے !

*-*-*

مولانا ابن الحسن عباسی رحمۃ اللہ علیہ کی نئے سال کی آمد کے موقع پر لکھی گئی ایک تحریر، قندِ مکرر کے طور پر پیشِ خدمت ہے:

عمرفانی کا ایک اور سال گھٹ گیا

فانی زندگی کا ایک اور یخ بستہ دسمبر گزر گیا، سلسلہ روز و شب کا ایک اور برس بیت گیا، زندگی کی چالیس سے زیادہ بہاریں دیکھنے والا مسافر مڑ کر نظر دوڑاتا ہے تو بچپن کی شرارتوں، لڑکپن کی شوخیوں اور جوانی کی شادمانیوں اور ناکامیوں کی ایک فلم ذہن و دماغ میں چلنے لگتی ہے، جس میں وہ سب کچھ گردش کر رہا ہوتا ہے جو انسان کی بے ثبات زندگی کا ازل سے حصہ ہے: 

   کہیں اجڑی اجڑی سی منزلیں، کہیں ٹوٹے پھوٹے سےبام و در۔۔۔کہیں سرد موسموں کی ٹھنڈی ہوائیں،کہیں زرد پتوں کے اداس شجر۔۔۔کہیں رکتے قافلے ہم سفر۔۔۔کہیں چلتے مسافر خاک بسر۔۔۔کوئی پہاڑوں میں، کوئی بیابانوں میں، کوئی شہروں میں نہ جانے کون دیار زیست میں کہاں کہاں بچھڑ گیا۔۔۔۔۔کہیں خوشیوں کی رونقیں، کہیں غموں کی مجلسیں۔۔۔۔کبھی حسرتوں کے ہجوم کے ساتھ،کبھی آرزؤں کے نجوم کے ساتھ،کبھی تمناؤں کے خون کے ساتھ۔۔۔۔۔کبھی وصال یار کا زیرو بم، کبھی ہجر و فراق کا نالہ غم: اے وائے دلم، وائے دلم، وائے دلم۔۔۔۔۔کبھی صبح زندگی، کبھی شام زندگی، کبھی تپتی ساعتوں والی آلام زندگی، بس پلک جھپکنے میں تمام زندگی: عبرت نشان، زندگی۔۔۔۔!!

اس چند روزہ حیاتِ مستعار کا سب سے حسین تحفہ،حسنِ خاتمہ ہے ،جس کے لیے زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نکلی ہوئی یہ دعا کتنی خوبصورت دعا ہے، اسے اپنی معمول کی دعاؤں میں شامل کرلینا چاہیے:

   اللهمّ أحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الأُمُورِ كُلِّهَا، وَأجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الآخِرَةِ

(اے اللہ!تمام امور میں ہماری عاقبت کو سنوار دیں اور دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے ہمیں نجات عطا فرمادیں)

*-*-*

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزاخیر آتا فرمائے آمین اور تمام مسلمانوں کو گناہوں سے توبہ کر نے کی اور نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین امین

    جواب دیںحذف کریں